کشمیر میں مادری زبان کے تحفظ کے لئے علما کی جانب سے ایک اہم پہل سامنے آئی ہے۔ میرواعظ ڈاکٹرعمر فاروق نے جمعہ، 9 اکتوبر 2026 کو اعلان کیا کہ 16 اکتوبر کو جمعہ کے خطبات کشمیری زبان میں دیے جائیں گے۔ یہ اقدام قابل ستائش ہے اور زبان و ثقافت کے تحفظ کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔زبان صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں بلکہ کسی قوم کی شناخت، تاریخ اور تہذیب کی علامت بھی ہوتی ہے۔ کشمیری زبان ہماری ثقافتی وراثت کا اہم حصہ ہے، جس کے تحفظ کے لئے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں مذہبی رہنما اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ درست ہے کہ کشمیر سمیت جنوبی ایشیا میں اسلامی تعلیمات سے متعلق زیادہ تر کتابیں اردو میں دستیاب ہیں اور اردو کے قارئین کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ تاہم، کشمیری زبان کو فروغ دینے کا مطلب اردو کی اہمیت کم کرنا نہیں، بلکہ اپنی مادری زبان اور شناخت کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مکاتب فکر کے ائمہ اور علما اس مقصد کے لئے متحد ہوں۔ کشمیر کے کئی مکاتب فکر میں پہلے ہی خطبات اور مذہبی گفتگو کے لئے کشمیری زبان استعمال ہوتی ہے۔خاص طور پر ان علما کو بھی کشمیری زبان میں خطبات دینے کی طرف توجہ دینی چاہیے جو اتر پردیش کے دیوبند اور بریلی کی مذہبی روایات سے وابستہ ہیں۔ ان کی علمی خدمات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن مقامی زبان کے استعمال سے وہ اپنے پیغام کو لوگوں تک مزید مؤثر انداز میں پہنچا سکتے ہیں۔ اگر اس روایت کو مزید وسعت دی جائے تو نئی نسل بھی اپنی مادری زبان سے جڑی رہے گی۔ مساجد کے علاوہ تعلیمی اداروں اور گھروں میں بھی کشمیری زبان کے استعمال کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔
یاد رہیں مادری زبان کا تحفظ کسی ایک فرد یا مکتب فکر کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہم سب کا مشترکہ فرض ہے۔ مذہبی اختلافات اپنی جگہ، لیکن کشمیری زبان کے فروغ کے لئے سب کو ایک ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ یہی ہماری تہذیبی شناخت کو محفوظ رکھنے کا بہترین راستہ ہے۔


