طفیل مگسی
حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان جاری تنازعہ بظاہر ایک بڑی کشیدگی دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے پس پردہ مقاصد کچھ اور ہو سکتے ہیں۔ ممکن ہے یہ تنازعہ چند دنوں میں ختم ہو جائے، مگر اس دوران سعودی عرب کی ساکھ بحال ہو چکی ہوگی اور آل سعود کو دفاعِ حرمین کے نام پر ایک بار پھر ہیرو کے طور پر پیش کیا جائے گا۔
افغان جہاد اور ایرانی انقلاب نے عالمی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔ گزشتہ دو برسوں میں ایرانی مزاحمت کے بیانیے نے بھی مسلم دنیا میں توجہ حاصل کی۔ اب سوال یہ ہے کہ سنی اسلام کے قائد سعودی عرب کو بھی ہیرو کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی جا رہی ہے؟ بظاہر اس کا مقصد آنے والے عالمی سیاسی منظرنامے میں ہر اہم کھلاڑی کو ایک مؤثر کردار دینا ہے۔
حوثیوں کے حملوں کو مقاماتِ مقدسہ کے لئے خطرے کے طور پر پیش کرنے سے سعودی قیادت کو دفاعِ حرمین کے نام پر اپنی ساکھ بہتر بنانے کا موقع ملتا ہے۔ سعودی بیانات اور پاکستان میں بعض مذہبی جماعتوں کی سرگرمیاں بھی اسی تاثر کو تقویت دے رہی ہیں۔
مسلم دنیا میں نئی صف بندی
اس تنازعے کا ایک اہم پہلو فرقہ واریت بھی ہے۔ اگر مستقبل میں شیعہ اور سنی قیادتوں کو کسی مشترکہ سیاسی منظرنامے میں ایک صف میں کھڑا ہونا ہے تو موجودہ فرقہ وارانہ کشیدگی اس عمل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ممکن ہے پہلے فرقہ واریت کو عروج پر پہنچایا جائے، پھر اس کے خاتمے کے لئے اتحاد کی آوازیں بلند ہوں اور بالآخر دونوں فریق ایک دوسرے کے قریب آ جائیں۔ اس طرح پیدا ہونے والا اتحاد لوگوں کو کسی منصوبے کے بجائے حالات کا فطری نتیجہ محسوس ہوگا۔
ایران، افغانستان اور پاکستان کا کردار
ایرانی انقلاب نے امریکی اثرورسوخ کو چیلنج کرنے کا بیانیہ مضبوط کیا، جبکہ افغان جہاد نے عالمی سیاست میں نئی تاریخ رقم کی۔ اب ایران کی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی نے اسے مسلم دنیا کے ایک اہم فریق کے طور پر نمایاں کیا ہے۔
افغانستان، ایران، پاکستان اور ترکی بھی اس منظرنامے کے اہم کردار ہیں۔ پاکستان کو اسلامی دنیا کی ایک اہم ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ ترکی کی تاریخی حیثیت اسے بھی نمایاں مقام دیتی ہے۔
اس کے برعکس سعودی عرب کی قیادت کو اپنی ساکھ مضبوط کرنے کے لئے دفاعِ حرمین کے نام پر ایک نیا کردار مل سکتا ہے۔
حوثی تنازعہ اور ایرانی مقبولیت
ایک اہم سوال یہ ہے کہ اگر ایران حوثیوں کا حامی ہے تو کیا وہ ایسے اقدامات کی حمایت کرے گا جو اہلِ سنت میں اس کے خلاف نفرت پیدا کریں؟ کیا ایران اپنی طویل سیاسی کوششوں سے حاصل ہونے والی ساکھ کو حوثیوں کے حملوں کی وجہ سے نقصان پہنچنے دے گا؟
حوثیوں کی عسکری صلاحیت اور سعودی عرب کی طاقت کے درمیان فرق بھی اس تنازعے کو پیچیدہ بناتا ہے۔ اگر سعودی عرب اور اس کے اتحادی حوثیوں کے خاتمے میں سنجیدہ ہوتے تو اتنے طویل عرصے بعد بھی یہ تنازعہ کیوں برقرار ہے؟
یہ سوالات اس امکان کو تقویت دیتے ہیں کہ اس کشیدگی کے پیچھے محض عسکری مقاصد نہیں بلکہ وسیع تر سیاسی مفادات بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب، حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی حمایت میں امریکہ اور یورپی ممالک کے کردار سے متعلق خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ اگر عالمی طاقتیں سعودی موقف کے قریب دکھائی دیتی ہیں تو اس سے ایران کے مزاحمتی بیانیے کو تقویت مل سکتی ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے عمان کو ثالث بنا کر مذاکرات کی کوششیں بھی تنازعے کے ممکنہ سیاسی حل کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اگر دونوں فریق مذاکرات کے ذریعے کشیدگی ختم کرتے ہیں تو مسلم دنیا میں فرقہ وارانہ فاصلے کم ہونے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
اصل خطرہ اور مستقبل کا منظرنامہ
حوثی و سعودی تنازعہ ایک طویل تاریخ رکھتا ہے۔ اس کے باوجود سوال یہ ہے کہ عرب ممالک کی مالی اور عسکری طاقت کے باوجود حوثی تحریک اب تک کیوں برقرار ہے؟
ممکن ہے اس تنازعے کے طویل ہونے سے دونوں فریقوں کو اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کا موقع مل رہا ہو۔ سعودی عرب دفاعِ حرمین کے بیانیے کو مضبوط کر رہا ہے، جبکہ ایران کی مزاحمتی شناخت بھی نمایاں ہو رہی ہے۔
اگر یہ تنازعہ مذاکرات کے ذریعے ختم ہوتا ہے تو شیعہ اور سنی حلقوں کے درمیان قربت پیدا ہو سکتی ہے اور موجودہ کشیدگی مستقبل میں ایک نئے اتحاد کی بنیاد بن سکتی ہے۔
تاہم مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ فرقہ وارانہ جذبات کے بجائے عقل، تحقیق اور تاریخی شعور سے کام لیں۔ محض میڈیا کی خبروں یا سیاسی بیانات کی بنیاد پر کسی فریق کے مقاصد کا تعین کرنا درست نہیں۔
حوثی و سعودی تنازعے کو صرف دو فریقوں کی لڑائی سمجھنا کافی نہیں۔ اس کے پس پردہ علاقائی طاقت، مذہبی شناخت، عالمی سیاست اور مسلم دنیا کی ممکنہ نئی صف بندیوں کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔


