بھارت جیسی وسیع جمہوریت میں انتخابی فہرستوں کی وقتاً فوقتاً نظرثانی ناگزیر ہے۔ نئے ووٹروں کا اندراج، اموات، نقل مکانی اور دہری رجسٹریشن جیسے معاملات انتخابی فہرستوں کو مسلسل اپ ڈیٹ کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ خصوصی جامع نظرثانی (SIR) اسی ذمہ داری کا حصہ ہے، جس کی نگرانی الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کرتا ہے۔
تاہم، موجودہ نظرثانی نے صرف ووٹروں کے ناموں کے اخراج کا سوال نہیں اٹھایا بلکہ الیکشن کمیشن کے اندرونی طریقۂ کار، شفافیت اور جواب دہی پر بھی سنجیدہ سوالات پیدا کیے ہیں۔ دی انڈین ایکسپریس کی ایک تحقیق کے مطابق 13 کروڑ سے زائد نام مسودہ انتخابی فہرستوں سے خارج کیے گئے، جبکہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے دس ماہ کے دوران 14 مرتبہ بعض فیصلوں اور طریقۂ کار پر اعتراضات اٹھائے۔
ان اعتراضات میں فارم 6 میں تبدیلی، ووٹر ڈیٹا کی مرکزیت اور کمیشن کے اندر فیصلہ سازی کے طریقۂ کار سے متعلق خدشات شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں کمشنروں نے اس معاملے پر کابینہ سکریٹری سے بھی رجوع کیا۔
یہ اختلاف بذات خود ادارہ جاتی ناکامی کی دلیل نہیں۔ کسی آئینی ادارے میں اختلاف رائے جمہوری نگرانی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ درج شدہ اعتراضات پر کیا غور ہوا، فیصلے کس قانونی بنیاد پر کیے گئے اور ان کے بارے میں عوام کو واضح جواب کیوں نہ دیا جائے؟
انتخابی فہرست میں کسی نااہل شخص کا نام شامل رہ جانا مسئلہ ہے، لیکن کسی اہل شہری کا نام غلطی سے خارج ہونا بھی اتنا ہی سنگین معاملہ ہے۔ اس لئے SIR کی کامیابی صرف لاکھوں ناموں کی جانچ یا اخراج سے نہیں، بلکہ شفاف طریقۂ کار، مؤثر اعتراضات، اپیل کے حق اور ہر اہل ووٹر کے حق رائے دہی کے تحفظ سے طے ہونی چاہیے۔
الیکشن کمیشن کی ساکھ انتخابات کے نتائج سے پہلے ہی قائم ہوتی ہے—اس سوال سے کہ ووٹر فہرست میں کس بنیاد پر شامل یا خارج ہوا۔ اس لئے کمیشن کو اپنے ہی ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب واضح، دستاویزی اور عوام کے سامنے دینا چاہیے۔ جمہوریت میں اعتماد صرف اختیار سے نہیں، شفافیت اور جواب دہی سے پیدا ہوتا ہے۔
ززز
انتخابی فہرستیں اور الیکشن کمیشن
انتخابی فہرستیں اور الیکشن کمیشن
بھارت جیسی وسیع جمہوریت میں انتخابی فہرستوں کی وقتاً فوقتاً نظرثانی ناگزیر ہے۔ نئے ووٹروں کا اندراج، اموات، نقل مکانی اور دہری رجسٹریشن جیسے معاملات انتخابی فہرستوں کو مسلسل اپ ڈیٹ کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ خصوصی جامع نظرثانی (SIR) اسی ذمہ داری کا حصہ ہے، جس کی نگرانی الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کرتا ہے۔
تاہم، موجودہ نظرثانی نے صرف ووٹروں کے ناموں کے اخراج کا سوال نہیں اٹھایا بلکہ الیکشن کمیشن کے اندرونی طریقۂ کار، شفافیت اور جواب دہی پر بھی سنجیدہ سوالات پیدا کیے ہیں۔ دی انڈین ایکسپریس کی ایک تحقیق کے مطابق 13 کروڑ سے زائد نام مسودہ انتخابی فہرستوں سے خارج کیے گئے، جبکہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے دس ماہ کے دوران 14 مرتبہ بعض فیصلوں اور طریقۂ کار پر اعتراضات اٹھائے۔
ان اعتراضات میں فارم 6 میں تبدیلی، ووٹر ڈیٹا کی مرکزیت اور کمیشن کے اندر فیصلہ سازی کے طریقۂ کار سے متعلق خدشات شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں کمشنروں نے اس معاملے پر کابینہ سکریٹری سے بھی رجوع کیا۔
یہ اختلاف بذات خود ادارہ جاتی ناکامی کی دلیل نہیں۔ کسی آئینی ادارے میں اختلاف رائے جمہوری نگرانی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ درج شدہ اعتراضات پر کیا غور ہوا، فیصلے کس قانونی بنیاد پر کیے گئے اور ان کے بارے میں عوام کو واضح جواب کیوں نہ دیا جائے؟
انتخابی فہرست میں کسی نااہل شخص کا نام شامل رہ جانا مسئلہ ہے، لیکن کسی اہل شہری کا نام غلطی سے خارج ہونا بھی اتنا ہی سنگین معاملہ ہے۔ اس لئے SIR کی کامیابی صرف لاکھوں ناموں کی جانچ یا اخراج سے نہیں، بلکہ شفاف طریقۂ کار، مؤثر اعتراضات، اپیل کے حق اور ہر اہل ووٹر کے حق رائے دہی کے تحفظ سے طے ہونی چاہیے۔
الیکشن کمیشن کی ساکھ انتخابات کے نتائج سے پہلے ہی قائم ہوتی ہے—اس سوال سے کہ ووٹر فہرست میں کس بنیاد پر شامل یا خارج ہوا۔ اس لئے کمیشن کو اپنے ہی ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب واضح، دستاویزی اور عوام کے سامنے دینا چاہیے۔ جمہوریت میں اعتماد صرف اختیار سے نہیں، شفافیت اور جواب دہی سے پیدا ہوتا ہے۔
ززز


