سری نگر:
نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے پیر کے روز انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے درمیان ووٹروں کی فہرست سے ناموں کو مبینہ طور پر حذف کرنے پر الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ اب لوگوں میں ’حوصلہ‘ نظر آرہا ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’تبدیلی‘ آنے والی ہے۔
جموں و کشمیر کے تین بار وزیر اعلیٰ رہنے والے فاروق عبداللہ نے یہاں ‘ہلہ بولے’ کی پانچویں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کسی کو حق نہیں ہے کہ وہ کسی بھی ہندوستانی شہری کا نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے۔
ان کا کہنا تھا کہ سب کو معلوم ہے کہ ووٹر لسٹ سے لوگوں کے نام کیسے نکالے گئے اور پھر وضاحت دیتے ہیں کہ اگلے الیکشن میں دیکھیں گے۔ جب ہندوستان کا آئین آپ کو ہندوستانی شہری کی حیثیت سے ووٹ دینے کا حق دیتا ہے تو کسی کو بھی کسی کا نام فہرست سے ہٹانے کا حق نہیں ہے۔فاروق عبداللہ نے کہا، ’’پھر بھی گیانیش کمار نے ایسا کیا۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا، "انہوں نے چن چن کر مسلمانوں کو نشانہ بنایا اور ووٹر لسٹ سے ان کے نام ہٹا دیے، ان کی انتہا دیکھیں، یہاں تک کہ کپل سبل جیسے معروف وکیل کو بھی لسٹ سے نکال دیا گیا، کتنے ہی نام نکال دیے گئے، کیونکہ ان کا مقصد ہمیشہ اقتدار میں رہنا ہے۔
فاروق عبداللہ نے کہا کہ ملک میں تبدیلی کی ہوائیں چلنا شروع ہو گئی ہیں اور ہندوستان کا جذبہ اب بھی بہت زندہ ہے۔
ایس آئی آر تنازعہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کردار کے بارے میں سوال و جواب کی نشست کے دوران ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگوں میں ہمت پیدا ہونا شروع ہو گئی ہے، تبدیلی آئے گی، میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ میں زندہ رہوں یا نہیں، تبدیلی آئے گی۔


