اردو ادب میں تنقید کی اہمیت و افادیت

محمد اعجاز افضل

ادب انسانی زندگی،جذبات،خیالات اور معاشرتی حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ادب کی تخلیق کے ساتھ اس کی تفہیم،تشریح اور قدر و قیمت کا تعین بھی ضروری ہے۔یہی کام "تنقید” انجام دیتی ہے۔تنقید عربی زبان کا لفظ ہے،جس کے لغوی معنی کسی چیز کو پرکھنا،جانچنا اور کھرے کھوٹے کی تمیز کرنا ہے۔اصطلاحی اعتبار سے تنقید سے مراد کسی ادبی تخلیق کے محاسن و معائب،فنی خوبیاں،فکری پہلوؤں اور اسلوب کا غیر جانب درانہ جائزہ لینا ہے۔
اردو ادب میں تنقید کو ایک بنیادی اہم حیثیت حاصل ہے۔کسی بھی زبان کے ادب کی ترقی اور ارتقاء میں تخلیق کے ساتھ تنقید کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔مشہور انگریزی نقاد ٹی ایس ایلیٹ کے نزدیک تخلیق اور تنقید ایک دوسرے کے لئے لازمی ہے۔ان کے مطابق”ادب میں تنقید اتنی ہی لازمی ہے جتنی تخلیق”۔اس قول سے تنقید کی اہمیت و افادیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ادبی تخلیق میں شاعر یا ادیب اپنے خیالات،جذبات، تجربات اور مشاہدات کو فن پارے کی تشکیل دیتا ہے لیکن صرف تخلیق کا وجود میں آ جانا کافی نہیں ہوتا یہ بھی ضروری ہے کہ اس تخلیق کی فنی اور فکری قدر و قیمت کا تعین کیا جائے یہی کام "تنقید” انجام دیتی ہے۔نقاد کسی تخلیق کے موضوع،زبان،اسلوب،فن،فکر اور جمالیاتی خصوصیات کا جائزہ لے کر اس کی اہمیت واضح کرتا ہے۔

ٹی ایس ایلیٹ کہ اس نظریے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ تنقید تخلیق کی دشمن نہیں بلکہ ایک معاون اور رہنما ہے۔تنقید کے ذریعہ اچھی اور معیاری تخلیقات کی شناخت قائم ہوتی ہے اور ادبی معیار بھی قائم ہوتا ہے۔
تنقید ہر قدم پر زندگی اور ادب کی رہنمائی کرتی ہے۔تنقید سے یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ کھری چیز کو اس کا مقام حاصل ہوتا ہے اور کھوٹی چیز کو اس کی حیثیت دکھا دی جاتی ہے۔تنقید ادب کا ایک اہم اور بنیادی حصہ ہے۔جس طرح ایک غیر صحت مند/مریض کو جتنی ضرورت ڈاکٹر کی ہوتی ہے اتنی ہی ضرورت کسی بھی ادبی تخلیق کی خوبیوں اور خامیوں کو سمجھنے اور پرکھنے کے لئے”تنقید” کی ہوتی ہے۔مشہور مغربی مفکر و ادیب ایلیٹ کا قول ہے کہ”تنقید سانس کی طرح نا گریز ہے”۔یعنی زندگی میں جو اہمیت سانس کی ہے وہی اہمیت تنقید کی ہے۔سانس کے بغیر انسانی زندگی کا وجود ممکن نہیں ہے اور تنقید کے بغیر اچھی،صحت مند،اور بامعنی زندگی کے ساتھ ادبی تخلیق کا وجود بھی مشکل ہے۔تنقید کے بغیر ادب میں تخلیق تو وجود میں آ سکتی ہے لیکن وہ تخلیق اپنی مطلوبہ ادبی حیثیت،معیار اور تاثیر حاصل نہیں کر سکتی۔تنقید تخلیق کی اصلاح اور رہنمائی کا ذریعہ ہے۔اس لئے تنقید کے بغیر تخلیق کی حیثیت کچھ ایسی ہے جیسے بچے کی پرورش والدین کی سرپرستی کے بغیر ہو۔بچہ پروان چڑھ سکتا ہے،لیکن مناسب رہنمائی اور تربیت کے بغیر اس کی شخصیت میں وہ پختگی پیدا نہیں ہو سکتی ہے جو والدین کی سرپرستی سے پیدا ہوتی ہے۔

البتہ تنقید کی اہمیت و افادیت کی وضاحت ایلیٹ کے علاوہ اور بھی ناقدین علم و ادب نے کی ہے جس میں آل احمد سرور کی یہ رائے درست ہے کہ”بڑے تخلیقی کارنامے بغیر ایک اچھے تنقیدی شعور کے وجود میں نہیں آ سکتے”۔تخلیقی جو ہر کے بغیر تنقیدی شعور سے گمراہ ہو جاتا ہے۔
مشہور نقاد عبادت بریلوی کے نزدیک”تنقید کا ایک بڑا کام ایک ادبی اور فنی فضا پیدا کر کے عوام کے ذوق میں نکھار پیدا کرنا اور ان کے فن و ادب کو بلند کرنا بھی ہے ورنہ اگر تنقید نہ ہو تو پڑھنے والوں کو اول تو کسی معیار کا پتہ نہ چلے،اگر پتہ چل بھی جائے تو اس تک پہنچنے کا خیال آنا مشکل ہے”۔
اس کا مطلب ہے کہ تنقید صرف ادبی تخلیق کی خامیاں اور خوبیاں بتانے کا نام نہیں،بلکہ یہ لوگوں کے ادبی ذوق کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔تنقید کے ذریعہ قارئین کو اچھے اور معیاری ادب کی پہچان ہوتی ہے اور وہ بہتر ادب پڑھنے کی طرف راغب ہوتے ہیں۔اگر تنقید نہ ہو تو لوگوں کو اچھے ادب کے معیار کا اندازہ نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ اس بلند معیار تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔
تنقید کی افادیت اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ یہ ادب اور قاری کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرتی ہے۔ایک اچھی تنقید ادبی تخلیق کے پوشیدہ پہلوؤں کو سامنے لاتی ہے اور کاری کو گہرائی سے سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
مشہور ناقد میتھو آرنلڈ بھی اسی تناظر میں تنقید کے فریضے کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ”دنیا میں جو بہترین باتیں معلوم کی گئی ہے،جو کچھ دنیا میں بہتر سے بہترین سوچا گیا ہے،تنقید کا کام اس کو جاننا،معلوم کرنا اور پتہ لگانا ہے اور ان کو معلوم کرنے کے بعد دوسروں تک پہنچانا ہے تاکہ وہ نئے اور جدید نظریات و خیالات کی تخلیق میں زیادہ سے زیادہ ممدومعاون ہو سکیں۔
اس قول کو پڑھنے کے بعد تنقید کی اہمیت و افادیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔آسانی کے لئے ہم تنقید کی افادیت کو چند نکات کی روشنی میں سمجھ سکتے ہیں تنقید کی افادیت کا بنیادی پہلو یہ ہے کہ اس کے ذریعہ کھرے اور کھوٹے کی پہچان ممکن ہو پاتی ہے۔تنقید کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ ادب میں غیر معیاری اور کھوٹی تحریروں اور تخلیقات کی پہچان کرتی ہے اور ادب کو صحت مند اور معیاری بنانے کی راہ ہموار کرتی ہے۔

تنقید کی بدولت ادب نراج کا شکار ہونے سے بچتا ہے اسی لئے تنقید کو ادب کا رہنما،ادب کے لئے مشعل ہدایت بھی کہا گیا ہے۔آل احمد سرور لکھتے ہیں،
"تنقید ادیبوں،ادب کی مسرت اور خیر و برکت حاصل کرنے والوں اور خود ادب کے لئے مشغل ہدایت ہے۔تنقید کے بغیر ادب ایک ایسا جنگل ہے جس میں پیداوار کی کثرت ہے،موزونیت اور قرینہ کا پتہ نہیں ہے”۔
ادب زندگی سے وابستہ ہے اور تنقید دونوں سے راست تعلق رکھتی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ زندگی کو مکمل طور پر سمجھے بغیر نہ تو اس کی تنقید ممکن ہے اور نہ ہی زندگی آگے بڑھ سکتی ہے۔
ہڈسن نے درست کہا ہے کہ”تنقید اپنا مواد زندگی سے حاصل کرتی ہے”۔
مختصر یہ کہ ادبی روایت کی بقا ترقی اور ارتقاء میں تنقید کا اہم کردار ہے۔تنقید نہ صرف ادب کے محاسن و معائب کو واضح کرتی ہے بلکہ ادیب اور کاری دونوں کی رہنمائی بھی کرتی ہے۔تنقید ادب میں تخلیق کو سجاتی اور سوارتی ہے اور ادب کا کینوس بڑھا دیتی ہے اور ادب میں تنقید کے ہی بدولت سلجھی ہوئی تخلیق آتی ہے۔اس لئے تخلیق کے ساتھ تنقید بھی ادب کی صحت مند اور موثر ترقی کے لئے ناگریز ہے۔
آخر میں تنقید کی اہمیت و افادیت پر ایک شعر پیش کر کے اپنی بات ختم کرتا ہوں کہ:
بگاڑ پر ہے جو تنقید سب بجا لیکن
(امجد اسلام امجد)

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

اردو ادب میں تنقید کی اہمیت و افادیت

محمد اعجاز افضل

ادب انسانی زندگی،جذبات،خیالات اور معاشرتی حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ادب کی تخلیق کے ساتھ اس کی تفہیم،تشریح اور قدر و قیمت کا تعین بھی ضروری ہے۔یہی کام "تنقید” انجام دیتی ہے۔تنقید عربی زبان کا لفظ ہے،جس کے لغوی معنی کسی چیز کو پرکھنا،جانچنا اور کھرے کھوٹے کی تمیز کرنا ہے۔اصطلاحی اعتبار سے تنقید سے مراد کسی ادبی تخلیق کے محاسن و معائب،فنی خوبیاں،فکری پہلوؤں اور اسلوب کا غیر جانب درانہ جائزہ لینا ہے۔
اردو ادب میں تنقید کو ایک بنیادی اہم حیثیت حاصل ہے۔کسی بھی زبان کے ادب کی ترقی اور ارتقاء میں تخلیق کے ساتھ تنقید کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔مشہور انگریزی نقاد ٹی ایس ایلیٹ کے نزدیک تخلیق اور تنقید ایک دوسرے کے لئے لازمی ہے۔ان کے مطابق”ادب میں تنقید اتنی ہی لازمی ہے جتنی تخلیق”۔اس قول سے تنقید کی اہمیت و افادیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ادبی تخلیق میں شاعر یا ادیب اپنے خیالات،جذبات، تجربات اور مشاہدات کو فن پارے کی تشکیل دیتا ہے لیکن صرف تخلیق کا وجود میں آ جانا کافی نہیں ہوتا یہ بھی ضروری ہے کہ اس تخلیق کی فنی اور فکری قدر و قیمت کا تعین کیا جائے یہی کام "تنقید” انجام دیتی ہے۔نقاد کسی تخلیق کے موضوع،زبان،اسلوب،فن،فکر اور جمالیاتی خصوصیات کا جائزہ لے کر اس کی اہمیت واضح کرتا ہے۔

ٹی ایس ایلیٹ کہ اس نظریے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ تنقید تخلیق کی دشمن نہیں بلکہ ایک معاون اور رہنما ہے۔تنقید کے ذریعہ اچھی اور معیاری تخلیقات کی شناخت قائم ہوتی ہے اور ادبی معیار بھی قائم ہوتا ہے۔
تنقید ہر قدم پر زندگی اور ادب کی رہنمائی کرتی ہے۔تنقید سے یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ کھری چیز کو اس کا مقام حاصل ہوتا ہے اور کھوٹی چیز کو اس کی حیثیت دکھا دی جاتی ہے۔تنقید ادب کا ایک اہم اور بنیادی حصہ ہے۔جس طرح ایک غیر صحت مند/مریض کو جتنی ضرورت ڈاکٹر کی ہوتی ہے اتنی ہی ضرورت کسی بھی ادبی تخلیق کی خوبیوں اور خامیوں کو سمجھنے اور پرکھنے کے لئے”تنقید” کی ہوتی ہے۔مشہور مغربی مفکر و ادیب ایلیٹ کا قول ہے کہ”تنقید سانس کی طرح نا گریز ہے”۔یعنی زندگی میں جو اہمیت سانس کی ہے وہی اہمیت تنقید کی ہے۔سانس کے بغیر انسانی زندگی کا وجود ممکن نہیں ہے اور تنقید کے بغیر اچھی،صحت مند،اور بامعنی زندگی کے ساتھ ادبی تخلیق کا وجود بھی مشکل ہے۔تنقید کے بغیر ادب میں تخلیق تو وجود میں آ سکتی ہے لیکن وہ تخلیق اپنی مطلوبہ ادبی حیثیت،معیار اور تاثیر حاصل نہیں کر سکتی۔تنقید تخلیق کی اصلاح اور رہنمائی کا ذریعہ ہے۔اس لئے تنقید کے بغیر تخلیق کی حیثیت کچھ ایسی ہے جیسے بچے کی پرورش والدین کی سرپرستی کے بغیر ہو۔بچہ پروان چڑھ سکتا ہے،لیکن مناسب رہنمائی اور تربیت کے بغیر اس کی شخصیت میں وہ پختگی پیدا نہیں ہو سکتی ہے جو والدین کی سرپرستی سے پیدا ہوتی ہے۔

البتہ تنقید کی اہمیت و افادیت کی وضاحت ایلیٹ کے علاوہ اور بھی ناقدین علم و ادب نے کی ہے جس میں آل احمد سرور کی یہ رائے درست ہے کہ”بڑے تخلیقی کارنامے بغیر ایک اچھے تنقیدی شعور کے وجود میں نہیں آ سکتے”۔تخلیقی جو ہر کے بغیر تنقیدی شعور سے گمراہ ہو جاتا ہے۔
مشہور نقاد عبادت بریلوی کے نزدیک”تنقید کا ایک بڑا کام ایک ادبی اور فنی فضا پیدا کر کے عوام کے ذوق میں نکھار پیدا کرنا اور ان کے فن و ادب کو بلند کرنا بھی ہے ورنہ اگر تنقید نہ ہو تو پڑھنے والوں کو اول تو کسی معیار کا پتہ نہ چلے،اگر پتہ چل بھی جائے تو اس تک پہنچنے کا خیال آنا مشکل ہے”۔
اس کا مطلب ہے کہ تنقید صرف ادبی تخلیق کی خامیاں اور خوبیاں بتانے کا نام نہیں،بلکہ یہ لوگوں کے ادبی ذوق کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔تنقید کے ذریعہ قارئین کو اچھے اور معیاری ادب کی پہچان ہوتی ہے اور وہ بہتر ادب پڑھنے کی طرف راغب ہوتے ہیں۔اگر تنقید نہ ہو تو لوگوں کو اچھے ادب کے معیار کا اندازہ نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ اس بلند معیار تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔
تنقید کی افادیت اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ یہ ادب اور قاری کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرتی ہے۔ایک اچھی تنقید ادبی تخلیق کے پوشیدہ پہلوؤں کو سامنے لاتی ہے اور کاری کو گہرائی سے سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
مشہور ناقد میتھو آرنلڈ بھی اسی تناظر میں تنقید کے فریضے کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ”دنیا میں جو بہترین باتیں معلوم کی گئی ہے،جو کچھ دنیا میں بہتر سے بہترین سوچا گیا ہے،تنقید کا کام اس کو جاننا،معلوم کرنا اور پتہ لگانا ہے اور ان کو معلوم کرنے کے بعد دوسروں تک پہنچانا ہے تاکہ وہ نئے اور جدید نظریات و خیالات کی تخلیق میں زیادہ سے زیادہ ممدومعاون ہو سکیں۔
اس قول کو پڑھنے کے بعد تنقید کی اہمیت و افادیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔آسانی کے لئے ہم تنقید کی افادیت کو چند نکات کی روشنی میں سمجھ سکتے ہیں تنقید کی افادیت کا بنیادی پہلو یہ ہے کہ اس کے ذریعہ کھرے اور کھوٹے کی پہچان ممکن ہو پاتی ہے۔تنقید کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ ادب میں غیر معیاری اور کھوٹی تحریروں اور تخلیقات کی پہچان کرتی ہے اور ادب کو صحت مند اور معیاری بنانے کی راہ ہموار کرتی ہے۔

تنقید کی بدولت ادب نراج کا شکار ہونے سے بچتا ہے اسی لئے تنقید کو ادب کا رہنما،ادب کے لئے مشعل ہدایت بھی کہا گیا ہے۔آل احمد سرور لکھتے ہیں،
"تنقید ادیبوں،ادب کی مسرت اور خیر و برکت حاصل کرنے والوں اور خود ادب کے لئے مشغل ہدایت ہے۔تنقید کے بغیر ادب ایک ایسا جنگل ہے جس میں پیداوار کی کثرت ہے،موزونیت اور قرینہ کا پتہ نہیں ہے”۔
ادب زندگی سے وابستہ ہے اور تنقید دونوں سے راست تعلق رکھتی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ زندگی کو مکمل طور پر سمجھے بغیر نہ تو اس کی تنقید ممکن ہے اور نہ ہی زندگی آگے بڑھ سکتی ہے۔
ہڈسن نے درست کہا ہے کہ”تنقید اپنا مواد زندگی سے حاصل کرتی ہے”۔
مختصر یہ کہ ادبی روایت کی بقا ترقی اور ارتقاء میں تنقید کا اہم کردار ہے۔تنقید نہ صرف ادب کے محاسن و معائب کو واضح کرتی ہے بلکہ ادیب اور کاری دونوں کی رہنمائی بھی کرتی ہے۔تنقید ادب میں تخلیق کو سجاتی اور سوارتی ہے اور ادب کا کینوس بڑھا دیتی ہے اور ادب میں تنقید کے ہی بدولت سلجھی ہوئی تخلیق آتی ہے۔اس لئے تخلیق کے ساتھ تنقید بھی ادب کی صحت مند اور موثر ترقی کے لئے ناگریز ہے۔
آخر میں تنقید کی اہمیت و افادیت پر ایک شعر پیش کر کے اپنی بات ختم کرتا ہوں کہ:
بگاڑ پر ہے جو تنقید سب بجا لیکن
(امجد اسلام امجد)

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں