گھرآنگن کی شاعری

 

انس مسرورؔ انصاری
قومی اُردو تحریک فاؤنڈیشن (انڈیا)

ہندوستان کی مہذب زبانوں کی شاعری کا بیشتر حصہ عورت کے ذکر سے عبارت ہے، لیکن اس میں گھریلو عورت کا حقیقی کردار کم ہی نظر آتا ہے۔ کرشن چندر نے اپنی کتاب ’’گھرآنگن‘‘ میں لکھا ہے کہ شاعر اپنی محبوبہ کو جنگلوں اور صحراؤں میں تلاش کرتا ہے، مگر وہاں نہیں ڈھونڈتا جہاں وہ حقیقتاً موجود ہوتی ہے، یعنی اپنے گھر میں۔ مزاحیہ شاعری میں گھر کی عورت اکثر ہدفِ ملامت بنتی ہے، رزمیہ شاعری میں وہ بے بس بیوہ یا مجبور عورت کے روپ میں نظر آتی ہے، جب کہ فلسفیانہ شاعری میں اس کے روزمرہ مسائل کو عموماً نظرانداز کیا جاتا ہے۔
یہ تبصرہ حقیقت پر مبنی ہے۔ دنیا کی قدیم و جدید زبانوں کی شاعری میں عورت کے مختلف روپ تو ملتے ہیں، لیکن ایک وفاشعار بیوی، جو گھر سنبھالتی ہے، کھانا تیار کرتی ہے، بچوں کو اسکول بھیجتی ہے، شوہر کی ضروریات کا خیال رکھتی ہے اور دیر سے گھر لوٹنے پر اس کا انتظار کرتی ہے، شاذ ہی موضوعِ سخن بنتی ہے۔
اردو شاعری میں عورت کبھی آسمان کی حور اور قابلِ پرستش مخلوق بن جاتی ہے، تو کبھی قاتل، بے رحم اور ستم گر حسینہ کے روپ میں پیش کی جاتی ہے۔ اس کے حسن، عشوہ و ادا اور ناز و نیاز کا ذکر تو ملتا ہے، لیکن اس کے تقدس، پاکیزگی، وفاداری اور جذبات و احساسات کی عکاسی کم دکھائی دیتی ہے۔ گویا شاعروں نے عورت کو اکثر محبوبہ کے روپ میں دیکھا، مگر اسے وفاشعار بیوی بننے کا حق نہیں دیا۔
اردو شاعری میں اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش فراقؔ گورکھپوری، ندا فاضلی اور احمد ندیم قاسمی نے بھی کی۔ قاسمی نے اپنی شاعری میں محبوبہ کو ایک گھریلو پس منظر عطا کیا، لیکن جاں نثار اخترؔ نے اس موضوع کو جس جامع انداز میں پیش کیا، وہ اردو شاعری میں ایک اہم اضافہ ہے۔
اقبالؔ نے کہا تھا:
’’وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ۔‘‘
اس کے باوجود ان کی شاعری میں عورت کا گھریلو کردار نمایاں نہیں۔ اردو شاعری میں اس کمی کو جاں نثار اخترؔ (۱۹۱۴ء۔۱۹۷۴ء) نے اپنی رباعیات کے مجموعے ’’گھرآنگن‘‘ میں پورا کرنے کی کوشش کی۔ ان کی شاعری میں پہلی بار گھریلو عورت کو اس کی حقیقی زندگی، جذبات، محبت، وفاداری اور روزمرہ ذمہ داریوں کے ساتھ نمایاں طور پر پیش کیا گیا۔
اخترؔ نے شاعری کی شوخ و چنچل محبوبہ کو سہاگن کا روپ دیا اور اسے زندگی کی شریکِ سفر بنا کر اس کے دکھ سکھ میں شریک ہوئے۔ ان کے ہاں عورت کوئی ماورائی مخلوق نہیں، بلکہ ایک حساس انسان ہے، جو شوہر کے آرام کا خیال رکھتی ہے، اس کی پریشانیوں میں شریک ہوتی ہے اور اپنی محبت کا اظہار چھوٹی چھوٹی باتوں سے کرتی ہے۔
وہ لکھتے ہیں:
کپڑوں کو سمیٹے ہوئے اٹھی ہے مگر ڈرتی ہے کہیں اُن کو نہ ہو جائے خبر تھک کر ابھی سوئے ہیں کہیں جاگ نہ جائیں دھیرے سے اڑھا رہی ہے اُن کو چادر
ان اشعار میں ایک ایسی بیوی کی تصویر ابھرتی ہے جو شوہر کی نیند خراب ہونے کے خوف سے اپنے قدموں اور کپڑوں کی سرسراہٹ تک کو روک لیتی ہے۔ اس کی محبت کسی بڑے دعوے کی محتاج نہیں، بلکہ اس کے خاموش عمل میں نمایاں ہوتی ہے۔
عورت کے اندر رشک، حسد اور رقابت کے جذبات بھی ہوتے ہیں۔ وہ اپنے شوہر سے بے پناہ محبت کرتی ہے اور اسے کسی دوسرے کی توجہ کا مرکز بنتے دیکھنا پسند نہیں کرتی۔ جاں نثار اخترؔ نے اس کیفیت کو بھی خوبصورتی سے بیان کیا ہے:
بھولے سے بھی کھڑکیوں کے پردے نہ ہٹائے ڈرتی ہے کسی وقت کوئی شوخ کرن چپکے سے نہ اُن کے پاس آ کر سو جائے
گھریلو زندگی میں عورت کی محنت بھی مرد کی محنت سے کم نہیں۔ وہ گھر کی صفائی، کھانا پکانے، کپڑے سنبھالنے اور بچوں کی پرورش میں مصروف رہتی ہے۔ اخترؔ نے اس کی اسی محنت کو شاعری کا حصہ بنایا ہے:
گاتی ہوئی ہاتھوں میں یہ سنگر کی مشین قطروں سے پسینے کے شرابور جبین مصروف کسی کام میں دیکھوں جو تجھے تو اور بھی مجھ کو نظر آتی ہے حسین
یہاں عورت کی خوبصورتی اس کے ظاہری حسن میں نہیں، بلکہ اس کی محنت، لگن اور خلوص میں بھی نظر آتی ہے۔
اخترؔ کی شاعری میں شوہر کے قدموں کی آہٹ بھی بیوی کے دل میں خوشی کی لہر دوڑا دیتی ہے۔ وہ اپنے کام میں مصروف ہونے کے باوجود اپنے ہم سفر کے استقبال کے لئے بے قرار ہو جاتی ہے:
آہٹ مرے قدموں کی جو سن پائی ہے بجلی سی تن بدن میں لہرائی ہے دوڑی ہے ہر اک بات کی سدھ بسرا کے روٹی، جلتی، توے پر چھوڑ آئی ہے
اسی طرح شوہر کی دیر سے گھر واپسی پر بیوی کے انتظار اور بے قراری کو بھی نہایت سادگی سے بیان کیا گیا ہے:
ہر ایک گھڑی شاق گزرتی ہوگی سو طرح کے وہم کرکے مرتی ہوگی گھر جانے کی جلدی تو نہیں مجھ کو مگر وہ چائے پہ انتظار کرتی ہوگی
ان اشعار میں گھر کی عورت اپنے تمام جذبات اور ذمہ داریوں کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ وہ محبت کرتی ہے، شکایت کرتی ہے، روٹھتی ہے اور مناتی بھی ہے۔ اس کی زندگی میں خوشی اور غم دونوں ہیں، اور یہی چیز اسے ایک حقیقی انسان بناتی ہے۔
جاں نثار اخترؔ کی رباعیات میں ہندوستانی تہذیب و تمدن اور گھریلو زندگی کے نشیب و فراز کی خوبصورت عکاسی ملتی ہے۔ ان کے اسلوب میں سادگی، سلاست اور ترنم ہے۔ ڈاکٹر زیبا محمود کے مطابق، اخترؔ کی شاعری میں رومان، سماجی شعور، خلوص اور زندگی کی صداقتیں یکجا ہو جاتی ہیں۔ ان کی شاعری محض جذبات کا اظہار نہیں، بلکہ انسانی زندگی کے تجربات کی ترجمان بھی ہے۔
اخترؔ کا شعری انداز نرم ہونے کے باوجود توانا ہے۔ ترقی پسند شاعر ہونے کے باوجود ان کی شاعری میں غیرضروری گھن گرج نہیں، بلکہ ایک پُرسکون اور گہرا اثر پایا جاتا ہے۔ وہ محبت اور انقلاب دونوں موضوعات کو فطری انداز میں پیش کرتے ہیں۔
ان کی زندگی میں بھی محبت اور رفاقت کو اہم مقام حاصل رہا۔ صفیہ باجی، جو مجازؔ کی بہن تھیں، ان کی شریکِ حیات بنیں اور ان کے حوصلے کو تقویت دیتی رہیں۔ ان کی وفات کے بعد خدیجہ آپا ان کی زندگی میں شریکِ سفر بنیں۔ ان ذاتی تجربات نے بھی ان کی شاعری میں محبت اور گھریلو زندگی کے احساسات کو گہرائی عطا کی۔
اخترؔ کی رباعیات میں عورت کی مختلف تہذیبی اور جذباتی صورتیں بھی سامنے آتی ہیں:
یہ تیرا سبھاؤ، یہ سلیقہ، یہ سروپ لہجے کی یہ چھاؤں، گرم جذبوں کی یہ دھوپ سیتا بھی، شکنتلا بھی، رادھا بھی تو یگ یگ سے بدلتی آئی ہے تو روپ
ان اشعار میں عورت کو ہندوستانی تہذیب کے مختلف کرداروں اور روایات کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔
درج بالا رباعیات کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ جاں نثار اخترؔ نے اردو شاعری میں عورت کو اس کے حقیقی اور فطری روپ میں پیش کرنے کی اہم کوشش کی۔ سردارؔ جعفری، ساحرؔ لدھیانوی اور اخترؔ الایمان جیسے بلند آہنگ شاعروں کے درمیان رہتے ہوئے بھی انہوں نے اپنی شاعری کو غیرضروری گھن گرج سے محفوظ رکھا۔ ان کی شاعری چاندنی کی ٹھنڈک اور سمندر کے سکون کی طرح دل پر اثر کرتی ہے۔
بلاشبہ جاں نثار اخترؔ کی ’’گھرآنگن‘‘ کی شاعری اردو ادب میں اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس نے عورت کو محض محبوبہ کے روایتی تصور سے نکال کر ایک حقیقی شریکِ حیات، ماں اور گھریلو زندگی کی اہم کردار کے طور پر پیش کیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

لولا نے چوتھی بار برازیل کے صدارتی انتخابات میں میدان مار لیا

جنگ نیوز برازیل کے صدارتی انتخابات میں لوئز اناسیو لولا...

تازہ ترین خبریں

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

لولا نے چوتھی بار برازیل کے صدارتی انتخابات میں میدان مار لیا

جنگ نیوز برازیل کے صدارتی انتخابات میں لوئز اناسیو لولا...

گھرآنگن کی شاعری

 

انس مسرورؔ انصاری
قومی اُردو تحریک فاؤنڈیشن (انڈیا)

ہندوستان کی مہذب زبانوں کی شاعری کا بیشتر حصہ عورت کے ذکر سے عبارت ہے، لیکن اس میں گھریلو عورت کا حقیقی کردار کم ہی نظر آتا ہے۔ کرشن چندر نے اپنی کتاب ’’گھرآنگن‘‘ میں لکھا ہے کہ شاعر اپنی محبوبہ کو جنگلوں اور صحراؤں میں تلاش کرتا ہے، مگر وہاں نہیں ڈھونڈتا جہاں وہ حقیقتاً موجود ہوتی ہے، یعنی اپنے گھر میں۔ مزاحیہ شاعری میں گھر کی عورت اکثر ہدفِ ملامت بنتی ہے، رزمیہ شاعری میں وہ بے بس بیوہ یا مجبور عورت کے روپ میں نظر آتی ہے، جب کہ فلسفیانہ شاعری میں اس کے روزمرہ مسائل کو عموماً نظرانداز کیا جاتا ہے۔
یہ تبصرہ حقیقت پر مبنی ہے۔ دنیا کی قدیم و جدید زبانوں کی شاعری میں عورت کے مختلف روپ تو ملتے ہیں، لیکن ایک وفاشعار بیوی، جو گھر سنبھالتی ہے، کھانا تیار کرتی ہے، بچوں کو اسکول بھیجتی ہے، شوہر کی ضروریات کا خیال رکھتی ہے اور دیر سے گھر لوٹنے پر اس کا انتظار کرتی ہے، شاذ ہی موضوعِ سخن بنتی ہے۔
اردو شاعری میں عورت کبھی آسمان کی حور اور قابلِ پرستش مخلوق بن جاتی ہے، تو کبھی قاتل، بے رحم اور ستم گر حسینہ کے روپ میں پیش کی جاتی ہے۔ اس کے حسن، عشوہ و ادا اور ناز و نیاز کا ذکر تو ملتا ہے، لیکن اس کے تقدس، پاکیزگی، وفاداری اور جذبات و احساسات کی عکاسی کم دکھائی دیتی ہے۔ گویا شاعروں نے عورت کو اکثر محبوبہ کے روپ میں دیکھا، مگر اسے وفاشعار بیوی بننے کا حق نہیں دیا۔
اردو شاعری میں اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش فراقؔ گورکھپوری، ندا فاضلی اور احمد ندیم قاسمی نے بھی کی۔ قاسمی نے اپنی شاعری میں محبوبہ کو ایک گھریلو پس منظر عطا کیا، لیکن جاں نثار اخترؔ نے اس موضوع کو جس جامع انداز میں پیش کیا، وہ اردو شاعری میں ایک اہم اضافہ ہے۔
اقبالؔ نے کہا تھا:
’’وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ۔‘‘
اس کے باوجود ان کی شاعری میں عورت کا گھریلو کردار نمایاں نہیں۔ اردو شاعری میں اس کمی کو جاں نثار اخترؔ (۱۹۱۴ء۔۱۹۷۴ء) نے اپنی رباعیات کے مجموعے ’’گھرآنگن‘‘ میں پورا کرنے کی کوشش کی۔ ان کی شاعری میں پہلی بار گھریلو عورت کو اس کی حقیقی زندگی، جذبات، محبت، وفاداری اور روزمرہ ذمہ داریوں کے ساتھ نمایاں طور پر پیش کیا گیا۔
اخترؔ نے شاعری کی شوخ و چنچل محبوبہ کو سہاگن کا روپ دیا اور اسے زندگی کی شریکِ سفر بنا کر اس کے دکھ سکھ میں شریک ہوئے۔ ان کے ہاں عورت کوئی ماورائی مخلوق نہیں، بلکہ ایک حساس انسان ہے، جو شوہر کے آرام کا خیال رکھتی ہے، اس کی پریشانیوں میں شریک ہوتی ہے اور اپنی محبت کا اظہار چھوٹی چھوٹی باتوں سے کرتی ہے۔
وہ لکھتے ہیں:
کپڑوں کو سمیٹے ہوئے اٹھی ہے مگر ڈرتی ہے کہیں اُن کو نہ ہو جائے خبر تھک کر ابھی سوئے ہیں کہیں جاگ نہ جائیں دھیرے سے اڑھا رہی ہے اُن کو چادر
ان اشعار میں ایک ایسی بیوی کی تصویر ابھرتی ہے جو شوہر کی نیند خراب ہونے کے خوف سے اپنے قدموں اور کپڑوں کی سرسراہٹ تک کو روک لیتی ہے۔ اس کی محبت کسی بڑے دعوے کی محتاج نہیں، بلکہ اس کے خاموش عمل میں نمایاں ہوتی ہے۔
عورت کے اندر رشک، حسد اور رقابت کے جذبات بھی ہوتے ہیں۔ وہ اپنے شوہر سے بے پناہ محبت کرتی ہے اور اسے کسی دوسرے کی توجہ کا مرکز بنتے دیکھنا پسند نہیں کرتی۔ جاں نثار اخترؔ نے اس کیفیت کو بھی خوبصورتی سے بیان کیا ہے:
بھولے سے بھی کھڑکیوں کے پردے نہ ہٹائے ڈرتی ہے کسی وقت کوئی شوخ کرن چپکے سے نہ اُن کے پاس آ کر سو جائے
گھریلو زندگی میں عورت کی محنت بھی مرد کی محنت سے کم نہیں۔ وہ گھر کی صفائی، کھانا پکانے، کپڑے سنبھالنے اور بچوں کی پرورش میں مصروف رہتی ہے۔ اخترؔ نے اس کی اسی محنت کو شاعری کا حصہ بنایا ہے:
گاتی ہوئی ہاتھوں میں یہ سنگر کی مشین قطروں سے پسینے کے شرابور جبین مصروف کسی کام میں دیکھوں جو تجھے تو اور بھی مجھ کو نظر آتی ہے حسین
یہاں عورت کی خوبصورتی اس کے ظاہری حسن میں نہیں، بلکہ اس کی محنت، لگن اور خلوص میں بھی نظر آتی ہے۔
اخترؔ کی شاعری میں شوہر کے قدموں کی آہٹ بھی بیوی کے دل میں خوشی کی لہر دوڑا دیتی ہے۔ وہ اپنے کام میں مصروف ہونے کے باوجود اپنے ہم سفر کے استقبال کے لئے بے قرار ہو جاتی ہے:
آہٹ مرے قدموں کی جو سن پائی ہے بجلی سی تن بدن میں لہرائی ہے دوڑی ہے ہر اک بات کی سدھ بسرا کے روٹی، جلتی، توے پر چھوڑ آئی ہے
اسی طرح شوہر کی دیر سے گھر واپسی پر بیوی کے انتظار اور بے قراری کو بھی نہایت سادگی سے بیان کیا گیا ہے:
ہر ایک گھڑی شاق گزرتی ہوگی سو طرح کے وہم کرکے مرتی ہوگی گھر جانے کی جلدی تو نہیں مجھ کو مگر وہ چائے پہ انتظار کرتی ہوگی
ان اشعار میں گھر کی عورت اپنے تمام جذبات اور ذمہ داریوں کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ وہ محبت کرتی ہے، شکایت کرتی ہے، روٹھتی ہے اور مناتی بھی ہے۔ اس کی زندگی میں خوشی اور غم دونوں ہیں، اور یہی چیز اسے ایک حقیقی انسان بناتی ہے۔
جاں نثار اخترؔ کی رباعیات میں ہندوستانی تہذیب و تمدن اور گھریلو زندگی کے نشیب و فراز کی خوبصورت عکاسی ملتی ہے۔ ان کے اسلوب میں سادگی، سلاست اور ترنم ہے۔ ڈاکٹر زیبا محمود کے مطابق، اخترؔ کی شاعری میں رومان، سماجی شعور، خلوص اور زندگی کی صداقتیں یکجا ہو جاتی ہیں۔ ان کی شاعری محض جذبات کا اظہار نہیں، بلکہ انسانی زندگی کے تجربات کی ترجمان بھی ہے۔
اخترؔ کا شعری انداز نرم ہونے کے باوجود توانا ہے۔ ترقی پسند شاعر ہونے کے باوجود ان کی شاعری میں غیرضروری گھن گرج نہیں، بلکہ ایک پُرسکون اور گہرا اثر پایا جاتا ہے۔ وہ محبت اور انقلاب دونوں موضوعات کو فطری انداز میں پیش کرتے ہیں۔
ان کی زندگی میں بھی محبت اور رفاقت کو اہم مقام حاصل رہا۔ صفیہ باجی، جو مجازؔ کی بہن تھیں، ان کی شریکِ حیات بنیں اور ان کے حوصلے کو تقویت دیتی رہیں۔ ان کی وفات کے بعد خدیجہ آپا ان کی زندگی میں شریکِ سفر بنیں۔ ان ذاتی تجربات نے بھی ان کی شاعری میں محبت اور گھریلو زندگی کے احساسات کو گہرائی عطا کی۔
اخترؔ کی رباعیات میں عورت کی مختلف تہذیبی اور جذباتی صورتیں بھی سامنے آتی ہیں:
یہ تیرا سبھاؤ، یہ سلیقہ، یہ سروپ لہجے کی یہ چھاؤں، گرم جذبوں کی یہ دھوپ سیتا بھی، شکنتلا بھی، رادھا بھی تو یگ یگ سے بدلتی آئی ہے تو روپ
ان اشعار میں عورت کو ہندوستانی تہذیب کے مختلف کرداروں اور روایات کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔
درج بالا رباعیات کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ جاں نثار اخترؔ نے اردو شاعری میں عورت کو اس کے حقیقی اور فطری روپ میں پیش کرنے کی اہم کوشش کی۔ سردارؔ جعفری، ساحرؔ لدھیانوی اور اخترؔ الایمان جیسے بلند آہنگ شاعروں کے درمیان رہتے ہوئے بھی انہوں نے اپنی شاعری کو غیرضروری گھن گرج سے محفوظ رکھا۔ ان کی شاعری چاندنی کی ٹھنڈک اور سمندر کے سکون کی طرح دل پر اثر کرتی ہے۔
بلاشبہ جاں نثار اخترؔ کی ’’گھرآنگن‘‘ کی شاعری اردو ادب میں اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس نے عورت کو محض محبوبہ کے روایتی تصور سے نکال کر ایک حقیقی شریکِ حیات، ماں اور گھریلو زندگی کی اہم کردار کے طور پر پیش کیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں