گولڈن ہارویسٹ (Golden Harvest): ایک جائزہ

 

 

 

عبدالرشید خان

چھانہ پورہ، سرینگر

گولڈن ہارویسٹ (Golden Harvest) مرحوم سید ذیشان فاضل کی خودنوشت سوانحِ حیات ہے۔ انگریزی میں لکھی گئی اس کتاب کو دس ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سوانح نگار نے غیر روایتی انداز میں وادیٔ کشمیر، خصوصاً شہر سرینگر کی قدرتی خوبصورتی، اس کے شب و روز اور اپنی جائے پیدائش، یعنی ڈب تل زینہ کدل کے گرد و پیش واقع تاریخی، مذہبی، اقتصادی اور ثقافتی مراکز کا ذکر نہایت مؤثر انداز میں کیا ہے۔ اپنے والد مرحوم فاضل کشمیری کے ساتھ ان کی ملازمت کے دوران وادی کے جن دور دراز علاقوں، مثلاً لولاب، ڈنگی وچھ، دیالگام اور خان صاحب، بڈگام وغیرہ کا سفر کیا، وہاں کی قدرتی خوبصورتی، رسم و رواج اور اہم شخصیات کا ذکر بھی کیا ہے۔ اپنی پیدائش سے لے کر تعلیم، ملازمت اور ادبی سفر کی شروعات تک کے حالات کتاب کے پہلے باب میں شامل کیے گئے ہیں۔
کتاب کے دوسرے اور تیسرے باب میں سوانح نگار نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کو سرینگر سے جالندھر اور جالندھر سے سرینگر کے درمیان بیان کیا ہے۔ جالندھر دوردرشن کیندر میں فاضل مصنف نے مشکلات کے باوجود قابلِ تحسین کام انجام دیا اور اس وقت کے مشہور ڈرامے ’’شیشے کی دیوار‘‘ کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ اس ڈرامے کو نہ صرف پنجاب بلکہ پورے ملک کے ٹیلی ویژن شائقین نے بہت پسند کیا تھا اور آج بھی لوگ اسے یاد کرتے ہیں۔
صاحبِ کتاب کو پوری زندگی سیاست سے دور کا بھی واسطہ نہیں رہا۔ وہ اپنے والد مرحوم کی طرح ہمیشہ سیاست اور سیاست دانوں سے دور رہے۔ گھر کی چار دیواری کے باہر کیا کچھ ہو رہا ہے، اس کی خبر لینے کے لئے انہوں نے کبھی کھڑکی سے باہر جھانکنے کی کوشش نہیں کی۔ ہر وقت اپنے کام سے کام رکھا اور پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بڑی سنجیدگی کے ساتھ نبھاتے رہے۔ لیکن گزشتہ بیس پچیس برس کے دوران وادی میں جو حالات رہے، انہوں نے فاضل مصنف کو متاثر کیے بغیر نہیں چھوڑا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’ہر طرف دھماکوں اور گولیوں کی آوازیں تھیں۔ کشمیری لوگوں کی زندگی اجیرن بن گئی تھی۔ بہت سارے لوگوں کی طرح مجھے بھی بال بچوں سمیت اپنا گھر چھوڑ کر جانا پڑا، جو سب سے زیادہ کرب ناک لمحہ تھا۔‘‘
اپنی زندگی کے سفر کو آگے بڑھاتے ہوئے مصنف کبھی کیرالہ، کبھی ممبئی اور کبھی دہلی کے سی پی سی، اور کبھی واپس سرینگر پہنچ جاتے ہیں۔ مہاراشٹر میں اردو نیوز بلیٹن ٹیلی کاسٹ کرنے پر ایک بڑے نیتا کی دشمنی مول لیتے ہیں اور اعلیٰ حکام کے کہنے پر دہلی چلے آتے ہیں۔ وہ جہاں بھی رہے، وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ وہاں کی سماجی زندگی اور لوگوں کے ساتھ گھل مل جاتے تھے۔ جہاں جاتے ہیں، پڑھنے والے کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں اور اس جگہ کی خوب سیر کراتے ہیں۔ اس جگہ کی تاریخ اور جغرافیے کے ساتھ ساتھ وہاں کے سماجی، اقتصادی، تہذیبی اور ثقافتی حالات کو اس طرح بیان کرتے ہیں گویا پڑھنے والا خود وہاں پہنچ گیا ہو۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس جگہ کی تصویروں کو کتاب میں اس انداز سے شامل کیا گیا ہے گویا الفاظ نہیں بلکہ تصویریں بول رہی ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ پڑھنے والا ان کے دوش بدوش چل رہا ہے۔ خوبصورت تصاویر میں انسان اس قدر محو ہو جاتا ہے کہ گویا کتاب نہیں بلکہ فوٹو فائل دیکھ رہا ہو۔
اس کتاب میں سوانح نگار نے بچپن سے لے کر ملازمت سے سبک دوش ہونے تک اپنی زندگی سے متعلق کئی اہم، تلخ اور شیریں باتوں کو بیان کیا ہے۔ اس دوران جن لوگوں سے ان کا واسطہ پڑا، ان کا ذکر نہایت خلوص اور احترام کے ساتھ کیا ہے۔ وہ کسی کو نہیں بھولے، یہاں تک کہ دشمنوں کو بھی نہیں۔ ان لوگوں کے چہروں سے پردہ اٹھانے کی ذرا سی کوشش ضرور کی ہے جو وقتاً فوقتاً ان کے خلاف سازشیں رچاتے رہے اور انہیں تکلیف پہنچاتے رہے، لیکن یہاں بھی اپنی وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے کسی پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش نہیں کی، جو اکثر لوگوں کا معمول رہا ہے۔
زیرِ تبصرہ کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ فاضل مصنف نے کبھی سیاسی یا سفارشی بیساکھیوں کا سہارا نہیں لیا۔ وہ اپنے پیروں پر کھڑے رہے۔ سیاست اور سیاست دانوں سے دور رہتے ہوئے انہوں نے اپنی محنت، لگن، ایمانداری اور خلوص سے میڈیا میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ لاکھ مشکلات کے باوجود اپنے کام میں جٹے رہے۔ جہاں کہیں تبادلہ ہوا، راضی خوشی چلے گئے اور خوش اسلوبی سے اپنے فرائض منصبی نبھاتے رہے۔
یہ کتاب پڑھ کر ملازمت سے وابستہ ان لوگوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے جو چھوٹے سے تبادلے کے لئے اپنی عزتِ نفس کو داؤ پر لگا کر بڑی سے بڑی سفارش کرواتے ہیں اور عمر بھر اس سفارشی کے مرہونِ منت رہتے ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب میں مصنف نے باتوں باتوں میں ٹیلی ویژن، جس کے ساتھ انہیں عشق کی حد تک وابستگی تھی، اور اس پیشے سے متعلق بہت سی کارآمد باتیں بیان کی ہیں، جن سے اس شعبے سے وابستہ لوگوں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے میڈیا سے متعلق کچھ ایسے حقائق بھی بیان کیے ہیں جن سے پڑھنے والے دل برداشتہ ہو جاتے ہیں۔ قابلیت اور معیار کو بالائے طاق رکھ کر کس طرح منظورِ نظر نااہل لوگوں کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جاتا ہے اور دوسروں کے حقوق پر شب خون مارا جاتا ہے، سیاست اور سفارش کو زینہ بنا کر ترقی کی سیڑھیاں چڑھی جاتی ہیں، یہ سب کچھ اس کتاب میں پڑھنے کو ملتا ہے۔
سوانح نگاری ایک فن ہے۔ یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ اپنے بارے میں بات کرنا تلوار کی دھار پر چلنے کے مترادف ہے۔ یہاں قدم قدم پر پھسلنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ بدقسمتی سے اکثر لوگ سید ذیشان فاضل کو زندگی میں سمجھ نہ پائے۔ وہ جس قدر باہر سے سخت مزاج اور موڈی (moody) لگتے تھے، اس سے کہیں زیادہ اندر سے نرم دل، سادہ اور دلچسپ شخصیت کے مالک تھے۔ اگرچہ زیرِ تبصرہ کتاب میں ان کی زندگی اور شخصیت کے اکثر گوشوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے، تاہم کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ مصنف نے اپنے والد مرحوم کا بھی بھرپور اور برمحل ذکر کیا ہے۔
کتاب کے آخری مضمون میں مصنف نے اپنی ملازمت کے آخری چھ ماہ کا ذکر کیا ہے، جو انہوں نے ٹیلی ویژن رانچی (جھارکھنڈ) میں بطور ڈائریکٹر گزارے۔ ان ایام کو انہوں نے اپنی زندگی کے بہترین لمحات قرار دیتے ہوئے اپنا ’’گولڈن ہارویسٹ‘‘ (Golden Harvest) کہا ہے۔
جہاں تک اس کتاب کی طباعت، بناوٹ اور دیگر تکنیکی خصوصیات کا تعلق ہے، یہ ایک خوبصورت کتاب ہے۔ جدید تکنیکی معیارات کے تحت شائع کی گئی یہ کتاب دیدہ زیب اور دلکش ہے۔ کتاب کے پہلے اور آخری صفحے پر سوانح نگار کی خوبصورت تصاویر موجود ہیں۔ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ کتاب میڈیا سے وابستہ لوگوں کے لئے سودمند ثابت ہوگی۔ یہ کتاب پہلی بار فاضل میموریل ٹرسٹ کی جانب سے 2013ء میں شائع ہوئی تھی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

گولڈن ہارویسٹ (Golden Harvest): ایک جائزہ

 

 

 

عبدالرشید خان

چھانہ پورہ، سرینگر

گولڈن ہارویسٹ (Golden Harvest) مرحوم سید ذیشان فاضل کی خودنوشت سوانحِ حیات ہے۔ انگریزی میں لکھی گئی اس کتاب کو دس ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سوانح نگار نے غیر روایتی انداز میں وادیٔ کشمیر، خصوصاً شہر سرینگر کی قدرتی خوبصورتی، اس کے شب و روز اور اپنی جائے پیدائش، یعنی ڈب تل زینہ کدل کے گرد و پیش واقع تاریخی، مذہبی، اقتصادی اور ثقافتی مراکز کا ذکر نہایت مؤثر انداز میں کیا ہے۔ اپنے والد مرحوم فاضل کشمیری کے ساتھ ان کی ملازمت کے دوران وادی کے جن دور دراز علاقوں، مثلاً لولاب، ڈنگی وچھ، دیالگام اور خان صاحب، بڈگام وغیرہ کا سفر کیا، وہاں کی قدرتی خوبصورتی، رسم و رواج اور اہم شخصیات کا ذکر بھی کیا ہے۔ اپنی پیدائش سے لے کر تعلیم، ملازمت اور ادبی سفر کی شروعات تک کے حالات کتاب کے پہلے باب میں شامل کیے گئے ہیں۔
کتاب کے دوسرے اور تیسرے باب میں سوانح نگار نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کو سرینگر سے جالندھر اور جالندھر سے سرینگر کے درمیان بیان کیا ہے۔ جالندھر دوردرشن کیندر میں فاضل مصنف نے مشکلات کے باوجود قابلِ تحسین کام انجام دیا اور اس وقت کے مشہور ڈرامے ’’شیشے کی دیوار‘‘ کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ اس ڈرامے کو نہ صرف پنجاب بلکہ پورے ملک کے ٹیلی ویژن شائقین نے بہت پسند کیا تھا اور آج بھی لوگ اسے یاد کرتے ہیں۔
صاحبِ کتاب کو پوری زندگی سیاست سے دور کا بھی واسطہ نہیں رہا۔ وہ اپنے والد مرحوم کی طرح ہمیشہ سیاست اور سیاست دانوں سے دور رہے۔ گھر کی چار دیواری کے باہر کیا کچھ ہو رہا ہے، اس کی خبر لینے کے لئے انہوں نے کبھی کھڑکی سے باہر جھانکنے کی کوشش نہیں کی۔ ہر وقت اپنے کام سے کام رکھا اور پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بڑی سنجیدگی کے ساتھ نبھاتے رہے۔ لیکن گزشتہ بیس پچیس برس کے دوران وادی میں جو حالات رہے، انہوں نے فاضل مصنف کو متاثر کیے بغیر نہیں چھوڑا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’ہر طرف دھماکوں اور گولیوں کی آوازیں تھیں۔ کشمیری لوگوں کی زندگی اجیرن بن گئی تھی۔ بہت سارے لوگوں کی طرح مجھے بھی بال بچوں سمیت اپنا گھر چھوڑ کر جانا پڑا، جو سب سے زیادہ کرب ناک لمحہ تھا۔‘‘
اپنی زندگی کے سفر کو آگے بڑھاتے ہوئے مصنف کبھی کیرالہ، کبھی ممبئی اور کبھی دہلی کے سی پی سی، اور کبھی واپس سرینگر پہنچ جاتے ہیں۔ مہاراشٹر میں اردو نیوز بلیٹن ٹیلی کاسٹ کرنے پر ایک بڑے نیتا کی دشمنی مول لیتے ہیں اور اعلیٰ حکام کے کہنے پر دہلی چلے آتے ہیں۔ وہ جہاں بھی رہے، وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ وہاں کی سماجی زندگی اور لوگوں کے ساتھ گھل مل جاتے تھے۔ جہاں جاتے ہیں، پڑھنے والے کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں اور اس جگہ کی خوب سیر کراتے ہیں۔ اس جگہ کی تاریخ اور جغرافیے کے ساتھ ساتھ وہاں کے سماجی، اقتصادی، تہذیبی اور ثقافتی حالات کو اس طرح بیان کرتے ہیں گویا پڑھنے والا خود وہاں پہنچ گیا ہو۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس جگہ کی تصویروں کو کتاب میں اس انداز سے شامل کیا گیا ہے گویا الفاظ نہیں بلکہ تصویریں بول رہی ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ پڑھنے والا ان کے دوش بدوش چل رہا ہے۔ خوبصورت تصاویر میں انسان اس قدر محو ہو جاتا ہے کہ گویا کتاب نہیں بلکہ فوٹو فائل دیکھ رہا ہو۔
اس کتاب میں سوانح نگار نے بچپن سے لے کر ملازمت سے سبک دوش ہونے تک اپنی زندگی سے متعلق کئی اہم، تلخ اور شیریں باتوں کو بیان کیا ہے۔ اس دوران جن لوگوں سے ان کا واسطہ پڑا، ان کا ذکر نہایت خلوص اور احترام کے ساتھ کیا ہے۔ وہ کسی کو نہیں بھولے، یہاں تک کہ دشمنوں کو بھی نہیں۔ ان لوگوں کے چہروں سے پردہ اٹھانے کی ذرا سی کوشش ضرور کی ہے جو وقتاً فوقتاً ان کے خلاف سازشیں رچاتے رہے اور انہیں تکلیف پہنچاتے رہے، لیکن یہاں بھی اپنی وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے کسی پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش نہیں کی، جو اکثر لوگوں کا معمول رہا ہے۔
زیرِ تبصرہ کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ فاضل مصنف نے کبھی سیاسی یا سفارشی بیساکھیوں کا سہارا نہیں لیا۔ وہ اپنے پیروں پر کھڑے رہے۔ سیاست اور سیاست دانوں سے دور رہتے ہوئے انہوں نے اپنی محنت، لگن، ایمانداری اور خلوص سے میڈیا میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ لاکھ مشکلات کے باوجود اپنے کام میں جٹے رہے۔ جہاں کہیں تبادلہ ہوا، راضی خوشی چلے گئے اور خوش اسلوبی سے اپنے فرائض منصبی نبھاتے رہے۔
یہ کتاب پڑھ کر ملازمت سے وابستہ ان لوگوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے جو چھوٹے سے تبادلے کے لئے اپنی عزتِ نفس کو داؤ پر لگا کر بڑی سے بڑی سفارش کرواتے ہیں اور عمر بھر اس سفارشی کے مرہونِ منت رہتے ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب میں مصنف نے باتوں باتوں میں ٹیلی ویژن، جس کے ساتھ انہیں عشق کی حد تک وابستگی تھی، اور اس پیشے سے متعلق بہت سی کارآمد باتیں بیان کی ہیں، جن سے اس شعبے سے وابستہ لوگوں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے میڈیا سے متعلق کچھ ایسے حقائق بھی بیان کیے ہیں جن سے پڑھنے والے دل برداشتہ ہو جاتے ہیں۔ قابلیت اور معیار کو بالائے طاق رکھ کر کس طرح منظورِ نظر نااہل لوگوں کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جاتا ہے اور دوسروں کے حقوق پر شب خون مارا جاتا ہے، سیاست اور سفارش کو زینہ بنا کر ترقی کی سیڑھیاں چڑھی جاتی ہیں، یہ سب کچھ اس کتاب میں پڑھنے کو ملتا ہے۔
سوانح نگاری ایک فن ہے۔ یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ اپنے بارے میں بات کرنا تلوار کی دھار پر چلنے کے مترادف ہے۔ یہاں قدم قدم پر پھسلنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ بدقسمتی سے اکثر لوگ سید ذیشان فاضل کو زندگی میں سمجھ نہ پائے۔ وہ جس قدر باہر سے سخت مزاج اور موڈی (moody) لگتے تھے، اس سے کہیں زیادہ اندر سے نرم دل، سادہ اور دلچسپ شخصیت کے مالک تھے۔ اگرچہ زیرِ تبصرہ کتاب میں ان کی زندگی اور شخصیت کے اکثر گوشوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے، تاہم کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ مصنف نے اپنے والد مرحوم کا بھی بھرپور اور برمحل ذکر کیا ہے۔
کتاب کے آخری مضمون میں مصنف نے اپنی ملازمت کے آخری چھ ماہ کا ذکر کیا ہے، جو انہوں نے ٹیلی ویژن رانچی (جھارکھنڈ) میں بطور ڈائریکٹر گزارے۔ ان ایام کو انہوں نے اپنی زندگی کے بہترین لمحات قرار دیتے ہوئے اپنا ’’گولڈن ہارویسٹ‘‘ (Golden Harvest) کہا ہے۔
جہاں تک اس کتاب کی طباعت، بناوٹ اور دیگر تکنیکی خصوصیات کا تعلق ہے، یہ ایک خوبصورت کتاب ہے۔ جدید تکنیکی معیارات کے تحت شائع کی گئی یہ کتاب دیدہ زیب اور دلکش ہے۔ کتاب کے پہلے اور آخری صفحے پر سوانح نگار کی خوبصورت تصاویر موجود ہیں۔ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ کتاب میڈیا سے وابستہ لوگوں کے لئے سودمند ثابت ہوگی۔ یہ کتاب پہلی بار فاضل میموریل ٹرسٹ کی جانب سے 2013ء میں شائع ہوئی تھی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں