ہمارے عہد کا ایک اوتار

 

 

تشیرنگ توبگے
وزیر اعظم
بھوٹان

میری وزیر اعظم نریندر مودی سےنئی دہلی میں 27 جولائی 2019 کو ملاقات ہوئی۔ اس سے دس ماہ قبل بھوٹان کے انتخابات میں میری جماعت کو شکست ہو چکی تھی اور اب پارلیمنٹ میں ہماری کوئی نمائندگی نہیں تھی۔ میں نہ وزیر اعظم تھا اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ؛ میں نے وزیر اعظم مودی سے محض ایک عام شہری کی حیثیت سے ملاقات کی تھی۔
میں نے اپنے دورِ اقتدار کے دوران ان کی حمایت کے لئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ اور میں نے ان سے کہا کہ وہ ہمیشہ میرے بڑے بھائی رہیں گے،صرف اس لئے نہیں کہ وہ عمر میں مجھ سے بڑے ہیں، بلکہ اس لئے بھی کہ وہ میرے ساتھ اس شفقت اور محبت سے پیش آتے تھے، جو ایک بڑا بھائی اپنے چھوٹے بھائی کے لئے رکھتا ہے۔
پھر میں نے ان سے ایک اور بات کہی: میں انہیں وشنو کا اوتار سمجھتا ہوں۔ میں نے وضاحت کی کہ دنیا کے ہمارے خطے میں روشن خیال حکمرانوں کو طویل عرصے سے اسی حیثیت سے دیکھا جاتا رہا ہے۔
میرے اپنے الفاظ نے مجھے بھی حیران کر دیا۔ بعد میں میں سوچنے لگا کہ آخر مجھے یہ بات کہنے پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا۔ کیا میں جذبات میں بہہ گیا تھا؟ کیا میں غلط تھا؟
بعد میں جب میں نے اپنی کہی ہوئی بات پر غور کیا تو جواب بالکل واضح ہو گیا۔ وزیر اعظم مودی کو وشنو کا اوتار سمجھنا درست تھا۔
میں نے تقریباً 13 برس تک انہیں گجرات کی حکومت چلاتے ہوئے دیکھا، اس دوران ریاست ترقی، بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کاری اور عملی اقدامات کے حوالے سے قومی سطح پر ایک مثال بن گئی۔ پھر میں نے دیکھا کہ انہوں نے اسی عزم کو بھارت کی سطح تک وسعت دی، یعنی مینوفیکچرنگ، بیرونی سرمایہ کاری، مالی شمولیت، صفائی ستھرائی، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچہ، ان سب کوعوامی خدمت اور مؤثر عمل درآمد پر مسلسل زور کے ساتھ آگے بڑھایا گیا۔
میں نے خود اس عوامی خدمت گار کو قریب سے دیکھااور پایا کہ وہ نظم و ضبط کے پابند، پُرجوش اور غیر معمولی محنت کرنے والے ہیں۔ سب سے زیادہ جس بات نے مجھے متاثر کیا، وہ اپنے ملک اور اپنے عوام کی خدمت کے لئے ان کی غیر متزلزل لگن تھی۔
لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے بھارتیوں کے اندر اپنے آپ اور اپنے ملک پر ایک مضبوط اعتماد پیدا کیا۔ وہ بھارت پر زیادہ فخر محسوس کرنے لگے، ملک کے امکانات کے حوالے سے ان کی امنگیں زیادہ بلند ہوئیں اور دنیا میں بھارت کے مقام کے بارے میں ان کا اعتماد مزید مضبوط ہوا۔
میرے نزدیک یہ ایک روشن خیال حکمران کی خصوصیات تھیں۔
بھوٹان کی بدھ روایت میں ہم ‘رِگسُم گونپو’ کو عقیدت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جو تین ‘بودھستوا’پر مشتمل ایک تثلیث ہے اور تمام ذی شعور مخلوقات کی نجات کے لئے مخصوص ہے۔ منجوشری دانائی کی علامت ہیں؛‘ اولوکیتیشور’ ہمدردی کی اور ‘وجرپانی’ حوصلے کی۔
میرے نزدیک، روشن خیال قیادت بے غرض خدمت کے ذریعے ان تینوں اوصاف یعنی دانائی، ہمدردی اور حوصلےکو عملی شکل دینے کا نام ہے۔
آج مجھے یہ تینوں اوصاف وزیر اعظم مودی کے ‘وکست بھارت’ کے وژن میں سب سے زیادہ واضح طور پر یکجا نظر آتے ہیں۔
دانائی کا آغاز ایک بہتر مستقبل کے واضح ویژن سے ہوتا ہے۔ اور انہوں نے بھارت کو ایسا ہی ایک ویژن دیا ہے۔ وہ ویژن ہے 2047 تک، یعنی آزادی کے ٹھیک ایک صدی بعد، بھارت کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانا۔ ‘وکست بھارت’ کے ذریعے انہوں نے اس ویژن کو ایک نام، ایک مقررہ مدت اور ایک قومی مشن دیا ہے۔
ہمدردی کا آغاز دوسروں کی امیدوں اور امنگوں کو سمجھنے سے ہوتا ہے۔ اور ‘وکست بھارت’ عین اسی جذبے کی عکاسی کرتا ہے، یعنی4.1 ارب بھارتیوں کی ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک کے لئے اجتماعی امنگ۔ ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس’ اسی خواہش کی ترجمانی کرتا ہے، یعنی سب لوگوں کو مل کر، سب کی ترقی۔
حوصلے کا آغاز ویژن کو حقیقت میں بدلنے کے عزم سے ہوتا ہے۔ انسانی وسائل کی ترقی، سرمایہ کاری کو راغب کرنا، بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانا اور سب سے بڑھ کر حکمرانی کو بہتر بنانا مشکل فیصلوں اور مسلسل عمل درآمد کا تقاضا کرتے ہیں۔ ویژن پیش کرنا آسان ہے، لیکن تبدیلی لانا آسان نہیں۔
اور بے غرض خدمت ان تمام خوبیوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔ ‘وکست بھارت’ کسی ایک رہنما یا کسی ایک انتخابی دور سے متعلق نہیں ہے۔ یہ موجودہ نسل اور آنے والی نسلوں سے متعلق ہے۔ اور ‘سب کا پریاس’ کے ذریعے وزیر اعظم مودی نے ہر بھارتی سے صرف اس مشن کی حمایت کرنے ہی نہیں بلکہ اس کی تعمیر میں حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔
بلاشبہ، یہ ان کی سب سے اہم کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے نہ صرف بھارت کو ایک منزل دی ہے بلکہ بھارتیوں کو اس ویژن پر یقین کرنے اور اسے حقیقت میں بدلنے کے لئے کام کرنے کی ترغیب بھی دی ہے۔
‘وکست بھارت’ کی اہمیت بھارت سے بھی آگے ہے۔ وزیر اعظم مودی نے بین الاقوامی سطح پر اپنے روابط میں ہمیشہ پڑوسی ممالک کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے گلوبل ساؤتھ کے مفادات کی بھرپور وکالت کی ہے، ‘وائس آف گلوبل ساؤتھ سمٹ’ کا انعقاد کیا اور افریقی یونین کو جی 20 میں مستقل رکن کے طور پر شامل کرانے کی کامیاب کوشش کی قیادت کی۔
اور بھارت جتنا زیادہ مضبوط ہوگا، وہ اتنا ہی زیادہ کردار ادا کر سکے گا۔ ایک وکست بھارت ایک بڑی منڈی فراہم کرے گا، اس کے پاس بانٹنے کے لئے زیادہ سرمایہ اور ٹیکنالوجی ہوگی اور عالمی ایجنڈے کو اس طرح تشکیل دینے میں اس کا اثر و رسوخ بھی زیادہ ہوگا کہ اس میں خطے اور گلوبل ساؤتھ کے مفادات کی بہتر عکاسی ہو۔
تاہم، میرے لئے یہ معاملہ اس سے بھی زیادہ ذاتی نوعیت کاہے۔
وکست بھارت کا مطلب ہےوکست بھوٹان ۔
جون 2014 میں وزیر اعظم بننے کے چند ہی ہفتوں کے اندر وزیر اعظم مودی نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لئے بھوٹان کا انتخاب کیا۔ اس وقت میں وزیر اعظم تھا اور مجھے ان کا استقبال کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے ہماری باہمی شراکت داری کو تین حروف میں بیان کیا۔
بی4 بی: بھارت فار بھوٹان؛ بھوٹان فار بھارت
یہ جملہ سادہ ہونے کے باوجود گہرا مفہوم رکھتا ہے اور گزشتہ برسوں کے دوران انہوں نے اسے عملی طور پر نبھایا ہے۔
اسی لئے ہمارے 11ویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران بھارت کی مالی معاونت نے میری پہلی حکومت کو ایک پرعزم ترقیاتی پروگرام کو عملی جامہ پہنانے میں مدد دی۔ اسی لئے وزیر اعظم مودی نے ہمارے 12ویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران بھی اس فراخ دلانہ شراکت داری کو جاری رکھا۔
اور اسی لئے جب میں 2024 میں دوبارہ اقتدار میں آیا تو انہوں نے ہمارے 13ویں پانچ سالہ منصوبے کے لئے بھارت کی مدد کو دوگنا کرکے 10000 کروڑ روپے کر دیا۔
آج بھوٹان بھر میں بی 4 بی کی جھلک نمایاں ہے۔یہ جھلک اسکولوں اور اسپتالوں، سڑکوں اور پلوں، پن بجلی اور ٹیکنالوجی، زراعت اور کاروباری شعبوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔
لیکن بی 4 بی کی اہمیت اتنی زیادہ نہیں جتنی بھارت کی جانب سے، ان کے فرمانروا کی جانب سے پیش کیے گئے ‘گیلیفُو مائنڈفُلنس سٹی’ کے ویژن کے لئے تعاون میں نظر آتی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے بھارت کی جانب سے مکمل تعاون کا عزم ظاہر کیا ہے اور یہ عزم پہلے ہی ریل رابطوں، سرحدی بنیادی ڈھانچے اور فضائی و ڈیجیٹل رابطوں میں بہتری کی صورت میں عملی شکل اختیار کر رہا ہے۔
اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ بھارتی کاروباری اداروں نے وزیر اعظم مودی کی واضح حمایت سے رہنمائی حاصل کی ہے۔ ٹاٹا پاور، اڈانی گروپ، جے ایس ڈبلیو انرجی اور دیگر ادارے بھوٹان کی اقتصادی تبدیلی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جبکہ بھارت کی سرکردہ کاروباری شخصیات جی ایم سی کے بانی ارکان کے طور پر اس میں شامل ہو چکی ہیں۔
اسی لئے تمام بھوٹانی باشندے اس وقت بے حد خوش ہوئے جب ان کے فرمانروا نے بھوٹان کے لئے وزیر اعظم مودی کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں انہیں ‘آرڈر آف دی ڈرک گیالپو’ سے نوازا، جو ہمارے ملک کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے اور واحد غیر ملکی رہنما ہیں۔
میرے لئے ان کا اثر ذاتی طور پر بھی بہت گہرا رہا ہے۔ میں طویل عرصے سے وزیر اعظم مودی کو اپنا بڑا بھائی سمجھتا آیا ہوں اور گزشتہ برسوں کے دوران انہیں اپنا رہنما بھی ماننے لگا ہوں۔ انہیں کبھی مجھے ہدایت دینے کی ضرورت نہیں پڑی۔ایک عوامی خدمت گار کی حیثیت سے ان کا عملی نمونہ ہی میرے لئے کافی رہنما ثابت ہوا ہے۔
آج، جب وزیر اعظم مودی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے 25 سال مکمل کر رہے ہیں، تو مجھے 2019 میں ہونے والی اس بے ساختہ گفتگو اور پھر 14 مارچ 2024 کو ہونے والی ہماری اگلی ملاقات یاد آتی ہے۔
تب تک میں دوبارہ وزیر اعظم بن چکا تھا۔ وشنو کا اوتار قرار دینے کے پانچ سال بعد، میں دہلی میں اپنے بڑے بھائی سے ملاقات کے لئے گیا۔
میں نے ان سے کہا کہ پانچ سال پہلے میں نے جو بات کہی تھی، اس پر میں نے بہت غور و فکر کیا تھا اور سوچا تھا کہ آیا میں غلط تھا۔
میں اس نتیجے پر پہنچا کہ میں درست تھا۔
صرف یہی نہیں، اب میں یہ بھی جانتا تھا کہ وہ کون سا اوتار ہے۔
وشنو کا آخری اوتار یعنی وہ اوتار جس کا تعلق انتشار پر قابو پانے، دھرم کی بحالی اور تجدید کی نئی راہ ہموار کرنے سے ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

ایئر مارشل آشوتوش ڈکشٹ فضائیہ کے سربراہ مقرر

جنگ نیوز نئی دہلی/ حکومت نے ایئر مارشل آشوتوش ڈکشٹ...

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

ایئر مارشل آشوتوش ڈکشٹ فضائیہ کے سربراہ مقرر

جنگ نیوز نئی دہلی/ حکومت نے ایئر مارشل آشوتوش ڈکشٹ...

ہمارے عہد کا ایک اوتار

 

 

تشیرنگ توبگے
وزیر اعظم
بھوٹان

میری وزیر اعظم نریندر مودی سےنئی دہلی میں 27 جولائی 2019 کو ملاقات ہوئی۔ اس سے دس ماہ قبل بھوٹان کے انتخابات میں میری جماعت کو شکست ہو چکی تھی اور اب پارلیمنٹ میں ہماری کوئی نمائندگی نہیں تھی۔ میں نہ وزیر اعظم تھا اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ؛ میں نے وزیر اعظم مودی سے محض ایک عام شہری کی حیثیت سے ملاقات کی تھی۔
میں نے اپنے دورِ اقتدار کے دوران ان کی حمایت کے لئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ اور میں نے ان سے کہا کہ وہ ہمیشہ میرے بڑے بھائی رہیں گے،صرف اس لئے نہیں کہ وہ عمر میں مجھ سے بڑے ہیں، بلکہ اس لئے بھی کہ وہ میرے ساتھ اس شفقت اور محبت سے پیش آتے تھے، جو ایک بڑا بھائی اپنے چھوٹے بھائی کے لئے رکھتا ہے۔
پھر میں نے ان سے ایک اور بات کہی: میں انہیں وشنو کا اوتار سمجھتا ہوں۔ میں نے وضاحت کی کہ دنیا کے ہمارے خطے میں روشن خیال حکمرانوں کو طویل عرصے سے اسی حیثیت سے دیکھا جاتا رہا ہے۔
میرے اپنے الفاظ نے مجھے بھی حیران کر دیا۔ بعد میں میں سوچنے لگا کہ آخر مجھے یہ بات کہنے پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا۔ کیا میں جذبات میں بہہ گیا تھا؟ کیا میں غلط تھا؟
بعد میں جب میں نے اپنی کہی ہوئی بات پر غور کیا تو جواب بالکل واضح ہو گیا۔ وزیر اعظم مودی کو وشنو کا اوتار سمجھنا درست تھا۔
میں نے تقریباً 13 برس تک انہیں گجرات کی حکومت چلاتے ہوئے دیکھا، اس دوران ریاست ترقی، بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کاری اور عملی اقدامات کے حوالے سے قومی سطح پر ایک مثال بن گئی۔ پھر میں نے دیکھا کہ انہوں نے اسی عزم کو بھارت کی سطح تک وسعت دی، یعنی مینوفیکچرنگ، بیرونی سرمایہ کاری، مالی شمولیت، صفائی ستھرائی، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچہ، ان سب کوعوامی خدمت اور مؤثر عمل درآمد پر مسلسل زور کے ساتھ آگے بڑھایا گیا۔
میں نے خود اس عوامی خدمت گار کو قریب سے دیکھااور پایا کہ وہ نظم و ضبط کے پابند، پُرجوش اور غیر معمولی محنت کرنے والے ہیں۔ سب سے زیادہ جس بات نے مجھے متاثر کیا، وہ اپنے ملک اور اپنے عوام کی خدمت کے لئے ان کی غیر متزلزل لگن تھی۔
لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے بھارتیوں کے اندر اپنے آپ اور اپنے ملک پر ایک مضبوط اعتماد پیدا کیا۔ وہ بھارت پر زیادہ فخر محسوس کرنے لگے، ملک کے امکانات کے حوالے سے ان کی امنگیں زیادہ بلند ہوئیں اور دنیا میں بھارت کے مقام کے بارے میں ان کا اعتماد مزید مضبوط ہوا۔
میرے نزدیک یہ ایک روشن خیال حکمران کی خصوصیات تھیں۔
بھوٹان کی بدھ روایت میں ہم ‘رِگسُم گونپو’ کو عقیدت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جو تین ‘بودھستوا’پر مشتمل ایک تثلیث ہے اور تمام ذی شعور مخلوقات کی نجات کے لئے مخصوص ہے۔ منجوشری دانائی کی علامت ہیں؛‘ اولوکیتیشور’ ہمدردی کی اور ‘وجرپانی’ حوصلے کی۔
میرے نزدیک، روشن خیال قیادت بے غرض خدمت کے ذریعے ان تینوں اوصاف یعنی دانائی، ہمدردی اور حوصلےکو عملی شکل دینے کا نام ہے۔
آج مجھے یہ تینوں اوصاف وزیر اعظم مودی کے ‘وکست بھارت’ کے وژن میں سب سے زیادہ واضح طور پر یکجا نظر آتے ہیں۔
دانائی کا آغاز ایک بہتر مستقبل کے واضح ویژن سے ہوتا ہے۔ اور انہوں نے بھارت کو ایسا ہی ایک ویژن دیا ہے۔ وہ ویژن ہے 2047 تک، یعنی آزادی کے ٹھیک ایک صدی بعد، بھارت کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانا۔ ‘وکست بھارت’ کے ذریعے انہوں نے اس ویژن کو ایک نام، ایک مقررہ مدت اور ایک قومی مشن دیا ہے۔
ہمدردی کا آغاز دوسروں کی امیدوں اور امنگوں کو سمجھنے سے ہوتا ہے۔ اور ‘وکست بھارت’ عین اسی جذبے کی عکاسی کرتا ہے، یعنی4.1 ارب بھارتیوں کی ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک کے لئے اجتماعی امنگ۔ ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس’ اسی خواہش کی ترجمانی کرتا ہے، یعنی سب لوگوں کو مل کر، سب کی ترقی۔
حوصلے کا آغاز ویژن کو حقیقت میں بدلنے کے عزم سے ہوتا ہے۔ انسانی وسائل کی ترقی، سرمایہ کاری کو راغب کرنا، بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانا اور سب سے بڑھ کر حکمرانی کو بہتر بنانا مشکل فیصلوں اور مسلسل عمل درآمد کا تقاضا کرتے ہیں۔ ویژن پیش کرنا آسان ہے، لیکن تبدیلی لانا آسان نہیں۔
اور بے غرض خدمت ان تمام خوبیوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔ ‘وکست بھارت’ کسی ایک رہنما یا کسی ایک انتخابی دور سے متعلق نہیں ہے۔ یہ موجودہ نسل اور آنے والی نسلوں سے متعلق ہے۔ اور ‘سب کا پریاس’ کے ذریعے وزیر اعظم مودی نے ہر بھارتی سے صرف اس مشن کی حمایت کرنے ہی نہیں بلکہ اس کی تعمیر میں حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔
بلاشبہ، یہ ان کی سب سے اہم کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے نہ صرف بھارت کو ایک منزل دی ہے بلکہ بھارتیوں کو اس ویژن پر یقین کرنے اور اسے حقیقت میں بدلنے کے لئے کام کرنے کی ترغیب بھی دی ہے۔
‘وکست بھارت’ کی اہمیت بھارت سے بھی آگے ہے۔ وزیر اعظم مودی نے بین الاقوامی سطح پر اپنے روابط میں ہمیشہ پڑوسی ممالک کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے گلوبل ساؤتھ کے مفادات کی بھرپور وکالت کی ہے، ‘وائس آف گلوبل ساؤتھ سمٹ’ کا انعقاد کیا اور افریقی یونین کو جی 20 میں مستقل رکن کے طور پر شامل کرانے کی کامیاب کوشش کی قیادت کی۔
اور بھارت جتنا زیادہ مضبوط ہوگا، وہ اتنا ہی زیادہ کردار ادا کر سکے گا۔ ایک وکست بھارت ایک بڑی منڈی فراہم کرے گا، اس کے پاس بانٹنے کے لئے زیادہ سرمایہ اور ٹیکنالوجی ہوگی اور عالمی ایجنڈے کو اس طرح تشکیل دینے میں اس کا اثر و رسوخ بھی زیادہ ہوگا کہ اس میں خطے اور گلوبل ساؤتھ کے مفادات کی بہتر عکاسی ہو۔
تاہم، میرے لئے یہ معاملہ اس سے بھی زیادہ ذاتی نوعیت کاہے۔
وکست بھارت کا مطلب ہےوکست بھوٹان ۔
جون 2014 میں وزیر اعظم بننے کے چند ہی ہفتوں کے اندر وزیر اعظم مودی نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لئے بھوٹان کا انتخاب کیا۔ اس وقت میں وزیر اعظم تھا اور مجھے ان کا استقبال کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے ہماری باہمی شراکت داری کو تین حروف میں بیان کیا۔
بی4 بی: بھارت فار بھوٹان؛ بھوٹان فار بھارت
یہ جملہ سادہ ہونے کے باوجود گہرا مفہوم رکھتا ہے اور گزشتہ برسوں کے دوران انہوں نے اسے عملی طور پر نبھایا ہے۔
اسی لئے ہمارے 11ویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران بھارت کی مالی معاونت نے میری پہلی حکومت کو ایک پرعزم ترقیاتی پروگرام کو عملی جامہ پہنانے میں مدد دی۔ اسی لئے وزیر اعظم مودی نے ہمارے 12ویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران بھی اس فراخ دلانہ شراکت داری کو جاری رکھا۔
اور اسی لئے جب میں 2024 میں دوبارہ اقتدار میں آیا تو انہوں نے ہمارے 13ویں پانچ سالہ منصوبے کے لئے بھارت کی مدد کو دوگنا کرکے 10000 کروڑ روپے کر دیا۔
آج بھوٹان بھر میں بی 4 بی کی جھلک نمایاں ہے۔یہ جھلک اسکولوں اور اسپتالوں، سڑکوں اور پلوں، پن بجلی اور ٹیکنالوجی، زراعت اور کاروباری شعبوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔
لیکن بی 4 بی کی اہمیت اتنی زیادہ نہیں جتنی بھارت کی جانب سے، ان کے فرمانروا کی جانب سے پیش کیے گئے ‘گیلیفُو مائنڈفُلنس سٹی’ کے ویژن کے لئے تعاون میں نظر آتی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے بھارت کی جانب سے مکمل تعاون کا عزم ظاہر کیا ہے اور یہ عزم پہلے ہی ریل رابطوں، سرحدی بنیادی ڈھانچے اور فضائی و ڈیجیٹل رابطوں میں بہتری کی صورت میں عملی شکل اختیار کر رہا ہے۔
اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ بھارتی کاروباری اداروں نے وزیر اعظم مودی کی واضح حمایت سے رہنمائی حاصل کی ہے۔ ٹاٹا پاور، اڈانی گروپ، جے ایس ڈبلیو انرجی اور دیگر ادارے بھوٹان کی اقتصادی تبدیلی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جبکہ بھارت کی سرکردہ کاروباری شخصیات جی ایم سی کے بانی ارکان کے طور پر اس میں شامل ہو چکی ہیں۔
اسی لئے تمام بھوٹانی باشندے اس وقت بے حد خوش ہوئے جب ان کے فرمانروا نے بھوٹان کے لئے وزیر اعظم مودی کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں انہیں ‘آرڈر آف دی ڈرک گیالپو’ سے نوازا، جو ہمارے ملک کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے اور واحد غیر ملکی رہنما ہیں۔
میرے لئے ان کا اثر ذاتی طور پر بھی بہت گہرا رہا ہے۔ میں طویل عرصے سے وزیر اعظم مودی کو اپنا بڑا بھائی سمجھتا آیا ہوں اور گزشتہ برسوں کے دوران انہیں اپنا رہنما بھی ماننے لگا ہوں۔ انہیں کبھی مجھے ہدایت دینے کی ضرورت نہیں پڑی۔ایک عوامی خدمت گار کی حیثیت سے ان کا عملی نمونہ ہی میرے لئے کافی رہنما ثابت ہوا ہے۔
آج، جب وزیر اعظم مودی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے 25 سال مکمل کر رہے ہیں، تو مجھے 2019 میں ہونے والی اس بے ساختہ گفتگو اور پھر 14 مارچ 2024 کو ہونے والی ہماری اگلی ملاقات یاد آتی ہے۔
تب تک میں دوبارہ وزیر اعظم بن چکا تھا۔ وشنو کا اوتار قرار دینے کے پانچ سال بعد، میں دہلی میں اپنے بڑے بھائی سے ملاقات کے لئے گیا۔
میں نے ان سے کہا کہ پانچ سال پہلے میں نے جو بات کہی تھی، اس پر میں نے بہت غور و فکر کیا تھا اور سوچا تھا کہ آیا میں غلط تھا۔
میں اس نتیجے پر پہنچا کہ میں درست تھا۔
صرف یہی نہیں، اب میں یہ بھی جانتا تھا کہ وہ کون سا اوتار ہے۔
وشنو کا آخری اوتار یعنی وہ اوتار جس کا تعلق انتشار پر قابو پانے، دھرم کی بحالی اور تجدید کی نئی راہ ہموار کرنے سے ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں