
غلام غوث
دنیا بھر کے مسلمان دن رات دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح اسرائیل غزہ کی معصوم عوام پر بمباری کر رہا ہے، انہیں موت کے گھاٹ اتار رہا ہے اور ان کی عمارتوں، اسکولوں، مسجدوں اور اسپتالوں کو مسمار کر رہا ہے، مگر مسلمانوں اور خصوصاً عربوں کی نہ غیرت جاگ رہی ہے، نہ ان کی مردانگی اور نہ ہی ان کا ضمیر جاگ رہا ہے۔ وہ سب صرف خاموش تماشائیوں کی طرح یہ نسل کشی اور قتل و غارت گری دیکھ رہے ہیں اور صرف زبانی جمع خرچ کر رہے ہیں۔ یہ ساری دنیا کے مسلمانوں کے لئے شرم کی بات ہے۔
ان حکمرانوں کی خاموشی کو دیکھتے ہوئے مجھے امریکہ کے جنرل جارج پیٹن (General George Patton) کا وہ واقعہ یاد آ جاتا ہے جو انہوں نے 53 جرمن جرنیلوں کے ساتھ کیا تھا، جب ان میں سے 42 جرنیلوں نے ہتھیار ڈال دینے کے بعد، جنگ بندی کے بعد خودسپردگی کے کاغذات پر دستخط کرنے کے وقت، امریکی قومی ترانے کے دوران امریکی پرچم کے ساتھ ایک ایسا رویہ اختیار کیا تھا۔ جب سب کے سب امریکی پرچم کو سیلوٹ کر رہے تھے تو 42 جرمن جرنیلوں نے پرچم کو سیلوٹ کرنے کے بجائے نازی سیلوٹ کرتے ہوئے ’’Hail Hitler‘‘ کے نعرے لگائے تھے۔ صرف 11 جنرلوں نے پرچم کو سیلوٹ کیا تھا۔
یہ دیکھ کر جنرل پیٹن نے ان سے جواب طلب کیا تو ان کے کمانڈر، 53 سالہ Klus van Rothenberg، نے کہا کہ وہ اپنے ملک جرمنی کے پرچم کو سیلوٹ کرتے ہیں، نہ کہ امریکہ کے۔ ہم جرمن سپاہی ہیں، جن کے ساتھ جنگی قیدیوں جیسا سلوک ہونا چاہیے۔ ہم نازی نہیں ہیں اور نہ ہی کسی بھی ظلم کے لئے ذمہ دار ہیں۔
اس پر جنرل جارج پیٹن نے کہا کہ تم جو سیلوٹ کر رہے تھے، وہ جرمنی کے لئے نہیں تھا بلکہ اس پاگل اور ظالم ہٹلر کے لئے تھا، جو اب مر چکا ہے۔ تم یہ کہہ کر بچ نہیں سکتے کہ تم عوام اور جنگی قیدیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کے لئے ذمہ دار نہیں ہو۔ تم اپنے آپ کو صرف جرمنی کے وفادار فوجی کہہ کر بچ نہیں سکتے، کیونکہ تم وہی ہو جنہوں نے جنگی قیدیوں کو جانتے بوجھتے جرمن قاتلوں کے حوالے کیا تھا۔
تمہارا یہ کہنا کہ تم نہیں جانتے کہ ان قیدیوں، 60 لاکھ یہودیوں اور معصوموں کے ساتھ کیا کیا جا رہا تھا، یہ سچ نہیں ہے۔ اس کے باوجود تم ان ظالموں کا ساتھ دیتے رہے۔ اس لئے تم پر جنیوا کنونشن کے مطابق سلوک نہیں کیا جانا چاہیے۔ تمہارے ساتھ عزت کا سلوک کرنا غلط ہوگا۔
یہ کہہ کر جارج پیٹن نے حکم دیا کہ ان 42 افسروں کے کپڑے اتار دیے جائیں یا وہ خود ننگے ہو جائیں اور پھر بات کریں۔ ہر کوئی دنگ رہ گیا، مگر پیٹن نے کسی کی نہیں سنی۔
پیٹن نے کہا: تم بات کرتے ہو اپنی عزت اور اقدار (honor) کی اور یونیفارم کی، مگر اس وقت تم خاموش رہ کر اس پاگل ہٹلر کی مخالفت کیوں نہیں کی، جب وہ ہر کسی پر اور خود جرمن عوام پر ظلم پر ظلم ڈھا رہا تھا؟ اب بات کر رہے ہو اپنی honor کی۔
اب ان 42 افسروں نے تھرتھراتے ہاتھوں سے اپنے میڈل اور کپڑے اتارنے شروع کر دیے اور صرف چڈیوں میں کھڑے رہے۔
پھر پیٹن نے کہا: جب میں تمہاری طرف دیکھتا ہوں تو تم مجھے جانباز اور جنگجو سپاہی نظر نہیں آتے بلکہ عمر رسیدہ، بیمار اور کمزور دماغ کے نظر آتے ہو۔ تمہیں اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے امریکہ کی اطاعت کے لئے تیار ہو جانا چاہیے تھا، مگر تم لوگ حقیقت کو ماننے سے ہچکچا رہے ہو۔
یہ کہہ کر پیٹن نے ان کے سامنے وہ تمام تصاویر رکھیں جن میں وہ تمام مظالم دکھائے گئے تھے جو جرمنوں نے ڈھائے تھے اور معصوموں کو گیس چیمبروں میں ٹھونسے جانے کے مناظر تھے۔ کھانا اور پانی نہ دے کر بھوکے رکھے جانے والے ہڈیوں کے ڈھانچے جیسے انسانوں کی تصاویر بھی دکھائی گئیں۔
جب یہ سب دکھایا گیا تو سب شرم اور ندامت کے مارے رونے لگے اور کچھ گر گئے۔ کسی کے پاس کہنے کے لئے کچھ نہیں تھا۔
پھر پیٹن نے کہا: اگر تم اس پر پچھتا رہے ہو تو تمہیں ہٹلر اور اس کے ساتھیوں پر لعنت بھیجنی ہوگی اور اپنے آپ کو اس کی اطاعت سے باز رکھنا ہوگا، اور جرمنی کو نئے سرے سے قابلِ عزت بنانے کے لئے آگے آنا ہوگا۔ تمہیں جرمنی کی خدمت کرنے کے لئے کمر بستہ ہونا ہوگا اور ایسا کچھ کرنا ہوگا کہ دوبارہ کبھی ایسی بھیانک غلطی نہ ہو۔
تمہیں یاد رکھنا ہوگا کہ ایسے کسی ظالم سے وفاداری کس کام کی، جس میں دوسروں پر مظالم ڈھائے جائیں اور جس پر تمہیں خاموش رہنا پڑے۔ تمہیں مظالم کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے تھی اور ظالم کا ساتھ دینے سے انکار کر دینا چاہیے تھا۔
تصویریں دیکھنے کے بعد تمام جرمن افسروں نے شرم اور ندامت سے اپنے سر جھکا لئے اور وعدہ کیا کہ وہ اب حق و انصاف کے راستے پر چلیں گے۔ تب پیٹن نے انہیں اپنے یونیفارم پہننے کی اجازت دے دی اور انہیں آگے لے گئے۔
ان پر مقدمہ چلا، کچھ آزاد ہوئے اور کچھ کو قید کی سزا ہوئی۔ جو آزاد ہوئے، انہوں نے جرمنی کی دوبارہ تعمیر میں حصہ لیا۔
فلسطین میں غزہ اور مغربی کنارے کا اگر معاملہ لیں تو اسرائیل کے حملوں سے جو تباہی مچی، جو ظلم ڈھایا گیا اور جو خون کی ندیاں بہیں، انہیں دیکھ کر اور سن کر پتھر دل انسان کا دل بھی کام کرنا بند کر دے گا۔
اس پر 28 عرب ممالک کی خاموشی اور ظالم اسرائیل کے ساتھ دوستی کو دیکھ کر دل دہل جاتا ہے۔
جس طرح جرمنی کے فارن منسٹر Rippon Trap نے ہٹلر کو یقین دلایا تھا کہ تم اگر اپنے آس پاس کے ملکوں پر حملہ کر کے انہیں جرمنی میں شامل کر لو تو نہ برطانیہ اور نہ ہی فرانس میں ہمت ہوگی کہ تمہارے خلاف جنگ کا اعلان کر دیں۔ ہوا بھی ایسا ہی، اس وقت تک جب جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کر دیا۔
اسی طرح اسرائیل کو بھی یقین ہو گیا ہے کہ وہ جو چاہے کر لے، جتنا چاہے فلسطینیوں پر ظلم ڈھائے، عرب ممالک کچھ بھی کرنے والے نہیں ہیں۔ ہو بھی یہی رہا ہے۔ عرب ممالک کی خاموشی کے سبب غزہ آج قبرستان بن چکا ہے۔
کاش ہمارے پاس کوئی جارج پیٹن جیسا حکمران ہوتا تو وہ تمام 28 مسلم ممالک کے حکمرانوں کے ساتھ وہی سلوک کرتا جو پیٹن نے ان جرمن افسروں کے ساتھ کیا، یا انہیں محمد غوری کی طرح گھوڑے کے توبرے منہ پر باندھتا اور دوڑاتا۔
اگر وہ کہتے کہ انسانیت کے لحاظ سے ان کے ساتھ عزت اور احترام کا سلوک ہونا چاہیے تو انہیں جواب دیا جاتا کہ بتاؤ، تم کس بنیاد پر عزت و احترام کے قابل ہو، جب تم اپنے ہی بھائیوں پر ہونے والے ظلم پر آواز نہیں اٹھاتے اور امریکہ کو دھمکی نہیں دیتے کہ وہ اسرائیل کی مالی اور ملٹری حمایت بند کر دے۔
انہیں بتایا جاتا کہ ان کی خاموشی اسلام اور مسلمانوں کے نام پر ایک کالا دھبہ بن گئی ہے۔
انہیں بے بس اور بے کس بچوں کی تصویریں دکھاتے جو اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اللہ سے فریاد کر رہے تھے کہ: ’’اے ہمارے پروردگار! اس بستی سے ہم کو نکال لے، جس پر حملہ کرنے والے بڑے ظالم ہیں۔ اب تو ہی کسی کو اپنی طرف سے ہمارا حمایتی بنا کر کھڑا کر دے اور ہمارے لئے اپنے پاس سے کسی خاص مددگار کو بھیج دے۔‘‘
وہ تصویریں بھی دکھا دیتے جن میں تباہ شدہ ملبے میں آدھے دبے ہوئے ہماری چھوٹی چھوٹی بچیوں کے جسم اللہ سے فریاد کر رہے تھے کہ کوئی تو انہیں بچا لے۔
وہ عرب، جو مظلوموں کی حمایت میں اپنے گھروں سے نکل پڑتے تھے، اب وہ سب خاموش ہو گئے۔ کیوں؟ اتنی خاموشی کیوں؟
وہ تصویر بھی دکھا دیتے جس میں ایک تڑپتے بلکتے 6 برس کے فلسطینی بچے نے اپنے ننھے ننھے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر اللہ سے شکایت کی تھی کہ: ’’اے اللہ! میرا قصور کیا تھا کہ اسرائیلیوں کے ہاتھوں میرے ماں باپ اور بھائیوں کو بمباری میں مروا دیا؟‘‘
وہی بچہ دنیا کے مسلمانوں سے مخاطب ہو کر اللہ سے شکایت کر رہا تھا کہ کیوں اتنے سارے مسلمان ہونے کے باوجود مجھے یتیم ہونے کے لئے چھوڑ دیا گیا؟ میں ضرور اللہ سے تمہاری شکایت کروں گا۔
اگر ان تصویروں کو دیکھ کر بھی ان حکمرانوں کو شرم اور ندامت نہیں ہوئی تو سمجھو کہ وہ مردے ہیں، جن کا ضمیر مر چکا ہے اور وہ قابلِ عزت نہیں ہیں۔ مال و دولت کی آس نے ان کے ضمیر کو سلا دیا ہے۔
برہنہ کھڑے حکمرانوں سے پوچھا جاتا کہ تم تو دن رات ٹی وی پر فلسطینیوں پر ہونے والے اسرائیلی مظالم دیکھتے تھے، مگر کیا بات ہے کہ تمہاری غیرت نہیں جاگی اور تمہارا خون نہیں کھولا؟
ان سے پوچھتے کہ آج جب برطانیہ، فرانس، کینیڈا ملا کر 12 یورپی ملکوں نے اسرائیلی مظالم کے چلتے اس کی مصنوعات پر پابندی (Sanctions) لگا دی ہے تو تم نے بھی ویسا ہی کیوں نہیں کیا؟
اگر ان تصویروں کو دیکھ کر ان کا ضمیر جاگا اور ان کی آنکھوں سے شرم اور ندامت کے آنسو بہنے لگے تو وہ ضرور اٹھیں گے اور ایسے راستے اپنائیں گے جن میں وہ بغیر اسرائیل سے جنگ لڑے اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے دوسرے طریقے اپنائیں گے۔
دھمکی دیں گے کہ وہ سب مل کر اقوام متحدہ چھوڑ دیں گے، امریکہ کے اڈے خالی کروا لیں گے، ڈالر کی جگہ دوسری کرنسی استعمال کریں گے، خود کا دفاعی نظام بنائیں گے (جیسا کہ اب بن رہا ہے) اور اپنی تمام دولت جو امریکہ اور یورپی ممالک میں جمع ہے، اسے نکال لیں گے، اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی۔
اگر ان ننگے بدن حکمرانوں نے اسے تسلیم کر لیا تو انہیں اپنے یونیفارم دوبارہ پہننے کی اجازت دے دی جائے۔
کاش کہ ہم ایسا کر سکتے؟


