خواتین کے دبتے احساس: ذمہ دار کون؟

 

قلم کار : چاہت النجم

خواتین معاشرے کا نصف حصہ ہیں، مگر افسوس کہ ان کے جذبات اور احساسات کو اکثر وہ اہمیت نہیں مل پاتی جس کے وہ مستحق ہیں۔عورت بھی ایک حساس دل، آزاد سوچ اور بے شمار خواہشات رکھنے والی انسان ہے، لیکن معاشرتی بندشیں اسے اپنے احساسات کے اظہار سے روک دیتی ہیں۔اس کے دل میں جنم لینے والی بہت سی باتیں زبان تک پہنچنے سے پہلے ہی خاموش ہوجاتی ہیں۔کبھی خاندان کی عزت کا حوالہ دے کر، کبھی سماج کے خوف سے اور کبھی رشتوں کی مصلحت کے نام پر اس کی آواز دبا دی جاتی ہے۔
بچپن ہی سے لڑکیوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ انہیں بہت کچھ برداشت کرنا ہے اور کم بولنا ہے۔ان سے صبر، قربانی اور خاموشی کی توقع تو کی جاتی ہے، مگر ان کے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کم ہی کی جاتی ہے۔

نتیجتاً بہت سی خواتین اپنے دکھ، خواہشات، محرومیوں اور خوابوں کو دل کی تہوں میں دفن کرتی رہتی ہیں۔
یہ دبے ہوئے احساسات بسا اوقات تنہائی، بے اطمینانی اور اندرونی کرب کا سبب بن جاتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ آخر اس صورتِ حال کا ذمہ دار کون ہے؟اس کا جواب کسی ایک فرد یا طبقے کو قرار دینا شاید درست نہیں ہوگا۔خاندان، معاشرتی رویے، فرسودہ تصورات اور بعض اوقات خود عورت کی تربیت بھی اس مسئلے کی تشکیل میں کردار ادا کرتی ہے۔والدین اگر بیٹی کو اپنی بات کہنے کا حق دیں تو اس کے اندر اعتماد پیدا ہوسکتا ہے۔

شوہر اگر بیوی کو محض ذمہ داریوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل شخصیت سمجھے تو بہت سی خاموشیاں خود بخود ٹوٹ سکتی ہیں۔اسی طرح بھائی، بیٹے اور معاشرے کے دیگر افراد بھی خواتین کے جذبات کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔عورت کی خاموشی کو ہمیشہ اس کی رضامندی سمجھ لینا بھی ایک بڑی غلطی ہے۔
کبھی وہ رشتہ بچانے کے لئے خاموش ہوتی ہے، کبھی والدین کی عزت کے لئے اور کبھی اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر۔
اس خاموشی کے پیچھے چھپی ہوئی داستان کو سمجھنے کے لئے صرف الفاظ نہیں، احساس بھی درکار ہوتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین کو اپنی رائے، پسند، ناپسند اور مستقبل کے بارے میں بات کرنے کا مناسب موقع دیا جائے۔گھر میں ایسا ماحول ہونا چاہیے جہاں بیٹی اپنے والدین سے خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ گفتگو کرسکے۔تعلیم بھی اس سلسلے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ تعلیم انسان کو اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کا شعور عطا کرتی ہے۔
لیکن صرف تعلیم کافی نہیں؛ سوچ اور رویوں میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔ہمیں عورت کو کمزور سمجھنے کے بجائے اس کی حساسیت اور قوتِ برداشت کو سمجھنا ہوگا۔اس کے جذبات کا احترام دراصل اس کی شخصیت کا احترام ہے۔جس معاشرے میں عورت کی بات سنی جاتی ہے، وہاں خاندانوں میں اعتماد اور رشتوں میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔لہٰذا خواتین کے دبتے ہوئے احساسات کا حل خاموشی کو مزید گہرا کرنا نہیں بلکہ مکالمے کے دروازے کھولنا ہے۔ضروری ہے کہ ہم بیٹی کو بولنے، سوال کرنے اور اپنی بات رکھنے کا حوصلہ دیں۔
بیوی کو شریکِ حیات سمجھیں، محض ذمہ داریوں کی تکمیل کرنے والی شخصیت نہیں۔ماں کے جذبات کو بھی اتنی ہی اہمیت دیں جتنی اس کی قربانیوں کو دیتے ہیں۔
جب عورت کے احساسات کو عزت ملے گی تو وہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک مضبوط خاندان اور بہتر معاشرے کی تعمیر میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکے گی۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ خواتین کے احساسات کیوں دبتے ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم انہیں سننے اور سمجھنے کے لئے کب تیار ہوں گے

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

خواتین کے دبتے احساس: ذمہ دار کون؟

 

قلم کار : چاہت النجم

خواتین معاشرے کا نصف حصہ ہیں، مگر افسوس کہ ان کے جذبات اور احساسات کو اکثر وہ اہمیت نہیں مل پاتی جس کے وہ مستحق ہیں۔عورت بھی ایک حساس دل، آزاد سوچ اور بے شمار خواہشات رکھنے والی انسان ہے، لیکن معاشرتی بندشیں اسے اپنے احساسات کے اظہار سے روک دیتی ہیں۔اس کے دل میں جنم لینے والی بہت سی باتیں زبان تک پہنچنے سے پہلے ہی خاموش ہوجاتی ہیں۔کبھی خاندان کی عزت کا حوالہ دے کر، کبھی سماج کے خوف سے اور کبھی رشتوں کی مصلحت کے نام پر اس کی آواز دبا دی جاتی ہے۔
بچپن ہی سے لڑکیوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ انہیں بہت کچھ برداشت کرنا ہے اور کم بولنا ہے۔ان سے صبر، قربانی اور خاموشی کی توقع تو کی جاتی ہے، مگر ان کے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کم ہی کی جاتی ہے۔

نتیجتاً بہت سی خواتین اپنے دکھ، خواہشات، محرومیوں اور خوابوں کو دل کی تہوں میں دفن کرتی رہتی ہیں۔
یہ دبے ہوئے احساسات بسا اوقات تنہائی، بے اطمینانی اور اندرونی کرب کا سبب بن جاتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ آخر اس صورتِ حال کا ذمہ دار کون ہے؟اس کا جواب کسی ایک فرد یا طبقے کو قرار دینا شاید درست نہیں ہوگا۔خاندان، معاشرتی رویے، فرسودہ تصورات اور بعض اوقات خود عورت کی تربیت بھی اس مسئلے کی تشکیل میں کردار ادا کرتی ہے۔والدین اگر بیٹی کو اپنی بات کہنے کا حق دیں تو اس کے اندر اعتماد پیدا ہوسکتا ہے۔

شوہر اگر بیوی کو محض ذمہ داریوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل شخصیت سمجھے تو بہت سی خاموشیاں خود بخود ٹوٹ سکتی ہیں۔اسی طرح بھائی، بیٹے اور معاشرے کے دیگر افراد بھی خواتین کے جذبات کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔عورت کی خاموشی کو ہمیشہ اس کی رضامندی سمجھ لینا بھی ایک بڑی غلطی ہے۔
کبھی وہ رشتہ بچانے کے لئے خاموش ہوتی ہے، کبھی والدین کی عزت کے لئے اور کبھی اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر۔
اس خاموشی کے پیچھے چھپی ہوئی داستان کو سمجھنے کے لئے صرف الفاظ نہیں، احساس بھی درکار ہوتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین کو اپنی رائے، پسند، ناپسند اور مستقبل کے بارے میں بات کرنے کا مناسب موقع دیا جائے۔گھر میں ایسا ماحول ہونا چاہیے جہاں بیٹی اپنے والدین سے خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ گفتگو کرسکے۔تعلیم بھی اس سلسلے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ تعلیم انسان کو اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کا شعور عطا کرتی ہے۔
لیکن صرف تعلیم کافی نہیں؛ سوچ اور رویوں میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔ہمیں عورت کو کمزور سمجھنے کے بجائے اس کی حساسیت اور قوتِ برداشت کو سمجھنا ہوگا۔اس کے جذبات کا احترام دراصل اس کی شخصیت کا احترام ہے۔جس معاشرے میں عورت کی بات سنی جاتی ہے، وہاں خاندانوں میں اعتماد اور رشتوں میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔لہٰذا خواتین کے دبتے ہوئے احساسات کا حل خاموشی کو مزید گہرا کرنا نہیں بلکہ مکالمے کے دروازے کھولنا ہے۔ضروری ہے کہ ہم بیٹی کو بولنے، سوال کرنے اور اپنی بات رکھنے کا حوصلہ دیں۔
بیوی کو شریکِ حیات سمجھیں، محض ذمہ داریوں کی تکمیل کرنے والی شخصیت نہیں۔ماں کے جذبات کو بھی اتنی ہی اہمیت دیں جتنی اس کی قربانیوں کو دیتے ہیں۔
جب عورت کے احساسات کو عزت ملے گی تو وہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک مضبوط خاندان اور بہتر معاشرے کی تعمیر میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکے گی۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ خواتین کے احساسات کیوں دبتے ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم انہیں سننے اور سمجھنے کے لئے کب تیار ہوں گے

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں