
جاوید قسی
دیکھ کر ہوتا ہے تازہ انقلاب
آج بھی تم ہو سراپا انقلاب
راہ میں کوتاہیاں آنے نہ دو
رہ نہ جائے پھر ادھورا انقلاب
سب کا مقصد ہے حصولِ خودسری
کیا ہمارا کیا تمہارا انقلاب
شہر کے ظلمت کدے میں آج بھی
پھر رہا ہے مارا مارا انقلاب
سوئے ہو تم بیخودی کی نیند میں
راہ تکتا ہے بچارہ انقلا
اب تو پانی سر سے اوپر ہو گیا
لائیے اب تو خدارا انقلاب
ہو گیا ناکام اب کے بھی اگر
آئیگا پھر سے دوبارہ انقلاب


