ریاستی درجہ: اصل اختلاف کہاں ہے؟

جموں و کشمیر اسمبلی میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پیش کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والا ہنگامہ ایک اہم سیاسی سوال چھوڑ گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان نے قرارداد کی نقول پھاڑیں اور شدید احتجاج کیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر ریاستی درجہ بحال کرنا اصولی طور پر قابلِ قبول مطالبہ ہے تو پھر اس قرارداد پر اتنا شدید اعتراض کیوں؟

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ بی جے پی کا اعتراض بظاہر ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر نہیں بلکہ قرارداد میں خودمختاری اور 2000 ءکی خودمختاری قرارداد کے حوالے پر ہے۔ یہی نکتہ ریاستی درجہ کے سوال کو ایک وسیع تر سیاسی بحث سے جوڑتا ہے۔

دوسری طرف حقیقت یہ بھی ہے کہ بی جے پی کی مرکزی قیادت جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ کرچکی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی کہا تھا کہ مناسب حالات، حد بندی اور انتخابات کے بعد ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا۔ حد بندی اور اسمبلی انتخابات ہوچکے ہیں، لہٰذا سوال اٹھتا ہے کہ ریاستی درجہ بحال کرنے کے وعدے پر عملی پیش رفت کب ہوگی؟

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلاف جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن ایوان کا وقار بھی ضروری ہے۔ قرارداد سے اختلاف بحث، ترمیم اور ووٹنگ کے ذریعے کیا جاسکتا ہے؛ ہنگامہ اور دستاویزات پھاڑنے سے اصل سوال کا جواب نہیں ملتا۔

اصل سوال سادہ ہے: اگر ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ موجود ہے تو اس کی تکمیل کا واضح راستہ کیا ہے؟ اگر اختلاف قرارداد کے دوسرے حصوں سے ہے تو اسے ریاستی درجہ کے بنیادی مطالبے سے الگ کرکے عوام کے سامنے واضح کیا جانا چاہیے۔جموں و کشمیر کے عوام کو نعروں سے زیادہ ایک واضح سیاسی اور آئینی روڈ میپ درکار ہے۔ ریاستی درجہ اور خودمختاری الگ سوالات ہیں؛ انہیں خلط ملط کرنے کے بجائے ہر مسئلے پر کھلی، سنجیدہ اور آئینی بحث ہونی چاہیے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

ایئر مارشل آشوتوش ڈکشٹ فضائیہ کے سربراہ مقرر

جنگ نیوز نئی دہلی/ حکومت نے ایئر مارشل آشوتوش ڈکشٹ...

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

ایئر مارشل آشوتوش ڈکشٹ فضائیہ کے سربراہ مقرر

جنگ نیوز نئی دہلی/ حکومت نے ایئر مارشل آشوتوش ڈکشٹ...

ریاستی درجہ: اصل اختلاف کہاں ہے؟

جموں و کشمیر اسمبلی میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پیش کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والا ہنگامہ ایک اہم سیاسی سوال چھوڑ گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان نے قرارداد کی نقول پھاڑیں اور شدید احتجاج کیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر ریاستی درجہ بحال کرنا اصولی طور پر قابلِ قبول مطالبہ ہے تو پھر اس قرارداد پر اتنا شدید اعتراض کیوں؟

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ بی جے پی کا اعتراض بظاہر ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر نہیں بلکہ قرارداد میں خودمختاری اور 2000 ءکی خودمختاری قرارداد کے حوالے پر ہے۔ یہی نکتہ ریاستی درجہ کے سوال کو ایک وسیع تر سیاسی بحث سے جوڑتا ہے۔

دوسری طرف حقیقت یہ بھی ہے کہ بی جے پی کی مرکزی قیادت جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ کرچکی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی کہا تھا کہ مناسب حالات، حد بندی اور انتخابات کے بعد ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا۔ حد بندی اور اسمبلی انتخابات ہوچکے ہیں، لہٰذا سوال اٹھتا ہے کہ ریاستی درجہ بحال کرنے کے وعدے پر عملی پیش رفت کب ہوگی؟

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلاف جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن ایوان کا وقار بھی ضروری ہے۔ قرارداد سے اختلاف بحث، ترمیم اور ووٹنگ کے ذریعے کیا جاسکتا ہے؛ ہنگامہ اور دستاویزات پھاڑنے سے اصل سوال کا جواب نہیں ملتا۔

اصل سوال سادہ ہے: اگر ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ موجود ہے تو اس کی تکمیل کا واضح راستہ کیا ہے؟ اگر اختلاف قرارداد کے دوسرے حصوں سے ہے تو اسے ریاستی درجہ کے بنیادی مطالبے سے الگ کرکے عوام کے سامنے واضح کیا جانا چاہیے۔جموں و کشمیر کے عوام کو نعروں سے زیادہ ایک واضح سیاسی اور آئینی روڈ میپ درکار ہے۔ ریاستی درجہ اور خودمختاری الگ سوالات ہیں؛ انہیں خلط ملط کرنے کے بجائے ہر مسئلے پر کھلی، سنجیدہ اور آئینی بحث ہونی چاہیے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں