جنگ نیوز ڈیسک
سری نگر/ہڈیوں، جوڑوں اور پٹھوں کے امراض کے علاج میں یونانی طریقۂ علاج کی سائنسی افادیت پر غور کے لئے کشمیر یونیورسٹی کے گاندھی بھون میں قومی سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار کا اہتمام وزارتِ آیوش کے تحت سی سی آر یو ایم کے ریجنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن سری نگر نے کیا۔
سیمینار میں ماہرینِ طب، محققین، اساتذہ اور طلبہ نے خصوصاً علاج بالتدبیر کی طبی افادیت، سائنسی تحقیق اور جدید دور میں اس کے استعمال پر تبادلۂ خیال کیا۔
افتتاحی اجلاس میں سینٹرل یونیورسٹی کشمیر کے وائس چانسلر پروفیسر اے رویندر ناتھ، سی سی آر یو ایم کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر این ظہیر احمد، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن کے ڈائریکٹر پروفیسر سید شاہ عالم، حبہ کدل کے رکن اسمبلی سلمان ساگر اور گورنمنٹ یونانی میڈیکل کالج سری نگر کی پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر عفت ایچ شاہ موجود تھے۔
اس موقع پر سی سی آر یو ایم اور سینٹرل یونیورسٹی کشمیر کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت مشترکہ تحقیق، علمی تعاون اور استعدادِ کار بڑھانے کے اقدامات کو فروغ دیا جائے گا۔
ڈاکٹر این ظہیر احمد نے معیاری اور شواہد پر مبنی تحقیق کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے آر آر آئی یو ایم سری نگر کے لئے ایک ایمبولینس فراہم کرنے کا اعلان کیا، جبکہ سلمان ساگر نے بھی ادارے کے لئے ایمبولینس فراہم کرنے کا اعلان کیا۔
سیمینار میں تین تکنیکی اجلاس، تحقیقی پوسٹرز کی پیشکش اور علاج بالتدبیر کے منتخب طریقوں پر عملی تربیتی پروگرام بھی منعقد کیا گیا۔


