اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کبھی دنیا کو جنگوں اور تنازعات سے نکالنے کے لئے مکالمے کا پلیٹ فارم سمجھی جاتی تھی، مگر آج اس کا ماحول سفارت کاری سے زیادہ سیاسی تشہیر کا منظر پیش کرتا ہے۔ عالمی رہنما عالمی مسائل کے حل سے زیادہ اپنے داخلی ووٹ بینک اور سوشل میڈیا کے سامعین کو مخاطب دکھائی دیتے ہیں۔واک آؤٹ، تلخ بیانات، باہمی الزامات اور اشتعال انگیز زبان نے اس عالمی فورم کی سنجیدگی کو متاثر کیا ہے۔ جس ادارے کا مقصد اختلاف رکھنے والے فریقوں کو ایک میز پر لانا تھا، وہاں ایک دوسرے کی تقریریں سننے کے بجائے اجلاس سے باہر نکلنا معمول بنتا جا رہا ہے۔
مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ عالمی سفارت کاری میں برداشت، اختلافِ رائے اور سمجھوتے کی گنجائش سکڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ جب ہر تقریر کا اصل مخاطب عالمی برادری کے بجائے اپنے ملک کا سیاسی حلقہ بن جائے تو بین الاقوامی مکالمہ محض بیانات کی جنگ بن کر رہ جاتا ہے۔
اصل المیہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آوازیں تو بلند ہیں، مگر مکالمہ کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ اگر عالمی طاقتیں اور رہنما سفارت کاری کے بجائے محض اپنے داخلی سیاسی حلقوں کو خوش کرنے کے لئے عالمی فورم استعمال کریں گے تو امن، اعتماد اور تعاون کی امید مزید کمزور ہوگی۔
دنیا کو وائرل کلپس نہیں، سنجیدہ مکالمے اور عملی سفارت کاری درکار ہے۔مسئلہ صرف تلخ تقاریر کا نہیں بلکہ اس سوچ کا ہے جس میں عالمی فورم کو قومی سیاست کا اسٹیج بنا دیا گیا ہے۔ اگر ہر رہنما نیویارک سے اپنے ملک کے سیاسی مخالفین کو جواب دینے لگے تو عالمی بحران پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور اقوام متحدہ کی اصل ذمہ داری کمزور پڑ جاتی ہے۔
دنیا اس وقت جنگوں، انسانی بحرانوں، معاشی بے یقینی اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں اقوام متحدہ کو نعروں اور الزامات سے زیادہ سنجیدہ مذاکرات، تحمل اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ اختلافات ختم نہ بھی ہوں، کم از کم بات چیت کے دروازے کھلے رہنے چاہئیں۔
جنرل اسمبلی کی اصل کامیابی کسی تقریر کے وائرل ہونے یا کسی وفد کے واک آؤٹ میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہونی چاہیے کہ متحارب فریق ایک دوسرے کو سننے پر آمادہ ہوں۔ اگر عالمی ادارے کا پلیٹ فارم مکالمے کے بجائے محض سیاسی تماشے میں بدل گیا تو سب سے بڑا نقصان صرف اقوام متحدہ کا نہیں بلکہ عالمی سفارت کاری کا ہوگا۔


