
مسعود محبوب خان
ہم ایک ایسے عہد میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں ٹیکنالوجی اور اظہار کے بے شمار ذرائع نے انسانی زندگی کو بدل دیا ہے، مگر اسی کے ساتھ جسمانی نمائش، خواہشات کی ترغیب اور نجی زندگی کو تجارت کا حصہ بنانے کے رجحانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ موبائل اسکرین، اشتہارات، فلموں اور سوشل میڈیا پر حسن اور جسمانی کشش کو کامیابی، تفریح اور آزادی سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ محض لباس یا ظاہری وضع قطع کا مسئلہ نہیں، بلکہ انسانی عزّت، آزادی، محبت اور اخلاق کے بارے میں ایک گہری تہذیبی تبدیلی ہے۔ جب جسم شخصیت پر غالب آجائے اور خواہش کی تکمیل کو آزادی کا معیار سمجھا جانے لگے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان خود کو اور دوسروں کو کس نگاہ سے دیکھ رہا ہے؟
آج حیا کو بعض اوقات قدامت پسندی اور آزادی کے خلاف تصور کیا جاتا ہے، جبکہ جسمانی نمائش کو جدیدیت سے جوڑا جاتا ہے۔ ایسے میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حیا کیا ہے، اسلام نے اسے اتنی اہمیت کیوں دی اور کیا یہ صرف عورت کے لباس تک محدود ہے؟
اسلام انسان کی فطرت اور خواہشات کو نظرانداز نہیں کرتا، بلکہ انہیں اخلاق، ذمہ داری اور ضبط کے دائرے میں رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید پہلے مردوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور پھر عورتوں کو اپنی زینت کی حفاظت کی ہدایت دیتا ہے۔ اس ترتیب میں واضح پیغام ہے کہ پاکیزہ معاشرہ صرف عورت کے لباس سے نہیں، بلکہ مرد کی نگاہ، دونوں کے کردار اور اجتماعی اخلاق سے تشکیل پاتا ہے۔
جنسی جرائم اور معاشرتی ذمہ داری
جنسی ہراسانی، زنا بالجبر، بچوں کے ساتھ زیادتی اور آن لائن استحصال جیسے مسائل کو محض لباس کی بحث تک محدود کرنا حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ کسی بھی جنسی جرم کا ذمہ دار صرف مجرم ہوتا ہے۔ متاثرہ کے لباس یا کردار کو جرم کا جواز بنانا نہ انصاف ہے، نہ اخلاق۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جنسی جرائم کسی ایک سبب سے جنم نہیں لیتے۔ مجرم کی نفسیات، طاقت کا غلط استعمال، عورت کو ملکیت سمجھنے کی ذہنیت، ناقص تربیت، فحش مواد، نشہ، خاندانی انتشار، سماجی بے حسی اور قانون کا کمزور نفاذ جیسے عوامل اس میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
مسلسل شہوت انگیز مواد انسانی نفسیات اور تعلقات کے تصور کو متاثر کر سکتا ہے، لیکن ہر جنسی جرم کو صرف عریانیت کا نتیجہ قرار دینا علمی طور پر درست نہیں۔ حیا کی دعوت کا مقصد مجرم کی ذمہ داری متاثرہ پر منتقل کرنا نہیں، بلکہ انسانی وقار اور معاشرتی اخلاق کو مضبوط بنانا ہے۔
اگر ہم بیٹی کو پردے کی تلقین کریں مگر بیٹے کو نگاہ کی حفاظت نہ سکھائیں، یا بچوں کو لباس کے آداب بتائیں مگر محفوظ و غیر محفوظ لمس اور آن لائن خطرات سے آگاہ نہ کریں، تو ہماری تربیت نامکمل رہے گی۔
حیا کا آغاز گھر سے ہوتا ہے۔ والدین کو بچوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ عورت کسی کی ملکیت نہیں بلکہ مکمل انسانی وقار رکھنے والی شخصیت ہے۔ بچوں کو ذاتی حدود، نامناسب رویوں کی شناخت اور قابلِ اعتماد بڑوں سے مدد لینے کی تعلیم دینا بھی ضروری ہے۔
اخلاقی تربیت کے ساتھ قانون کا مؤثر نفاذ بھی ناگزیر ہے۔ جنسی جرائم کے خلاف قانون واضح اور غیر جانب دار ہو، متاثرین کو تحفظ ملے اور مجرم خواہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، اسے جواب دہ ہونا پڑے۔ سماجی خاموشی اور سزا سے بے خوفی جرائم کو تقویت دیتی ہے۔
پردے کو محض لباس کی بحث بنا دینا اس کی روح کو نظرانداز کرنا ہے۔ حجاب اس وسیع اسلامی تہذیب کا حصہ ہے جو انسان کو خواہش کا غلام بننے سے روکتی اور وقار، ضبطِ نفس اور ذمہ داری کا شعور دیتی ہے۔ حقیقی آزادی یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات پر حکمران ہو، نہ کہ ان کا غلام۔
نئی نسل کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ بے پردگی بری ہے، بلکہ اسے حیا کی فکری، اخلاقی اور معاشرتی اہمیت بھی سمجھانی ہوگی۔ نوجوانوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ محبت ہوس کا نام نہیں، مردانگی طاقت کے بجائے ضبط اور ذمہ داری کا مظہر ہے اور عورت کی عزّت اس کی جسمانی کشش سے کہیں بلند ہے۔
ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو آزادی کو عریانی کا مترادف نہ سمجھے، عورت کو محض جسمانی وجود کے بجائے ایک مکمل انسان کی حیثیت سے دیکھے اور انسانی تعلقات میں احترام و ذمہ داری کو بنیادی اہمیت دے۔
معاشرے کی پاکیزگی صرف پردے کے لباس سے نہیں، بلکہ دلوں کے تقویٰ، نگاہ کی حفاظت، کردار کی مضبوطی، خاندانی تربیت اور قانون کے مؤثر نفاذ سے پیدا ہوتی ہے۔
اسی لئے ضرورت محض عریانیت کے خلاف احتجاج کی نہیں، بلکہ حیا کی ایک مثبت تہذیب قائم کرنے کی ہے۔ حیا کسی ایک جنس کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے وقار کی حفاظت کا نام ہے۔
اس مقصد کے حصول میں ذرائع ابلاغ اور تعلیمی اداروں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ تفریح اور کاروبار کے نام پر انسانی جسم کی غیر ضروری نمائش کے بجائے ایسے مواد کو فروغ دے جو اخلاقی شعور، خاندانی اقدار اور انسانی احترام کو تقویت بخشے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں طلبہ کو محض نصابی علم تک محدود رکھنے کے بجائے کردار سازی، اخلاقی ذمہ داری اور ڈیجیٹل دنیا کے خطرات سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ جب میڈیا، تعلیمی ادارے اور خاندان ایک مشترکہ مقصد کے تحت کام کریں گے تو نئی نسل میں حیا اور ذمہ داری کا شعور زیادہ مؤثر انداز میں پروان چڑھ سکے گا۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ حیا کا تعلق صرف ظاہری لباس سے نہیں بلکہ انسان کے باطن، نیت، گفتگو اور طرزِ عمل سے بھی ہے۔ ایک باحیا انسان دوسروں کی عزّت کا خیال رکھتا ہے، اپنی حدود پہچانتا ہے اور اپنی آزادی کو کسی دوسرے کی حق تلفی کا ذریعہ نہیں بننے دیتا۔ معاشرے کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب جدید علوم اور ٹیکنالوجی کے ساتھ اخلاقی اقدار بھی مضبوط ہوں۔ اگر ترقی انسان کو اپنی ذات اور دوسروں کے احترام سے محروم کردے تو ایسی ترقی پر نظرِ ثانی ضروری ہے، کیونکہ تہذیب کی اصل پہچان محض ظاہری جدت نہیں بلکہ انسانیت، شرافت اور کردار کی بلندی ہے۔


