
تابش ردولوی
بشر کیا ہے، خدا مدحت سرا ہے
عجب ذاتِ محمد مصطفٰی ہے
محمد نام ہے وہ نام نامی
خدا کی ذات سے جو آشنا ہے
اُدھر بھی ہے زباں پر لا الہٰ
اِدھر بھی مرحبا صلے علٰی ہے
تری تخلیق کے باعث ہے دنیا
وگرنہ خلق کی تخلیق کیا ہے
تفاوت کیا ہے محبوب و محب میں
ہے اِک آئینہ گر ، اِک آئنہ ہے
بیاں ممکن نہیں اوصافِ احمد
سمندر سے ابھی قطرہ ملا ہے
فرشتے ہیں ترے در کے بھکاری
شہنشہ بھی ترے در کا گدا ہے
تری توصیف کیا لکھے مورخ
سیاہی میں سمندر گھولنا ہے
ثناء گوئے محمد اور تابش
وہ خود ہی نعت کا محور بنا ہے


