جنگ نیوز
نئی دہلی: دہلی کے کناٹ پلیس میں اپوزیشن جماعتوں کے(SIR) کے خلاف احتجاج کے دوران کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔
کشمیری نوجوان فہیم نذیر شاہ احتجاجی مقام پر پہنچا اور وزیر اعظم نریندر مودی کے حق میں نعرے لگائے، جس کے بعد مظاہرین کے ایک گروپ نے اسے گھیر لیا، دھکے دیے اور مارپیٹ کی۔ مظاہرین کا الزام تھا کہ نوجوان نے لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی، تاہم نوجوان نے اس الزام کی تردید کی۔
واقعے کی ایک ویڈیو میں نوجوان کو ہجوم کے درمیان گھرا، دھکے کھاتا اور مبینہ طور پر تھپڑ اور مکے پڑتے دکھایا گیا ہے۔ نوجوان نے بعد میں الزام لگایا کہ اسے مودی کی حمایت کرنے پر کانگریس کارکنوں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
واقعے پر BJP رہنماؤں نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حملے کی مذمت کی۔ پردیپ بھنڈاری اور ساجد یوسف شاہ نے احتجاج اور آزادیِ اظہار سے متعلق سوالات اٹھائے۔


