
تبصرہ نگار
عبد الرشید خان
چھانہ پورہ، سرینگر
’’کنجوس پرنسپل‘‘ وادی کے نامور قلم کار ماجد مجید کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ہے۔ 194 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں 50 افسانوں کے علاوہ چار مضامین بھی شامل ہیں۔ یہ افسانے ریاست اور بیرونِ ریاست کے مختلف اخبارات میں شائع ہو کر دادِ تحسین حاصل کر چکے ہیں۔ عام طور پر مصنفین اپنی کتاب کا دیباچہ یا تعارف کسی معروف ادیب سے لکھواتے ہیں، لیکن زیرِ تبصرہ کتاب کا تعارف خود مصنف نے تحریر کیا ہے۔ ان کے مطابق اس مجموعے میں موجودہ سماجی، معاشرتی اور اقتصادی حالات کو افسانوی رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔ انسانی نفسیات، انفرادی و اجتماعی زندگی، ضمیر، کردار اور ماحول سے وابستہ مختلف پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
کتاب کا پہلا افسانہ ’’شبنم‘‘ ہے۔ اس میں ایک خوب صورت دیہاتی لڑکی اعلیٰ تعلیم کے لیے شہر کے ایک تعلیمی ادارے میں داخلہ لیتی ہے، جہاں کئی پروفیسر اس کے حسن سے متاثر ہو کر اسے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ قصہ ادارے میں مشہور ہو جاتا ہے۔ ابتدا میں شبنم خاندانی شرافت اور بدنامی کے خوف سے ان لوگوں سے دور رہتی ہے اور پڑھائی پر توجہ دیتی ہے، لیکن اپنی سہیلی افشاں کی کوششوں سے دانش صاحب کے قریب آنے لگتی ہے۔ تاہم، والدین اور خاندان کا خیال اسے دوبارہ فاصلے اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ افسانہ تعلیمی اداروں میں پیش آنے والے ایسے واقعات کی عکاسی کرتا ہے، جہاں بعض طلبہ، خصوصاً طالبات، تعلیم کے بجائے بدنامی کا سامنا کرنے لگتی ہیں۔
مرحوم رشید احمد صدیقی کا قول ہے کہ عورت کا سب سے بڑا دشمن عورت ہے۔ افسانہ ’’دامن میں داغ‘‘ اسی موضوع کے گرد گھومتا ہے۔ اس میں ایک عورت اپنے مفاد کے لیے دوسری عورت کے خلاف دفتر کے ملازمین کے ذہنوں میں بدگمانی پیدا کرتی ہے اور ایک بے گناہ عورت پر بدکرداری کا الزام لگانے سے بھی گریز نہیں کرتی۔ افسانہ عورتوں کے درمیان حسد اور ضد کی عکاسی کرتا ہے۔
’’باورچی‘‘ اور ’’ملاپ‘‘ بھی اہم افسانے ہیں۔ دونوں میں بچھڑے ہوئے بہن بھائیوں کا غیر ارادی طور پر دوبارہ ملنا مرکزی موضوع ہے۔ ’’باورچی‘‘ میں زبیر، اپنے والد نعیم الدین کے تیل کے کارخانے میں مستری کا کام کرنے جاتا ہے، لیکن اسے اس تعلق کا علم نہیں ہوتا۔ تابندہ میم اسے ایک غلطی پر سزا دینے کے بعد باورچی کا کام کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ بالآخر زبیر، انجم اور تابندہ میم اپنے والدین سے ملتے ہیں اور زبیر و انجم کے بہن بھائی ہونے کا انکشاف ہوتا ہے۔
افسانہ ’’ملاپ‘‘ میں والدین کی طلاق کے بعد فیضان اپنی ماں اور ایمن اپنے باپ کے ساتھ رہتی ہے۔ طویل جدائی کے بعد فیضان اپنی ماں کی موت درج کرانے کے لیے ایمن کے دفتر پہنچتا ہے، جہاں ایمن اپنے بھائی کو پہچان لیتی ہے اور دونوں دوبارہ مل جاتے ہیں۔ اگرچہ ان افسانوں کے واقعات بعض مقامات پر غیر متوقع محسوس ہوتے ہیں، تاہم اختتام پر بہن بھائیوں کا ملاپ قاری کو جذباتی تسکین دیتا ہے۔ مصنف نے جدائی کے انسانی احساسات اور نفسیاتی اثرات کو خوب صورتی سے پیش کیا ہے۔
’’یقین‘‘ ایک اور اثر انگیز افسانہ ہے جس میں معاشرے کی سنگ دلی، ظلم و ستم اور انسانیت کے زوال کو موضوع بنایا گیا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ انسان انسان کو مارتا ہے، بھائی بھائی کا خون چوستا ہے اور ہمدردی کا جذبہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اگرچہ افسانے میں بیانیہ انداز غالب ہے، لیکن یہ جدید معاشرے کے انسان کی بے بسی اور اخلاقی زوال کو نمایاں کرتا ہے۔
کتاب میں ’’سوالیہ نشان‘‘، ’’کلالہ‘‘، ’’تقسیم‘‘، ’’دکھاوا‘‘، ’’بھنور‘‘، ’’ایک نہیں، دو نہیں، تین‘‘ اور ’’تاجو باجی‘‘ جیسے افسانے بھی شامل ہیں۔ ان میں بہن بھائیوں، قریبی رشتے داروں اور دیگر عزیزوں کی جانب سے جائیداد ہتھیانے کی کوششوں کو مختلف انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ افسانے موجودہ معاشرتی زندگی کی تلخ حقیقتوں کی عکاسی کرتے ہیں اور قاری کو سنجیدہ غوروفکر پر مجبور کرتے ہیں۔
’’ابلیس کی جیت‘‘، ’’ابلیس کی ہار‘‘، ’’عدالت‘‘، ’’خودکشی‘‘، ’’قلبی آنکھ‘‘، ’’قدرت‘‘، ’’مولانا اور جن‘‘ اور ’’8/20 کا چکر‘‘ تمثیلی انداز میں لکھے گئے ہیں۔ ماجد مجید اسلامی علوم سے واقف قلم کار ہیں، اس لیے ان کی تحریروں میں اسلامی فکر نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کے کئی افسانوں کے پلاٹ اور کردار قرآنی واقعات و تصورات سے ماخوذ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں اصلاحی اور سبق آموز پہلو نمایاں رہتا ہے۔
’’مردے کی تفتیش‘‘ ایک مزاحیہ افسانہ ہے، جس میں ایک شخص کو اس لیے قبر میں تفتیش کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ اس کے چہارم میں شریک ایک آدمی کے پاس اپنی گاڑی نہیں ہوتی، جبکہ باقی لوگ اپنی گاڑیوں میں آتے ہیں۔ مصنف نے اس واقعے کے ذریعے معاشرے میں گاڑی کو حیثیت اور خوش حالی کی علامت سمجھنے کے رجحان پر طنز کیا ہے۔ ماضی میں بھی گاڑی سماجی مرتبے کی علامت تھی، مگر اس افسانے میں اس تصور کو ایک مضحکہ خیز صورت میں پیش کیا گیا ہے۔
کتاب کا عنوانی افسانہ ’’کنجوس پرنسپل‘‘ بھی قابلِ ذکر ہے۔ اس میں ایک محنتی اور باصلاحیت استاد اپنی انتھک کوششوں سے اسکول کو کامیابی کی بلندیوں تک پہنچاتی ہے۔ اسکول کو ’’بیسٹ اسکول ایوارڈ‘‘ ملتا ہے، لیکن ماتحت اساتذہ کی فرمائش کے باوجود پرنسپل انہیں دعوت نہیں دیتی، جس پر اس کا نام ’’کنجوس پرنسپل‘‘ پڑ جاتا ہے۔ یہ افسانہ تعلیمی اداروں کے ماحول اور وہاں پائے جانے والے رویّوں کو نمایاں کرتا ہے۔
مجموعے کے بعض افسانے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے گرد گھومتے ہیں۔ ان میں بیان کردہ واقعات اس قدر حقیقی محسوس ہوتے ہیں کہ بعض مقامات پر آپ بیتی اور جگ بیتی کا فرق مٹتا دکھائی دیتا ہے۔ مصنف نے اپنے گردوپیش میں پیش آنے والے واقعات کو افسانوی رنگ دینے کی اچھی کوشش کی ہے اور کرداروں کے انتخاب میں بھی تنوع رکھا ہے۔ تاہم، کئی کردار عملی طور پر کمزور دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ظلم، ناانصافی، جائیداد پر قبضے یا اپنی عزت پر حملے کے باوجود مزاحمت نہیں کرتے اور خاموشی سے سب کچھ برداشت کر لیتے ہیں۔ اس وجہ سے بعض افسانوں کے پلاٹ کمزور محسوس ہوتے ہیں، اگرچہ ان کے عنوانات دل کش اور منفرد ہیں۔
ماجد مجید کی زبان سادہ، صاف اور عام فہم ہے، جبکہ اندازِ بیان منفرد اور مفکرانہ ہے۔ کم الفاظ میں بڑی بات بیان کرنا ان کی خوبی ہے۔ وہ مشکل اور دقیق الفاظ سے گریز کرتے ہیں، جس سے قاری تحریر کے ساتھ آسانی سے جڑ جاتا ہے۔
کتاب کی طباعت، کاغذ اور مجموعی تزئین و آرائش بھی قابلِ تحسین ہے۔ کتابت کی خامیوں سے پاک یہ مجموعہ دیدہ زیب سرورق کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ اس کی قیمت 350 روپے ہے، جو مناسب معلوم ہوتی ہے۔
مجموعی طور پر ’’کنجوس پرنسپل‘‘ ایک قابلِ مطالعہ افسانوی مجموعہ ہے، جس میں معاشرتی مسائل، انسانی نفسیات، رشتوں کی پیچیدگیوں اور اخلاقی اقدار کو موضوع بنایا گیا ہے۔ بعض افسانوں کے پلاٹ اور کرداروں میں مزید پختگی کی گنجائش ضرور ہے، تاہم مصنف کا سادہ اسلوب اور اصلاحی نقطۂ نظر اس کتاب کو قابلِ توجہ بناتا ہے۔
زززv


