ملک کی اسٹریٹجک خودمختاری

امریکی کانگریس کی جانب سے Lindsey O. Graham Sanctioning Russia and Iran Bill کی منظوری نے بھارت کی توانائی سلامتی اور امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مجوزہ قانون امریکی صدر کو روسی تیل درآمد کرنے والے ممالک پر 100 فیصد تک محصولات عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے، جس کے ممکنہ اثرات بھارت اور چین پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

بھارت کے لئے یہ معاملہ محض تیل کی خریداری کا نہیں بلکہ اس کی توانائی سلامتی، معاشی مفادات اور اسٹریٹجک خودمختاری سے جڑا ہوا ہے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا یہ مؤقف کہ بھارت کو اپنے 1.4 ارب عوام کی توانائی ضروریات پوری کرنے کا حق حاصل ہے، اسی بنیادی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ بھارت کے خلاف اس قانون کے استعمال کے دوطرفہ تعلقات پر ممکنہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

امریکہ کے CAATSA قانون کا تجربہ بھی اہم ہے۔ 2017 میں روس سمیت امریکی مخالف ممالک کے خلاف پابندیوں کے لئے یہ قانون نافذ کیا گیا تھا۔ بھارت کی جانب سے روسی S-400 دفاعی نظام کی خریداری بھی اس کے دائرے میں آتی تھی، تاہم سفارتی کوششوں کے نتیجے میں بھارت کو استثنا حاصل ہوا۔ اس مثال سے ظاہر ہوتا ہے کہ سخت پابندیوں کے باوجود سفارتی گنجائش پیدا کی جا سکتی ہے۔

بھارت ایک طرف روس کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات اور توانائی تعاون کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکہ کے ساتھ اس کی دفاعی، تجارتی اور تزویراتی شراکت داری بھی مسلسل وسیع ہوئی ہے۔ نئی دہلی کے لئے بنیادی چیلنج یہی ہے کہ وہ کسی ایک فریق کے انتخاب کے بجائے اپنی اسٹریٹجک خودمختاری برقرار رکھے۔

دوسری جانب واشنگٹن کا مقصد روس پر اقتصادی دباؤ بڑھانا ہے، مگر ایسی پابندیاں عالمی توانائی منڈیوں اور سپلائی چینز پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں۔ بھارت کے لئے روسی تیل کی اچانک فراہمی میں رکاوٹ درآمدی اخراجات اور ملکی معیشت پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔

ایسے میں پسِ پردہ سفارت کاری، ممکنہ استثنا، مذاکرات اور توانائی کے ذرائع میں مزید تنوع اہم ثابت ہوں گے۔ بھارت اور امریکہ کے درمیان وسیع تر مشترکہ مفادات موجود ہیں، اس لئے روسی تیل کا تنازع دونوں ملکوں کے مجموعی تعلقات پر حاوی نہیں ہونا چاہیے۔

اصل آزمائش یہی ہے کہ واشنگٹن روس پر دباؤ برقرار رکھتے ہوئے اپنے اہم شراکت دار بھارت کے مفادات کو کس حد تک ملحوظ رکھتا ہے، اور نئی دہلی اپنی توانائی سلامتی اور خارجہ پالیسی کی خودمختاری کو کس طرح محفوظ رکھتا ہے۔ موجودہ صورتِ حال میں محاذ آرائی کے بجائے حقیقت پسندانہ سفارت کاری اور باہمی مفاہمت ہی دونوں ممالک کے لئے اہم راستہ ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

ملک کی اسٹریٹجک خودمختاری

امریکی کانگریس کی جانب سے Lindsey O. Graham Sanctioning Russia and Iran Bill کی منظوری نے بھارت کی توانائی سلامتی اور امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مجوزہ قانون امریکی صدر کو روسی تیل درآمد کرنے والے ممالک پر 100 فیصد تک محصولات عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے، جس کے ممکنہ اثرات بھارت اور چین پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

بھارت کے لئے یہ معاملہ محض تیل کی خریداری کا نہیں بلکہ اس کی توانائی سلامتی، معاشی مفادات اور اسٹریٹجک خودمختاری سے جڑا ہوا ہے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا یہ مؤقف کہ بھارت کو اپنے 1.4 ارب عوام کی توانائی ضروریات پوری کرنے کا حق حاصل ہے، اسی بنیادی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ بھارت کے خلاف اس قانون کے استعمال کے دوطرفہ تعلقات پر ممکنہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

امریکہ کے CAATSA قانون کا تجربہ بھی اہم ہے۔ 2017 میں روس سمیت امریکی مخالف ممالک کے خلاف پابندیوں کے لئے یہ قانون نافذ کیا گیا تھا۔ بھارت کی جانب سے روسی S-400 دفاعی نظام کی خریداری بھی اس کے دائرے میں آتی تھی، تاہم سفارتی کوششوں کے نتیجے میں بھارت کو استثنا حاصل ہوا۔ اس مثال سے ظاہر ہوتا ہے کہ سخت پابندیوں کے باوجود سفارتی گنجائش پیدا کی جا سکتی ہے۔

بھارت ایک طرف روس کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات اور توانائی تعاون کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکہ کے ساتھ اس کی دفاعی، تجارتی اور تزویراتی شراکت داری بھی مسلسل وسیع ہوئی ہے۔ نئی دہلی کے لئے بنیادی چیلنج یہی ہے کہ وہ کسی ایک فریق کے انتخاب کے بجائے اپنی اسٹریٹجک خودمختاری برقرار رکھے۔

دوسری جانب واشنگٹن کا مقصد روس پر اقتصادی دباؤ بڑھانا ہے، مگر ایسی پابندیاں عالمی توانائی منڈیوں اور سپلائی چینز پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں۔ بھارت کے لئے روسی تیل کی اچانک فراہمی میں رکاوٹ درآمدی اخراجات اور ملکی معیشت پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔

ایسے میں پسِ پردہ سفارت کاری، ممکنہ استثنا، مذاکرات اور توانائی کے ذرائع میں مزید تنوع اہم ثابت ہوں گے۔ بھارت اور امریکہ کے درمیان وسیع تر مشترکہ مفادات موجود ہیں، اس لئے روسی تیل کا تنازع دونوں ملکوں کے مجموعی تعلقات پر حاوی نہیں ہونا چاہیے۔

اصل آزمائش یہی ہے کہ واشنگٹن روس پر دباؤ برقرار رکھتے ہوئے اپنے اہم شراکت دار بھارت کے مفادات کو کس حد تک ملحوظ رکھتا ہے، اور نئی دہلی اپنی توانائی سلامتی اور خارجہ پالیسی کی خودمختاری کو کس طرح محفوظ رکھتا ہے۔ موجودہ صورتِ حال میں محاذ آرائی کے بجائے حقیقت پسندانہ سفارت کاری اور باہمی مفاہمت ہی دونوں ممالک کے لئے اہم راستہ ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں