کشتیِ نوح ؑکے بارے میں مفسرین کی چار مختلف روایات

 

ماجد مجید

کشتی بنانے کے لئے 20 سال قبل درخت لگائے گئے

روایت (1): امام اسحاق بن بشر رحمہ اللہ علیہ اور ابن عساکر رحمہ اللہ علیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کو جب کشتی بنانے کا حکم دیا گیا تو آپ نے عرض کیا: ’’اے میرے رب! لکڑی کہاں ہے؟‘‘ تو اللہ نے فرمایا: ’’درخت لگاؤ۔‘‘ چنانچہ آپ علیہ السلام نے بیس برس تک ساگوان کے درخت لگائے رکھے۔ پس جب آپ نے درختوں کو مکمل حالت میں پالیا تو آپ کے رب نے آپ علیہ السلام کو حکم فرمایا، تو آپ علیہ السلام نے انہیں کاٹا اور خشک کر لیا۔
پھر عرض کیا: ’’اے میرے رب! میں یہ گھر کیسے بناؤں گا؟‘‘ تو اللہ نے فرمایا: ’’اسے تین صورتوں پر بناؤ۔ اس کا سر (سامنے والا حصہ) ہو، پھر اس کے طبقات بنا دو، اس کے اطراف میں دروازے بنا لو اور لوہے کی میخوں کے ساتھ اسے مضبوط اور پختہ جوڑ دو۔‘‘
اللہ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا تاکہ وہ آپ کو کشتی بنانا سکھلائیں۔ پس جو لوگ آپ کے پاس سے گزرتے تھے، وہ آپ سے تمسخر کرتے تھے اور کہتے تھے: ’’کیا تم اس مجنون (پاگل) کی طرف نہیں دیکھتے ہو کہ گھر بنا رہا ہے تاکہ اس کے ذریعے پانی پر چلے، اور پانی کہاں ہے؟‘‘ وہ بہت ہنستے اور قہقہے لگاتے۔ اسی کے بارے میں اللہ کا ارشاد ہے: ’’وَکُلَّمَا مَرَّ عَلَیْہِ مَلَأٌ مِّنْ قَوْمِہِ سَخِرُوا مِنْہُ‘‘۔
پس آپ نے کشتی بنائی۔ اس کی لمبائی 450 فٹ، چوڑائی 75 فٹ اور اونچائی 45 فٹ تھی۔ پھر اللہ نے حکم دیا کہ وہ تارکول کے ساتھ اس پر طلاء کریں۔ اللہ نے آپ کے لئے تارکول کا چشمہ پیدا کر دیا۔ جب آپ اس سے فارغ ہو گئے تو اس کے تین دروازے بنائے۔ اس میں درندوں اور چوپاؤں کو سوار کر دیا۔ دوسرے دروازے میں وحشی جانور اور پرندے وغیرہ رکھے۔ اولادِ آدم میں سے چالیس مرد اور چالیس عورتیں اوپر والے دروازے سے داخل کیے گئے۔
یہ کشتی دراصل دنیا میں سب سے پہلا بحری جہاز تھا، گویا دنیا میں یہ سب سے پہلا پانی کا جہاز تھا۔
(2) ابن عساکر رحمہ اللہ علیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کو معلوم نہیں تھا کہ کیسے کشتی بنائیں، تو اللہ نے آپ کی طرف وحی کی کہ کشتی کا اگلا حصہ مرغ کے سر کی طرح بنانا، درمیان کا حصہ پرندوں کے پوٹے کی طرح اور پچھلا حصہ مرغ کی دم کی طرح بنائیں، اور اس کے اطراف میں دروازے بنا کر میخوں سے مضبوط کریں۔ سوائے نیچے والی طرف کے، ہر طرف میں تارکول کی لپائی کر دو۔
کشتی بنانے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام اور کچھ دوسرے فرشتوں نے بھی معاونت کی۔
(روح المعانی، جلد 7، صفحہ 49)
(3) امام رازی رحمہ اللہ علیہ نے کشتیِ نوح علیہ السلام کے بارے میں لکھا ہے کہ کشتی کی لمبائی تین سو ذراع (ساڑھے چار سو فٹ)، چوڑائی پچاس ذراع (پچھتر فٹ) اور اونچائی تیس ذراع (پینتالیس فٹ) تھی۔ ساگوان کی لکڑی سے تیار کی گئی تھی۔ تیار کرنے میں دو سال صرف ہوئے۔ کشتی تین منزلہ تھی۔ پہلی منزل میں وحشی جانور، درندے اور حشرات الارض (کیڑے مکوڑے) تھے، درمیانی حصے میں پالتو جانور، چوپائے وغیرہ تھے، اور سب سے اوپر والی منزل میں حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے حضرات تھے، اور اپنا زادِ راہ، یعنی کھانے پینے کی اشیاء، رکھی گئی تھیں۔
(تفسیر در منشور، تفسیر کبیر، ج 17، ص 223)
(4) کشتی سازی کی مدت: علامہ دمیری رحمہ اللہ علیہ نے حیات الحیوان میں لکھا ہے: زید بن اسلم رحمہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام 100 سال تک شجر کاری اور لکڑیاں کاٹنے میں مصروف رہے، پھر 100 سال کشتی بنانے میں صرف ہوئے۔
بقول کعب احبار، کشتی بنانے میں 30 سال صرف ہوئے، اور بعض کا قول ہے کہ 40 سال تک اس کو خشک کیا اور پھر کشتی بنائی۔
اہلِ تورات کا کہنا ہے کہ اللہ نے حضرت نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ ساکھو کی لکڑی سے کشتی تیار کریں اور اس کو مضبوط بنائیں، اور اس کے اندر و باہر تارکول کا لیپ کر دیں، اور اس کا طول 450 فٹ، عرض 75 فٹ اور بلندی 45 فٹ رکھیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

کشتیِ نوح ؑکے بارے میں مفسرین کی چار مختلف روایات

 

ماجد مجید

کشتی بنانے کے لئے 20 سال قبل درخت لگائے گئے

روایت (1): امام اسحاق بن بشر رحمہ اللہ علیہ اور ابن عساکر رحمہ اللہ علیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کو جب کشتی بنانے کا حکم دیا گیا تو آپ نے عرض کیا: ’’اے میرے رب! لکڑی کہاں ہے؟‘‘ تو اللہ نے فرمایا: ’’درخت لگاؤ۔‘‘ چنانچہ آپ علیہ السلام نے بیس برس تک ساگوان کے درخت لگائے رکھے۔ پس جب آپ نے درختوں کو مکمل حالت میں پالیا تو آپ کے رب نے آپ علیہ السلام کو حکم فرمایا، تو آپ علیہ السلام نے انہیں کاٹا اور خشک کر لیا۔
پھر عرض کیا: ’’اے میرے رب! میں یہ گھر کیسے بناؤں گا؟‘‘ تو اللہ نے فرمایا: ’’اسے تین صورتوں پر بناؤ۔ اس کا سر (سامنے والا حصہ) ہو، پھر اس کے طبقات بنا دو، اس کے اطراف میں دروازے بنا لو اور لوہے کی میخوں کے ساتھ اسے مضبوط اور پختہ جوڑ دو۔‘‘
اللہ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا تاکہ وہ آپ کو کشتی بنانا سکھلائیں۔ پس جو لوگ آپ کے پاس سے گزرتے تھے، وہ آپ سے تمسخر کرتے تھے اور کہتے تھے: ’’کیا تم اس مجنون (پاگل) کی طرف نہیں دیکھتے ہو کہ گھر بنا رہا ہے تاکہ اس کے ذریعے پانی پر چلے، اور پانی کہاں ہے؟‘‘ وہ بہت ہنستے اور قہقہے لگاتے۔ اسی کے بارے میں اللہ کا ارشاد ہے: ’’وَکُلَّمَا مَرَّ عَلَیْہِ مَلَأٌ مِّنْ قَوْمِہِ سَخِرُوا مِنْہُ‘‘۔
پس آپ نے کشتی بنائی۔ اس کی لمبائی 450 فٹ، چوڑائی 75 فٹ اور اونچائی 45 فٹ تھی۔ پھر اللہ نے حکم دیا کہ وہ تارکول کے ساتھ اس پر طلاء کریں۔ اللہ نے آپ کے لئے تارکول کا چشمہ پیدا کر دیا۔ جب آپ اس سے فارغ ہو گئے تو اس کے تین دروازے بنائے۔ اس میں درندوں اور چوپاؤں کو سوار کر دیا۔ دوسرے دروازے میں وحشی جانور اور پرندے وغیرہ رکھے۔ اولادِ آدم میں سے چالیس مرد اور چالیس عورتیں اوپر والے دروازے سے داخل کیے گئے۔
یہ کشتی دراصل دنیا میں سب سے پہلا بحری جہاز تھا، گویا دنیا میں یہ سب سے پہلا پانی کا جہاز تھا۔
(2) ابن عساکر رحمہ اللہ علیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کو معلوم نہیں تھا کہ کیسے کشتی بنائیں، تو اللہ نے آپ کی طرف وحی کی کہ کشتی کا اگلا حصہ مرغ کے سر کی طرح بنانا، درمیان کا حصہ پرندوں کے پوٹے کی طرح اور پچھلا حصہ مرغ کی دم کی طرح بنائیں، اور اس کے اطراف میں دروازے بنا کر میخوں سے مضبوط کریں۔ سوائے نیچے والی طرف کے، ہر طرف میں تارکول کی لپائی کر دو۔
کشتی بنانے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام اور کچھ دوسرے فرشتوں نے بھی معاونت کی۔
(روح المعانی، جلد 7، صفحہ 49)
(3) امام رازی رحمہ اللہ علیہ نے کشتیِ نوح علیہ السلام کے بارے میں لکھا ہے کہ کشتی کی لمبائی تین سو ذراع (ساڑھے چار سو فٹ)، چوڑائی پچاس ذراع (پچھتر فٹ) اور اونچائی تیس ذراع (پینتالیس فٹ) تھی۔ ساگوان کی لکڑی سے تیار کی گئی تھی۔ تیار کرنے میں دو سال صرف ہوئے۔ کشتی تین منزلہ تھی۔ پہلی منزل میں وحشی جانور، درندے اور حشرات الارض (کیڑے مکوڑے) تھے، درمیانی حصے میں پالتو جانور، چوپائے وغیرہ تھے، اور سب سے اوپر والی منزل میں حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے حضرات تھے، اور اپنا زادِ راہ، یعنی کھانے پینے کی اشیاء، رکھی گئی تھیں۔
(تفسیر در منشور، تفسیر کبیر، ج 17، ص 223)
(4) کشتی سازی کی مدت: علامہ دمیری رحمہ اللہ علیہ نے حیات الحیوان میں لکھا ہے: زید بن اسلم رحمہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام 100 سال تک شجر کاری اور لکڑیاں کاٹنے میں مصروف رہے، پھر 100 سال کشتی بنانے میں صرف ہوئے۔
بقول کعب احبار، کشتی بنانے میں 30 سال صرف ہوئے، اور بعض کا قول ہے کہ 40 سال تک اس کو خشک کیا اور پھر کشتی بنائی۔
اہلِ تورات کا کہنا ہے کہ اللہ نے حضرت نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ ساکھو کی لکڑی سے کشتی تیار کریں اور اس کو مضبوط بنائیں، اور اس کے اندر و باہر تارکول کا لیپ کر دیں، اور اس کا طول 450 فٹ، عرض 75 فٹ اور بلندی 45 فٹ رکھیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں