گاندھی کا فکری سفر اور چند کتابیں و شخصیات

پروفیسر مشتاق احمد
مہاتما گاندھی (2؍ اکتوبر 1869۔30؍ جنوری 1948)بیسویں صدی کی ان غیر معمولی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کے افکارونظریات  نے صرف ہندوستان کی آزادی کی تحریک کو نئی سمت نہیں دی بلکہ پوری دنیا میں سیاست، اخلاق، عدم تشدد، انسانی حقوق اور سماجی انصاف کے مباحث کو متاثر کیا۔ گاندھی کا نام آج بھی ستیہ، اہنسا، عدم تشدد، سادگی، خود احتسابی اور اخلاقی سیاست کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ لیکن یہ سوال بھی کم اہم نہیں کہ جس شخصیت نے دنیا کو اتنا متاثر کیا، خود اس کی فکری تشکیل کن کتابوں، فلسفیوں اور شخصیات سے ہوئی؟گاندھی کو اگر صرف ایک سیاسی رہنما سمجھا جائے تو ان کی شخصیت کا ایک بڑا حصہ ہماری نگاہ سے اوجھل رہ جاتا ہے۔ وہ بنیادی طور پر ایک اخلاقی اور تجرباتی مفکر تھے۔ ان کے لیے زندگی کسی مجرد فلسفے کا نام نہیں بلکہ ’’سچائی کے تجربات‘‘ کا میدان تھی۔ ان کی خودنوشت کا عنوان ہی The Story of My Experiments with Truth ہے۔ اس عنوان میں ان کے پورے فکری مزاج کی جھلک ملتی ہے۔وہ کسی نظریے کو محض اس لیے قبول نہیں کرتے تھے کہ وہ کسی عظیم فلسفی نے پیش کیا ہے، بلکہ اسے اپنی زندگی میں آزمانے کی کوشش کرتے تھے۔
گاندھی کی فکری زندگی پر سب سے گہرا اثر بھگود گیتا کا تھا۔ انہوں نے گیتا کو محض مذہبی کتاب کے طور پر نہیں پڑھا بلکہ اسے اخلاقی اور روحانی رہنمائی کا سرچشمہ سمجھا۔ خصوصاً ’’fu”dke deZ‘‘‘ (نشکام کرم)یعنی نتیجے کی خواہش سے آزاد ہوکر فرض ادا کرنے کا تصور ان کے سیاسی اور اخلاقی عمل میں نمایاں نظر آتا ہے۔گاندھی کے نزدیک گیتا کا اصل پیغام جنگ کی ترغیب نہیں بلکہ انسان کے اندر موجود اخلاقی کشمکش کا حل تھا۔ وہ گیتا کے کرداروں اور واقعات کو باطنی جدوجہد کی علامت کے طور پر بھی دیکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی سیاسی جدوجہد میں مقصد اور ذریعہ دونوں کی پاکیزگی اہم ہوگئی۔گاندھی کے لیے آزادی صرف اقتدار کی منتقلی کا نام نہیں تھی۔ وہ آزادی کو انسان کی اخلاقی آزادی، خود انحصاری اور خود احتسابی سے بھی جوڑتے تھے۔ اسی لیے ’’سوراج‘‘ ان کے ہاں صرف سیاسی اصطلاح نہیں بلکہ ایک اخلاقی تصور بھی بن جاتا ہے۔یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ گاندھی صرف گیتا ہی نہیں بلکہ دوسرے مذاہب کی کتابوں کا بھی گہرا مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ بقول گاندھی:
’’میں نے قرآن مجید کا مطالعہ ایک سے زیادہ بار کیا ہے ۔ میرا مذہب مجھے اس بات کی اجازت دیتا ہے ، مجھے اس قابل بناتا ہے، مجھے اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ میں دنیا کے تمام عظیم مذاہب سے اکتسابِ فیض کروں۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ قرآن مجید کی تعلیمات کی بنیاد عدمِ تشدد پر رہی ہے ۔ اس میں یہی کہا گیاہے کہ تشدد پر عدمِ تشدد کو ہمیشہ ترجیح حاصل رہے گی ۔عدمِ تشدد کی تاکید فرض کی طرح کی گئی ہے اور تشدد کی ا جازت اسی وقت دی گئی ہے جب کہ اس کا استعمال ضروری ہو جائے ‘‘۔
(گاندھی جی کی غیر معمولی قیادت۔ مصنف: پاسکل ایلن نظارد۔ مترجم: رفعت صدیقی، ص:67۔اردو اکادمی، دہلی 2013ء)
اور گاندھی کی فکرونظر میں بائبل اور حضرت عیسیٰ کے پیغامات کی اہمیت بھی مسلّم تھی ۔ وہ کہتے ہیں :
’’یسومسیح شاید انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ مقاومت کرنے والے انسان رہے ہیں ۔ ان کا تشدد کا نظریہ سب سے ارفع تھا ‘‘ (ایضاً۔ص:67)
ظاہر ہے کہ گاندھی کی قوم پرستی کا نظریہ کائناتی تھا۔ وہ اکثر یہ بھی کہا کرتے تھے کہ وہ اتنے ہی ہند و ہیں جتنے مسلم ، عیسائی، سکھ ، بدھسٹ، جین یا پارسی۔وہ اپنے دعائیہ اجتماعات میں بھی تمام مذاہب کی مقدس کتابوں کے پڑھنے کو اولیت دیتے تھے ۔ غرض کہ گاندھی کی فکر ونظر کا محور ومرکز خدمتِ خلق تھا اور وہ مذہب انسانیت کے علمبردار تھے۔
گاندھی کی فکری تشکیل میں جان رسکن ؔ(8؍ فروری 1819۔20جنوری 1900ء)کی کتاب  Unto This Last کا مقام غیر معمولی ہے۔ جنوبی افریقہ میں قیام کے دوران جب گاندھی نے اس کتاب کا مطالعہ کیا تو اس نے ان کے معاشی اور سماجی خیالات پر گہرا اثر ڈالا۔رسکنؔ کے خیالات سے گاندھی نے بنیادی طور پر تین اصول اخذ کیے،فرد کی بھلائی سب کی بھلائی سے وابستہ ہے،محنت کی مختلف شکلوں میں انسانی وقار کا بنیادی رشتہ موجود ہے،اور ایک سادہ، محنت پر مبنی اجتماعی زندگی زیادہ انسانی معاشرے کی بنیاد بن سکتی ہے۔اسی فکری اثر نے گاندھی کو ’’سروودیہ‘‘ کے تصور کی طرف بڑھایا،یعنی سب کی بھلائی۔ بعد میں انہوں نے Unto This Last کا گجراتی ترجمہ بھی کیا اور اسے ’’سروودیہ‘‘ کے عنوان سے پیش کیا۔
یہاں گاندھی کے فکری طریقۂ کار کو سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے رسکن کو صرف پڑھا نہیں، بلکہ کتاب کے خیالات کو اجتماعی زندگی میں آزمانے کی کوشش کی۔ جنوبی افریقہ میں فینکس سیٹلمنٹ اور بعد میں ہندوستان میں آشرم کی زندگی اسی تجرباتی فکر کی مثالیں ہیں۔گاندھی پر روسی ادیب اور مفکر لیو ٹالسٹائی (9؍ ستمبر 1828۔20؍ نومبر 1910ء)کا اثر بھی بہت نمایاں تھا۔ ٹالسٹائی کی کتاب  The Kingdom of God Is Within You نے گاندھی کو مذہب، اخلاق اور ریاستی طاقت کے تعلق پر غور کرنے کے لیے متاثر کیا۔
ٹالسٹائی کا بنیادی تصور یہ تھا کہ حقیقی اخلاقی قوت انسان کے باطن میں موجود ہے اور ظلم کا جواب اسی نوعیت کے تشدد سے دینا ظلم کے دائرے کو مزید وسیع کرتا ہے۔ گاندھی نے ان خیالات کو ہندوستانی حالات میں ایک نئے سیاسی تجربے کے طور پر برتا۔گاندھی اور ٹالسٹائی کے درمیان خط و کتابت بھی ہوئی۔ گاندھی نے جنوبی افریقہ میں قائم اپنی کمیونٹی کا نام ’’ٹالسٹائی فارم‘‘ رکھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹالسٹائی ان کے لیے محض ایک ادیب نہیں بلکہ ایک فکری رفیق کی حیثیت رکھتے تھے۔تاہم گاندھی کی عدم تشدد کی فکر کو محض ٹالسٹائی کا اثر قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اس کے سرچشمے ہندوستانی مذہبی و فلسفیانہ روایت، جین مت، بدھ مت، گیتا اور دیگر اخلاقی تصورات میں بھی تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ گاندھی کی انفرادیت یہ تھی کہ انہوں نے مختلف فکری سرچشموں کو اپنی زندگی کے تجربات میں ایک دوسرے سے مربوط کیا۔
امریکی مفکر ہنری ڈیوڈ تھورو(12جولائی1817۔6؍ مئی 1862ء) کی تحریر   Disobedience Civilنے بھی گاندھی کے سیاسی فکر پر اثر ڈالا۔ تھورو ؔکا بنیادی استدلال یہ تھا کہ جب ریاست کا قانون اخلاقی اصولوں سے متصادم ہوجائے تو فرد کی اخلاقی ذمہ داری محض قانون کی اطاعت نہیں بلکہ اپنے ضمیر کی آواز سننا بھی ہے۔گاندھی نے اس خیال کو ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں ایک وسیع تر اخلاقی اور سیاسی حکمت عملی میں تبدیل کیا۔ ان کے لیے سول نافرمانی کا مقصد ریاست کو شکست دینا نہیں بلکہ ناانصافی کو اخلاقی طور پر بے نقاب کرنا اور مخالف کے ضمیر کو بیدار کرنا تھا۔یہیں سے گاندھی کی سیاست میں ایک بنیادی فرق سامنے آتا ہے۔ روایتی سیاست میں طاقت کو اکثر مخالف کو زیر کرنے کے وسیلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جبکہ گاندھی طاقت کو اخلاقی دباؤ اور عوامی شرکت کے ساتھ جوڑتے ہیں۔
گاندھی کی روحانی تشکیل میں شریمد راج چندر (9؍ نومبر 1867۔9؍اپریل 1901ء)کا ذکر بھی ضروری ہے۔ گاندھی نے انہیں اپنا روحانی رہنما قرار دینے کے بجائے ایک ایسے شخص کے طور پر یاد کیا جس نے ان کی مذہبی اور اخلاقی الجھنوں میں رہنمائی کی۔راج چندر کے اثر سے گاندھی کے اندر خود احتسابی، سچائی، ضبطِ نفس اور مذہبی رواداری کے تصورات مضبوط ہوئے۔ جین مت کے عدم تشدد اور اخلاقی نظم و ضبط کے اثرات بھی گاندھی کی شخصیت میں واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔لیکن گاندھی کسی ایک مذہبی روایت کے اسیر نہیں ہوئے۔ انہوں نے ہندو، جین، بدھ، عیسائی اور اسلامی روایات سے اخلاقی عناصر اخذ کرنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا مذہبی تصور کثرت میں وحدت اور باہمی احترام کی طرف جاتا ہے۔
گاندھی نے بائبل کے Sermon on the Mountسے بھی گہرا اثر قبول کیا۔ بالخصوص دشمن سے محبت، بدی کا جواب بدی سے نہ دینے اور اخلاقی بلندی کے تصورات نے ان کے ذہن پر اثر ڈالا۔یہ اثر اس بات کی مثال ہے کہ گاندھی کے لیے مذہب شناخت کی دیوار نہیں بلکہ اخلاقی تجربے کا وسیلہ تھا۔ وہ مختلف مذہبی روایتوں میں موجود مشترک اخلاقی اقدار تلاش کرتے تھے۔اسی لیے گاندھی کی مذہبی فکر کو سمجھنے کے لیے انہیں کسی ایک مذہبی خانے میں محدود کرنا ان کے فکری مزاج کو محدود کرنا ہوگا۔گاندھی کے فکری سفر کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ انہوں نے جن مفکرین سے اثر قبول کیا، ان کی محض نقل نہیں کی۔ انہوں نے مختلف کتابوں اور شخصیات کے خیالات کو ہندوستانی تہذیب، مذہب، سماج اور سیاسی حالات کے ساتھ جوڑ کر ایک نیا فکری تجربہ تشکیل دیا۔رسکن سے انہیں معاشی مساوات اور محنت کی عظمت کا تصور ملا، ٹالسٹائی سے اخلاقی مزاحمت اور عدم تشدد کی نئی تعبیر کو تقویت ملی، تھورو سے سول نافرمانی کا تصور ملا، گیتا سے فرض اور بے غرض عمل کی اخلاقی بنیاد ملی، جبکہ ہندوستانی مذہبی روایت نے ان کے اندر سچائی اور اہنسا کے تصورات کو گہرا کیا۔اس طرح گاندھی کا فلسفہ کسی ایک کتاب کا فلسفہ نہیں بلکہ مطالعے، تجربے اور خود احتسابی سے تشکیل پانے والا فلسفہ ہے۔پھر گاندھی نے دنیا کو کیا دیا؟گاندھی کے افکار کا اثر ہندوستان کی آزادی کی تحریک تک محدود نہیں رہا۔ ان کے عدم تشدد اور سول مزاحمت کے تصورات نے بعد کی کئی عالمی تحریکوں کے لیے فکری حوالہ فراہم کیا۔ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے امریکی شہری حقوق کی جدوجہد میں گاندھی کے عدم تشدد کے طریقہ کار کا مطالعہ کیا۔ نیلسن منڈیلا اور دیگر عالمی رہنماؤں کے سیاسی و اخلاقی مباحث میں بھی گاندھی کا حوالہ مختلف صورتوں میں سامنے آتا ہے، اگرچہ ہر رہنما نے اپنے مخصوص تاریخی حالات میں الگ طریقے اختیار کیے۔
غرض کہ گاندھی کا سب سے اہم پیغام شاید یہ ہے کہ سیاست کو اخلاق سے مکمل طور پر جدا نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے نزدیک مقصد کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اگر اسے حاصل کرنے کے ذرائع انسانی وقار اور اخلاقی اصولوں کو پامال کریں تو کامیابی اپنے اندر ایک بنیادی تضاد پیدا کرلیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ گاندھی کے لیے ’’سادگی‘‘ بھی سیاسی تصور بن جاتی ہے، ’’خودی‘‘ سماجی ذمہ داری سے جڑ جاتی ہے، ’’سوراج‘‘ خود احتسابی سے، اور ’’اہنسا‘‘ محض عدم تشدد نہیں بلکہ دوسرے انسان کی عزت کے اعتراف سے۔گاندھی کا سب سے بڑا سبق پڑھنا، سوچنا اور آزماناہے۔گاندھی کی زندگی ہمیں ایک اور اہم سبق دیتی ہے۔ عظیم شخصیتیں بھی خلا میں پیدا نہیں ہوتیں، وہ اپنے عہد، کتابوں، اساتذہ، مفکرین اور تہذیبی روایتوں سے سیکھتی ہیں۔ لیکن بڑا مفکر وہ ہوتا ہے جو حاصل شدہ علم کو اپنی زندگی کے تجربے سے گزار کر نئی معنویت پیدا کرے۔
گاندھی نے گیتا پڑھی، رسکن کو پڑھا، ٹالسٹائی کو پڑھا، تھورو کو پڑھا، بائبل سے استفادہ کیا، جین روایت سے متاثر ہوئے، بدھزم کو فکر ونظر کا حصہ بنایا اور قرآن کی اخلاقی تعلیم کو ایک صالح انسانی معاشرے کے لئے لازم قرار دیا اور ہندوستانی روحانی روایت سے اپنی اخلاقی
 بنیاد حاصل کی۔ پھر ان تمام اثرات کو انہوں نے اپنی زندگی میں آزمایا۔اسی لیے گاندھی کا فکری سفر دراصل ایک ایسے طالب علم کا سفر ہے جو زندگی بھر سیکھتا رہا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت آج بھی مطالعے کا موضوع ہے۔گاندھی نے دنیا کو عدم تشدد کا پیغام ضرور دیا، لیکن اس پیغام کے پیچھے ایک طویل مطالعہ، مسلسل خود احتسابی اور عملی تجربات کی تاریخ موجود ہے۔ جس طرح دنیا نے گاندھی سے کچھ سیکھا، اسی طرح گاندھی نے بھی دنیا کے بڑے ذہنوں اور اپنی تہذیبی روایت سے سیکھا۔اس اعتبار سے گاندھی کی شخصیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ فکر کسی ایک ذہن کی ملکیت نہیں ہوتی، وہ مختلف تجربات، کتابوں، تہذیبوں اور انسانوں کے درمیان مکالمے سے تشکیل پاتی ہے۔ گاندھی کا اصل کمال شاید یہی تھا کہ انہوں نے اپنے مطالعے کو زندگی بنایا اور اپنی زندگی کو ایک ایسا تجربہ بنا دیا جس پر دنیا آج بھی غور کررہی ہے اور وہ عالمی برادری کے لئے امن وشانتی کے پیامبر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

ایئر مارشل آشوتوش ڈکشٹ فضائیہ کے سربراہ مقرر

جنگ نیوز نئی دہلی/ حکومت نے ایئر مارشل آشوتوش ڈکشٹ...

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

ایئر مارشل آشوتوش ڈکشٹ فضائیہ کے سربراہ مقرر

جنگ نیوز نئی دہلی/ حکومت نے ایئر مارشل آشوتوش ڈکشٹ...

گاندھی کا فکری سفر اور چند کتابیں و شخصیات

پروفیسر مشتاق احمد
مہاتما گاندھی (2؍ اکتوبر 1869۔30؍ جنوری 1948)بیسویں صدی کی ان غیر معمولی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کے افکارونظریات  نے صرف ہندوستان کی آزادی کی تحریک کو نئی سمت نہیں دی بلکہ پوری دنیا میں سیاست، اخلاق، عدم تشدد، انسانی حقوق اور سماجی انصاف کے مباحث کو متاثر کیا۔ گاندھی کا نام آج بھی ستیہ، اہنسا، عدم تشدد، سادگی، خود احتسابی اور اخلاقی سیاست کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ لیکن یہ سوال بھی کم اہم نہیں کہ جس شخصیت نے دنیا کو اتنا متاثر کیا، خود اس کی فکری تشکیل کن کتابوں، فلسفیوں اور شخصیات سے ہوئی؟گاندھی کو اگر صرف ایک سیاسی رہنما سمجھا جائے تو ان کی شخصیت کا ایک بڑا حصہ ہماری نگاہ سے اوجھل رہ جاتا ہے۔ وہ بنیادی طور پر ایک اخلاقی اور تجرباتی مفکر تھے۔ ان کے لیے زندگی کسی مجرد فلسفے کا نام نہیں بلکہ ’’سچائی کے تجربات‘‘ کا میدان تھی۔ ان کی خودنوشت کا عنوان ہی The Story of My Experiments with Truth ہے۔ اس عنوان میں ان کے پورے فکری مزاج کی جھلک ملتی ہے۔وہ کسی نظریے کو محض اس لیے قبول نہیں کرتے تھے کہ وہ کسی عظیم فلسفی نے پیش کیا ہے، بلکہ اسے اپنی زندگی میں آزمانے کی کوشش کرتے تھے۔
گاندھی کی فکری زندگی پر سب سے گہرا اثر بھگود گیتا کا تھا۔ انہوں نے گیتا کو محض مذہبی کتاب کے طور پر نہیں پڑھا بلکہ اسے اخلاقی اور روحانی رہنمائی کا سرچشمہ سمجھا۔ خصوصاً ’’fu”dke deZ‘‘‘ (نشکام کرم)یعنی نتیجے کی خواہش سے آزاد ہوکر فرض ادا کرنے کا تصور ان کے سیاسی اور اخلاقی عمل میں نمایاں نظر آتا ہے۔گاندھی کے نزدیک گیتا کا اصل پیغام جنگ کی ترغیب نہیں بلکہ انسان کے اندر موجود اخلاقی کشمکش کا حل تھا۔ وہ گیتا کے کرداروں اور واقعات کو باطنی جدوجہد کی علامت کے طور پر بھی دیکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی سیاسی جدوجہد میں مقصد اور ذریعہ دونوں کی پاکیزگی اہم ہوگئی۔گاندھی کے لیے آزادی صرف اقتدار کی منتقلی کا نام نہیں تھی۔ وہ آزادی کو انسان کی اخلاقی آزادی، خود انحصاری اور خود احتسابی سے بھی جوڑتے تھے۔ اسی لیے ’’سوراج‘‘ ان کے ہاں صرف سیاسی اصطلاح نہیں بلکہ ایک اخلاقی تصور بھی بن جاتا ہے۔یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ گاندھی صرف گیتا ہی نہیں بلکہ دوسرے مذاہب کی کتابوں کا بھی گہرا مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ بقول گاندھی:
’’میں نے قرآن مجید کا مطالعہ ایک سے زیادہ بار کیا ہے ۔ میرا مذہب مجھے اس بات کی اجازت دیتا ہے ، مجھے اس قابل بناتا ہے، مجھے اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ میں دنیا کے تمام عظیم مذاہب سے اکتسابِ فیض کروں۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ قرآن مجید کی تعلیمات کی بنیاد عدمِ تشدد پر رہی ہے ۔ اس میں یہی کہا گیاہے کہ تشدد پر عدمِ تشدد کو ہمیشہ ترجیح حاصل رہے گی ۔عدمِ تشدد کی تاکید فرض کی طرح کی گئی ہے اور تشدد کی ا جازت اسی وقت دی گئی ہے جب کہ اس کا استعمال ضروری ہو جائے ‘‘۔
(گاندھی جی کی غیر معمولی قیادت۔ مصنف: پاسکل ایلن نظارد۔ مترجم: رفعت صدیقی، ص:67۔اردو اکادمی، دہلی 2013ء)
اور گاندھی کی فکرونظر میں بائبل اور حضرت عیسیٰ کے پیغامات کی اہمیت بھی مسلّم تھی ۔ وہ کہتے ہیں :
’’یسومسیح شاید انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ مقاومت کرنے والے انسان رہے ہیں ۔ ان کا تشدد کا نظریہ سب سے ارفع تھا ‘‘ (ایضاً۔ص:67)
ظاہر ہے کہ گاندھی کی قوم پرستی کا نظریہ کائناتی تھا۔ وہ اکثر یہ بھی کہا کرتے تھے کہ وہ اتنے ہی ہند و ہیں جتنے مسلم ، عیسائی، سکھ ، بدھسٹ، جین یا پارسی۔وہ اپنے دعائیہ اجتماعات میں بھی تمام مذاہب کی مقدس کتابوں کے پڑھنے کو اولیت دیتے تھے ۔ غرض کہ گاندھی کی فکر ونظر کا محور ومرکز خدمتِ خلق تھا اور وہ مذہب انسانیت کے علمبردار تھے۔
گاندھی کی فکری تشکیل میں جان رسکن ؔ(8؍ فروری 1819۔20جنوری 1900ء)کی کتاب  Unto This Last کا مقام غیر معمولی ہے۔ جنوبی افریقہ میں قیام کے دوران جب گاندھی نے اس کتاب کا مطالعہ کیا تو اس نے ان کے معاشی اور سماجی خیالات پر گہرا اثر ڈالا۔رسکنؔ کے خیالات سے گاندھی نے بنیادی طور پر تین اصول اخذ کیے،فرد کی بھلائی سب کی بھلائی سے وابستہ ہے،محنت کی مختلف شکلوں میں انسانی وقار کا بنیادی رشتہ موجود ہے،اور ایک سادہ، محنت پر مبنی اجتماعی زندگی زیادہ انسانی معاشرے کی بنیاد بن سکتی ہے۔اسی فکری اثر نے گاندھی کو ’’سروودیہ‘‘ کے تصور کی طرف بڑھایا،یعنی سب کی بھلائی۔ بعد میں انہوں نے Unto This Last کا گجراتی ترجمہ بھی کیا اور اسے ’’سروودیہ‘‘ کے عنوان سے پیش کیا۔
یہاں گاندھی کے فکری طریقۂ کار کو سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے رسکن کو صرف پڑھا نہیں، بلکہ کتاب کے خیالات کو اجتماعی زندگی میں آزمانے کی کوشش کی۔ جنوبی افریقہ میں فینکس سیٹلمنٹ اور بعد میں ہندوستان میں آشرم کی زندگی اسی تجرباتی فکر کی مثالیں ہیں۔گاندھی پر روسی ادیب اور مفکر لیو ٹالسٹائی (9؍ ستمبر 1828۔20؍ نومبر 1910ء)کا اثر بھی بہت نمایاں تھا۔ ٹالسٹائی کی کتاب  The Kingdom of God Is Within You نے گاندھی کو مذہب، اخلاق اور ریاستی طاقت کے تعلق پر غور کرنے کے لیے متاثر کیا۔
ٹالسٹائی کا بنیادی تصور یہ تھا کہ حقیقی اخلاقی قوت انسان کے باطن میں موجود ہے اور ظلم کا جواب اسی نوعیت کے تشدد سے دینا ظلم کے دائرے کو مزید وسیع کرتا ہے۔ گاندھی نے ان خیالات کو ہندوستانی حالات میں ایک نئے سیاسی تجربے کے طور پر برتا۔گاندھی اور ٹالسٹائی کے درمیان خط و کتابت بھی ہوئی۔ گاندھی نے جنوبی افریقہ میں قائم اپنی کمیونٹی کا نام ’’ٹالسٹائی فارم‘‘ رکھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹالسٹائی ان کے لیے محض ایک ادیب نہیں بلکہ ایک فکری رفیق کی حیثیت رکھتے تھے۔تاہم گاندھی کی عدم تشدد کی فکر کو محض ٹالسٹائی کا اثر قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اس کے سرچشمے ہندوستانی مذہبی و فلسفیانہ روایت، جین مت، بدھ مت، گیتا اور دیگر اخلاقی تصورات میں بھی تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ گاندھی کی انفرادیت یہ تھی کہ انہوں نے مختلف فکری سرچشموں کو اپنی زندگی کے تجربات میں ایک دوسرے سے مربوط کیا۔
امریکی مفکر ہنری ڈیوڈ تھورو(12جولائی1817۔6؍ مئی 1862ء) کی تحریر   Disobedience Civilنے بھی گاندھی کے سیاسی فکر پر اثر ڈالا۔ تھورو ؔکا بنیادی استدلال یہ تھا کہ جب ریاست کا قانون اخلاقی اصولوں سے متصادم ہوجائے تو فرد کی اخلاقی ذمہ داری محض قانون کی اطاعت نہیں بلکہ اپنے ضمیر کی آواز سننا بھی ہے۔گاندھی نے اس خیال کو ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں ایک وسیع تر اخلاقی اور سیاسی حکمت عملی میں تبدیل کیا۔ ان کے لیے سول نافرمانی کا مقصد ریاست کو شکست دینا نہیں بلکہ ناانصافی کو اخلاقی طور پر بے نقاب کرنا اور مخالف کے ضمیر کو بیدار کرنا تھا۔یہیں سے گاندھی کی سیاست میں ایک بنیادی فرق سامنے آتا ہے۔ روایتی سیاست میں طاقت کو اکثر مخالف کو زیر کرنے کے وسیلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جبکہ گاندھی طاقت کو اخلاقی دباؤ اور عوامی شرکت کے ساتھ جوڑتے ہیں۔
گاندھی کی روحانی تشکیل میں شریمد راج چندر (9؍ نومبر 1867۔9؍اپریل 1901ء)کا ذکر بھی ضروری ہے۔ گاندھی نے انہیں اپنا روحانی رہنما قرار دینے کے بجائے ایک ایسے شخص کے طور پر یاد کیا جس نے ان کی مذہبی اور اخلاقی الجھنوں میں رہنمائی کی۔راج چندر کے اثر سے گاندھی کے اندر خود احتسابی، سچائی، ضبطِ نفس اور مذہبی رواداری کے تصورات مضبوط ہوئے۔ جین مت کے عدم تشدد اور اخلاقی نظم و ضبط کے اثرات بھی گاندھی کی شخصیت میں واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔لیکن گاندھی کسی ایک مذہبی روایت کے اسیر نہیں ہوئے۔ انہوں نے ہندو، جین، بدھ، عیسائی اور اسلامی روایات سے اخلاقی عناصر اخذ کرنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا مذہبی تصور کثرت میں وحدت اور باہمی احترام کی طرف جاتا ہے۔
گاندھی نے بائبل کے Sermon on the Mountسے بھی گہرا اثر قبول کیا۔ بالخصوص دشمن سے محبت، بدی کا جواب بدی سے نہ دینے اور اخلاقی بلندی کے تصورات نے ان کے ذہن پر اثر ڈالا۔یہ اثر اس بات کی مثال ہے کہ گاندھی کے لیے مذہب شناخت کی دیوار نہیں بلکہ اخلاقی تجربے کا وسیلہ تھا۔ وہ مختلف مذہبی روایتوں میں موجود مشترک اخلاقی اقدار تلاش کرتے تھے۔اسی لیے گاندھی کی مذہبی فکر کو سمجھنے کے لیے انہیں کسی ایک مذہبی خانے میں محدود کرنا ان کے فکری مزاج کو محدود کرنا ہوگا۔گاندھی کے فکری سفر کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ انہوں نے جن مفکرین سے اثر قبول کیا، ان کی محض نقل نہیں کی۔ انہوں نے مختلف کتابوں اور شخصیات کے خیالات کو ہندوستانی تہذیب، مذہب، سماج اور سیاسی حالات کے ساتھ جوڑ کر ایک نیا فکری تجربہ تشکیل دیا۔رسکن سے انہیں معاشی مساوات اور محنت کی عظمت کا تصور ملا، ٹالسٹائی سے اخلاقی مزاحمت اور عدم تشدد کی نئی تعبیر کو تقویت ملی، تھورو سے سول نافرمانی کا تصور ملا، گیتا سے فرض اور بے غرض عمل کی اخلاقی بنیاد ملی، جبکہ ہندوستانی مذہبی روایت نے ان کے اندر سچائی اور اہنسا کے تصورات کو گہرا کیا۔اس طرح گاندھی کا فلسفہ کسی ایک کتاب کا فلسفہ نہیں بلکہ مطالعے، تجربے اور خود احتسابی سے تشکیل پانے والا فلسفہ ہے۔پھر گاندھی نے دنیا کو کیا دیا؟گاندھی کے افکار کا اثر ہندوستان کی آزادی کی تحریک تک محدود نہیں رہا۔ ان کے عدم تشدد اور سول مزاحمت کے تصورات نے بعد کی کئی عالمی تحریکوں کے لیے فکری حوالہ فراہم کیا۔ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے امریکی شہری حقوق کی جدوجہد میں گاندھی کے عدم تشدد کے طریقہ کار کا مطالعہ کیا۔ نیلسن منڈیلا اور دیگر عالمی رہنماؤں کے سیاسی و اخلاقی مباحث میں بھی گاندھی کا حوالہ مختلف صورتوں میں سامنے آتا ہے، اگرچہ ہر رہنما نے اپنے مخصوص تاریخی حالات میں الگ طریقے اختیار کیے۔
غرض کہ گاندھی کا سب سے اہم پیغام شاید یہ ہے کہ سیاست کو اخلاق سے مکمل طور پر جدا نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے نزدیک مقصد کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اگر اسے حاصل کرنے کے ذرائع انسانی وقار اور اخلاقی اصولوں کو پامال کریں تو کامیابی اپنے اندر ایک بنیادی تضاد پیدا کرلیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ گاندھی کے لیے ’’سادگی‘‘ بھی سیاسی تصور بن جاتی ہے، ’’خودی‘‘ سماجی ذمہ داری سے جڑ جاتی ہے، ’’سوراج‘‘ خود احتسابی سے، اور ’’اہنسا‘‘ محض عدم تشدد نہیں بلکہ دوسرے انسان کی عزت کے اعتراف سے۔گاندھی کا سب سے بڑا سبق پڑھنا، سوچنا اور آزماناہے۔گاندھی کی زندگی ہمیں ایک اور اہم سبق دیتی ہے۔ عظیم شخصیتیں بھی خلا میں پیدا نہیں ہوتیں، وہ اپنے عہد، کتابوں، اساتذہ، مفکرین اور تہذیبی روایتوں سے سیکھتی ہیں۔ لیکن بڑا مفکر وہ ہوتا ہے جو حاصل شدہ علم کو اپنی زندگی کے تجربے سے گزار کر نئی معنویت پیدا کرے۔
گاندھی نے گیتا پڑھی، رسکن کو پڑھا، ٹالسٹائی کو پڑھا، تھورو کو پڑھا، بائبل سے استفادہ کیا، جین روایت سے متاثر ہوئے، بدھزم کو فکر ونظر کا حصہ بنایا اور قرآن کی اخلاقی تعلیم کو ایک صالح انسانی معاشرے کے لئے لازم قرار دیا اور ہندوستانی روحانی روایت سے اپنی اخلاقی
 بنیاد حاصل کی۔ پھر ان تمام اثرات کو انہوں نے اپنی زندگی میں آزمایا۔اسی لیے گاندھی کا فکری سفر دراصل ایک ایسے طالب علم کا سفر ہے جو زندگی بھر سیکھتا رہا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت آج بھی مطالعے کا موضوع ہے۔گاندھی نے دنیا کو عدم تشدد کا پیغام ضرور دیا، لیکن اس پیغام کے پیچھے ایک طویل مطالعہ، مسلسل خود احتسابی اور عملی تجربات کی تاریخ موجود ہے۔ جس طرح دنیا نے گاندھی سے کچھ سیکھا، اسی طرح گاندھی نے بھی دنیا کے بڑے ذہنوں اور اپنی تہذیبی روایت سے سیکھا۔اس اعتبار سے گاندھی کی شخصیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ فکر کسی ایک ذہن کی ملکیت نہیں ہوتی، وہ مختلف تجربات، کتابوں، تہذیبوں اور انسانوں کے درمیان مکالمے سے تشکیل پاتی ہے۔ گاندھی کا اصل کمال شاید یہی تھا کہ انہوں نے اپنے مطالعے کو زندگی بنایا اور اپنی زندگی کو ایک ایسا تجربہ بنا دیا جس پر دنیا آج بھی غور کررہی ہے اور وہ عالمی برادری کے لئے امن وشانتی کے پیامبر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں