جنگ نیوز
سری نگر/جموں و کشمیر وقف بورڈ کی جانب سے مساجد میں جمعہ کے خطبوں کے لئے مشترکہ موضوعات تجویز کرنے کے منصوبے پر وادی میں سیاسی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے مخالفت سامنے آئی ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی، میرواعظ عمر فاروق کی سربراہی والی متحدہ مجلس علما (MMU) اور نیشنل کانفرنس کے ترجمان تنویر صادق نے اس اقدام پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
عمر عبداللہ نے اس تجویز کو مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کی ناقابل قبول کوشش قرار دیتے ہوئے وقف بورڈ کی چیئرپرسن سے اسے روکنے کا مطالبہ کیا۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ائمہ اور مقامی علما اپنی برادری کے مسائل بہتر طور پر سمجھتے ہیں اور انہیں خطبوں کے موضوعات طے کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔
متحدہ مجلس علما نے بھی اس تجویز کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ منبر ایک مقدس امانت ہے اور مذہبی رہنمائی کا اختیار علما، ائمہ اور مستند دینی اداروں کے پاس ہونا چاہیے۔ تنویر صادق نے ہدایت واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ائمہ اور خطیبوں کو یہ بتانے کا اختیار کس کے پاس ہے کہ وہ جمعہ کے خطبے میں کیا کہیں۔
نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ اس اقدام سے جمعہ کے خطبوں کے مواد پر سیاسی اثراندازی کا راستہ کھل سکتا ہے۔
وقف چیئرپرسن کی وضاحت
جنگ نیوز
تنازعے کے درمیان وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر سید درخشاں اندرابی نے واضح کیا کہ جمعہ کے خطبوں کو یکساں بنانا لازمی قرار دینے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا اور بورڈ کو خطبوں کے موضوعات مسلط کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔
سری نگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجوزہ بنیادی کمیٹی میں مفتیان، ائمہ اور خطیب شامل ہوں گے، جو سماجی مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے موضوعات کا آزادانہ انتخاب کریں گے۔ ان کے مطابق منشیات، خودکشی، خاندانی مسائل اور نوجوانوں میں ذہنی دباؤ جیسے معاملات پر توجہ دینا اس اقدام کا مقصد ہے۔
ڈاکٹر اندرابی نے کہا کہ مذہبی علما اپنی صوابدید کے مطابق خطبے دیں گے اور اس معاملے میں کوئی مداخلت نہیں ہوگی۔ عمر عبداللہ کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے بی جے پی سے اپنی وابستگی کا دفاع کیا اور کہا کہ انہیں پارٹی سے تعلق پر فخر ہے۔
یہ تنازعہ وقف بورڈ کی جانب سے اس اعلان کے بعد پیدا ہوا کہ اس کی نگرانی میں آنے والی مساجد اور مذہبی اداروں میں جمعہ کے خطبوں کے لئے مشترکہ موضوعات کی نشاندہی کرنے کی غرض سے علما پر مشتمل ایک بنیادی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز ہے۔


