کڈز کارنیوال: تعلیم کے ساتھ احساس، محبت اور انسانیت کا فروغ

مہرالنساء قریشی

سرینگر/ جنگ نیوز/تعلیم کا مقصد محض کتابی علم یا امتحانات میں کامیابی نہیں، بلکہ بچوں کی شخصیت سازی، خود اعتمادی، اخلاق اور انسانی اقدار کو فروغ دینا بھی ہے۔ گزشتہ سنیچر مونارک سیکنڈری اسکول ہندوارہ میں منعقدہ ’’کڈز کارنیوال‘‘ اسی تصور کی خوب صورت مثال تھا۔
تقریب میں ایل پی ڈی کے طلبہ و طالبات، بالخصوص پہلی اور دوسری جماعت کے ننھے بچوں نے مختلف ثقافتی پروگرام پیش کرکے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ تلاوتِ کلامِ پاک سے شروع ہونے والے پروگرام میں موسیقی اور اساتذہ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے ایک نظم بھی شامل تھی۔
چیئرمین اور ڈائریکٹر کی موجودگی میں منعقدہ تقریب میں والدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بچوں کو اعتماد کے ساتھ اسٹیج پر دیکھنا ان کے لئے باعثِ مسرت تھا۔ ایک استاد کی حیثیت سے میرے لئے بھی یہ لمحات یادگار تھے، کیونکہ استاد کی حقیقی کامیابی بچوں کے اعتماد، کردار اور عملی صلاحیتوں میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
والدین نے اسکول کے تعلیمی ماحول، اساتذہ کی محنت اور بچوں کی تربیت کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ادارہ تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت پر بھی توجہ دیتا رہے گا۔ تقریب کے اختتام پر فاروق احمد پیر نے تدریسی امور، نصاب اور آئندہ تعلیمی سیشن کی منصوبہ بندی پر روشنی ڈالی۔
تقریب کا سب سے متاثر کن پہلو غیر تدریسی عملے کی حوصلہ افزائی تھا۔ انتظامیہ نے ڈرائیوروں، صفائی ملازمین، گیٹ کیپرز، چوکیداروں اور دیگر ملازمین کو اسٹیج پر مدعو کرکے ان کی خدمات کو سراہا اور تحائف پیش کیے۔ اس اقدام نے واضح کیا کہ ادارے کی کامیابی میں ہر فرد کا کردار اہم ہے، خواہ وہ کلاس روم میں پڑھاتا ہو یا پسِ منظر میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتا ہو۔
یہ عمل احترام، ہمدردی اور انسانیت کا عملی پیغام تھا۔ جب کسی ادارے میں ہر فرد کی محنت کو تسلیم کیا جاتا ہے تو وہاں اپنائیت، تعاون اور ذمہ داری کا احساس پروان چڑھتا ہے، جس کے مثبت اثرات بچوں کی تربیت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
مونارک سیکنڈری اسکول ہندوارہ کا کڈز کارنیوال میرے لئے محض ایک تقریب نہیں، بلکہ تعلیم کے وسیع مفہوم کو سمجھنے کا یادگار تجربہ تھا۔ اس نے ثابت کیا کہ حقیقی تعلیم کا مقصد صرف کامیاب طلبہ تیار کرنا نہیں، بلکہ ایسے انسان بنانا بھی ہے جو علم کے ساتھ اخلاق، قابلیت کے ساتھ عاجزی اور کامیابی کے ساتھ دوسروں کے احترام کا جذبہ رکھتے ہوں۔
حقیقی تعلیم وہی ہے جو ذہنوں کو علم، دلوں کو احساس اور کردار کو انسانیت عطا کرے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

کڈز کارنیوال: تعلیم کے ساتھ احساس، محبت اور انسانیت کا فروغ

مہرالنساء قریشی

سرینگر/ جنگ نیوز/تعلیم کا مقصد محض کتابی علم یا امتحانات میں کامیابی نہیں، بلکہ بچوں کی شخصیت سازی، خود اعتمادی، اخلاق اور انسانی اقدار کو فروغ دینا بھی ہے۔ گزشتہ سنیچر مونارک سیکنڈری اسکول ہندوارہ میں منعقدہ ’’کڈز کارنیوال‘‘ اسی تصور کی خوب صورت مثال تھا۔
تقریب میں ایل پی ڈی کے طلبہ و طالبات، بالخصوص پہلی اور دوسری جماعت کے ننھے بچوں نے مختلف ثقافتی پروگرام پیش کرکے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ تلاوتِ کلامِ پاک سے شروع ہونے والے پروگرام میں موسیقی اور اساتذہ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے ایک نظم بھی شامل تھی۔
چیئرمین اور ڈائریکٹر کی موجودگی میں منعقدہ تقریب میں والدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بچوں کو اعتماد کے ساتھ اسٹیج پر دیکھنا ان کے لئے باعثِ مسرت تھا۔ ایک استاد کی حیثیت سے میرے لئے بھی یہ لمحات یادگار تھے، کیونکہ استاد کی حقیقی کامیابی بچوں کے اعتماد، کردار اور عملی صلاحیتوں میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
والدین نے اسکول کے تعلیمی ماحول، اساتذہ کی محنت اور بچوں کی تربیت کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ادارہ تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت پر بھی توجہ دیتا رہے گا۔ تقریب کے اختتام پر فاروق احمد پیر نے تدریسی امور، نصاب اور آئندہ تعلیمی سیشن کی منصوبہ بندی پر روشنی ڈالی۔
تقریب کا سب سے متاثر کن پہلو غیر تدریسی عملے کی حوصلہ افزائی تھا۔ انتظامیہ نے ڈرائیوروں، صفائی ملازمین، گیٹ کیپرز، چوکیداروں اور دیگر ملازمین کو اسٹیج پر مدعو کرکے ان کی خدمات کو سراہا اور تحائف پیش کیے۔ اس اقدام نے واضح کیا کہ ادارے کی کامیابی میں ہر فرد کا کردار اہم ہے، خواہ وہ کلاس روم میں پڑھاتا ہو یا پسِ منظر میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتا ہو۔
یہ عمل احترام، ہمدردی اور انسانیت کا عملی پیغام تھا۔ جب کسی ادارے میں ہر فرد کی محنت کو تسلیم کیا جاتا ہے تو وہاں اپنائیت، تعاون اور ذمہ داری کا احساس پروان چڑھتا ہے، جس کے مثبت اثرات بچوں کی تربیت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
مونارک سیکنڈری اسکول ہندوارہ کا کڈز کارنیوال میرے لئے محض ایک تقریب نہیں، بلکہ تعلیم کے وسیع مفہوم کو سمجھنے کا یادگار تجربہ تھا۔ اس نے ثابت کیا کہ حقیقی تعلیم کا مقصد صرف کامیاب طلبہ تیار کرنا نہیں، بلکہ ایسے انسان بنانا بھی ہے جو علم کے ساتھ اخلاق، قابلیت کے ساتھ عاجزی اور کامیابی کے ساتھ دوسروں کے احترام کا جذبہ رکھتے ہوں۔
حقیقی تعلیم وہی ہے جو ذہنوں کو علم، دلوں کو احساس اور کردار کو انسانیت عطا کرے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں