
ساحلؔ عرفان شفیع
گلاس باغ کھاگ بڈگام
غضب ہوا وہ غفلت کا غلام ہوگیا
غم ہوا کہ غارت میرا کلام ہوگیا
غلط فہمی کے سبب غلط فیصلہ ہوا
غافل کے ہاتھ بے وقعت نیلام ہوگیا
کہاں اپنے قول کی لاج رکھتے ہیں لوگ
وعدہ گو یا ان کے سر الزام ہوگیا
غضب ہے غصیل کی گل بھری ادا
غلو! انکا غصہ اب بے لگام ہوگیا
غائب ہوا غواص کی نظروں سے صد افسوس
جس موتی کی تلاش میں وہ گمنام ہوگیا
ساحلؔ ہم سے نہ پوچھ وقت کی بے رخی
غضب نا ک ہر لمحہ اب آلام ہوگیا


