حکومت کا خاتون JKAS افسر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی تحقیقات کا حکم

جنگ نیوز

سرینگر/جموں و کشمیر حکومت نے محکمہ محنت و روزگار کے انتظامی سیکریٹری کمار راجیو رنجن کی جانب سے ایک خاتون JKAS افسر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے معاملے کی تفصیلی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ یہ واقعہ بدھ کو مشن یووا کے جائزہ اجلاس کے دوران پیش آیا تھا۔
محکمہ عمومی انتظامیہ (GAD) نے ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ محکمہ کی کمشنر سیکریٹری مندیپ کور کو تحقیقات کی ذمہ داری سونپی ہے۔ انہیں 2010 بیچ کے IAS افسر کمار راجیو رنجن اور گاندربل میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایمپلائمنٹ کے طور پر تعینات JKAS افسر بینش وانی کے معاملے پر 15 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ایڈیشنل سیکریٹری GAD امیت ورمانی کو پیشی افسر مقرر کیا گیا ہے۔
یہ تحقیقات اس وقت شروع کی گئی جب مشن یووا کے جائزہ اجلاس کی ایک آڈیو ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں رنجن کو مبینہ طور پر بینش وانی کے ساتھ توہین آمیز زبان استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ واقعے پر سیاسی رہنماؤں اور سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔
قومی کمیشن برائے خواتین (NCW) نے ویڈیو کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری جموں و کشمیر کو خط لکھا ہے۔ کمیشن کی چیئرپرسن وجے راہتکر نے ویڈیو کی تصدیق، غیر جانبدارانہ تحقیقات اور الزامات ثابت ہونے پر مناسب تادیبی و قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیشن نے 7 دن کے اندر کارروائی کی رپورٹ طلب کی ہے۔
NCW نے خاتون افسر کو تحفظ اور تعاون فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کام کی جگہ پر ہراسانی، انتقامی کارروائی اور پیشہ ورانہ نقصان سے بچانے کے اقدامات پر زور دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے سینئر IAS افسر کے طرز عمل کا معاملہ چیف سیکریٹری کے ساتھ اٹھایا ہے اور ہدایت دی ہے کہ خاتون JKAS افسر کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہ کی جائے۔
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سرکاری آن لائن اجلاس کے دوران IAS افسر کا رویہ سینئر افسر سے متوقع معیار کے مطابق نہیں تھا۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق، خاتون افسر کو مبینہ طور پر بعد میں دی گئی دھمکیوں نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر جموں و کشمیر ریاست ہوتا تو تحقیقات تک متعلقہ افسر کو GAD کے ساتھ منسلک کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں IAS افسران پر کنٹرول لوک بھون کے پاس ہے اور متعلقہ حکام کو اس معاملے میں مثال قائم کرنی چاہیے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

حکومت کا خاتون JKAS افسر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی تحقیقات کا حکم

جنگ نیوز

سرینگر/جموں و کشمیر حکومت نے محکمہ محنت و روزگار کے انتظامی سیکریٹری کمار راجیو رنجن کی جانب سے ایک خاتون JKAS افسر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے معاملے کی تفصیلی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ یہ واقعہ بدھ کو مشن یووا کے جائزہ اجلاس کے دوران پیش آیا تھا۔
محکمہ عمومی انتظامیہ (GAD) نے ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ محکمہ کی کمشنر سیکریٹری مندیپ کور کو تحقیقات کی ذمہ داری سونپی ہے۔ انہیں 2010 بیچ کے IAS افسر کمار راجیو رنجن اور گاندربل میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایمپلائمنٹ کے طور پر تعینات JKAS افسر بینش وانی کے معاملے پر 15 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ایڈیشنل سیکریٹری GAD امیت ورمانی کو پیشی افسر مقرر کیا گیا ہے۔
یہ تحقیقات اس وقت شروع کی گئی جب مشن یووا کے جائزہ اجلاس کی ایک آڈیو ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں رنجن کو مبینہ طور پر بینش وانی کے ساتھ توہین آمیز زبان استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ واقعے پر سیاسی رہنماؤں اور سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔
قومی کمیشن برائے خواتین (NCW) نے ویڈیو کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری جموں و کشمیر کو خط لکھا ہے۔ کمیشن کی چیئرپرسن وجے راہتکر نے ویڈیو کی تصدیق، غیر جانبدارانہ تحقیقات اور الزامات ثابت ہونے پر مناسب تادیبی و قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیشن نے 7 دن کے اندر کارروائی کی رپورٹ طلب کی ہے۔
NCW نے خاتون افسر کو تحفظ اور تعاون فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کام کی جگہ پر ہراسانی، انتقامی کارروائی اور پیشہ ورانہ نقصان سے بچانے کے اقدامات پر زور دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے سینئر IAS افسر کے طرز عمل کا معاملہ چیف سیکریٹری کے ساتھ اٹھایا ہے اور ہدایت دی ہے کہ خاتون JKAS افسر کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہ کی جائے۔
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سرکاری آن لائن اجلاس کے دوران IAS افسر کا رویہ سینئر افسر سے متوقع معیار کے مطابق نہیں تھا۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق، خاتون افسر کو مبینہ طور پر بعد میں دی گئی دھمکیوں نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر جموں و کشمیر ریاست ہوتا تو تحقیقات تک متعلقہ افسر کو GAD کے ساتھ منسلک کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں IAS افسران پر کنٹرول لوک بھون کے پاس ہے اور متعلقہ حکام کو اس معاملے میں مثال قائم کرنی چاہیے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں