
محمد ایوبؔ
ان کی شوخ آنکھوں میں اک منظر قید ہے
ڈوبنے والوں کے لیے سمندر قید ہے
مسکراتے ہیں تو کھل جاتی ہیں کلیاں ہر سو
ان کے ہونٹوں پہ کوئی نغمہ و سُر قید ہے
ایک لمحہ ہی دیکھنا عمر بھر کافی ہوا
ان کی آنکھوں میں مرا سارا مقدر قید ہے
ان کے چہرے کی ضیا دیکھ کے حیرت ہوئی
چاند بھی شاید کسی پردے کے اندر قید ہے
ان کی خاموشی میں بھی داستانیں ہیں چھپی
ہر سکوتِ چشم میں حرفِ معتبر قید ہے
جس کو دنیا صرف اک روپ سمجھتی ہی رہی
اس کے باطن میں مگر شہرِ پیکر قید ہے
ایوبؔ ان سے دور رہنا بھی کہاں ممکن ہوا
دل میں یادوں کا مسلسل اک حشر قید ہے


