غزل : محمد ایوبؔ

 

oplus_2097185

محمد ایوبؔ

ان کی شوخ آنکھوں میں اک منظر قید ہے
ڈوبنے والوں کے لیے سمندر قید ہے
مسکراتے ہیں تو کھل جاتی ہیں کلیاں ہر سو
ان کے ہونٹوں پہ کوئی نغمہ و سُر قید ہے
ایک لمحہ ہی دیکھنا عمر بھر کافی ہوا
ان کی آنکھوں میں مرا سارا مقدر قید ہے
ان کے چہرے کی ضیا دیکھ کے حیرت ہوئی
چاند بھی شاید کسی پردے کے اندر قید ہے
ان کی خاموشی میں بھی داستانیں ہیں چھپی
ہر سکوتِ چشم میں حرفِ معتبر قید ہے
جس کو دنیا صرف اک روپ سمجھتی ہی رہی
اس کے باطن میں مگر شہرِ پیکر قید ہے
ایوبؔ ان سے دور رہنا بھی کہاں ممکن ہوا
دل میں یادوں کا مسلسل اک حشر قید ہے

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

ایئر مارشل آشوتوش ڈکشٹ فضائیہ کے سربراہ مقرر

جنگ نیوز نئی دہلی/ حکومت نے ایئر مارشل آشوتوش ڈکشٹ...

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

ایئر مارشل آشوتوش ڈکشٹ فضائیہ کے سربراہ مقرر

جنگ نیوز نئی دہلی/ حکومت نے ایئر مارشل آشوتوش ڈکشٹ...

غزل : محمد ایوبؔ

 

oplus_2097185

محمد ایوبؔ

ان کی شوخ آنکھوں میں اک منظر قید ہے
ڈوبنے والوں کے لیے سمندر قید ہے
مسکراتے ہیں تو کھل جاتی ہیں کلیاں ہر سو
ان کے ہونٹوں پہ کوئی نغمہ و سُر قید ہے
ایک لمحہ ہی دیکھنا عمر بھر کافی ہوا
ان کی آنکھوں میں مرا سارا مقدر قید ہے
ان کے چہرے کی ضیا دیکھ کے حیرت ہوئی
چاند بھی شاید کسی پردے کے اندر قید ہے
ان کی خاموشی میں بھی داستانیں ہیں چھپی
ہر سکوتِ چشم میں حرفِ معتبر قید ہے
جس کو دنیا صرف اک روپ سمجھتی ہی رہی
اس کے باطن میں مگر شہرِ پیکر قید ہے
ایوبؔ ان سے دور رہنا بھی کہاں ممکن ہوا
دل میں یادوں کا مسلسل اک حشر قید ہے

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں