
خورشید ریشی
کپواڑہ ، کشمیر
کھیل کود انسان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لئے نہایت ضروری ہے۔ کھیل انسان کو چاق و چوبند، تندرست اور متحرک رکھنے کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط، برداشت، محنت اور مقابلے کا جذبہ بھی پیدا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پرانے زمانے میں بھی مختلف کھیل کھیلے جاتے تھے۔ کبڈی، کشتی اور دیگر روایتی کھیل نہ صرف جسمانی صحت کا ذریعہ تھے بلکہ ان میں وقت کے ضیاع کے بجائے جسمانی مشقت اور صحت مند سرگرمی کا عنصر نمایاں تھا۔
آج وادیٔ کشمیر کے تقریباً ہر حصے میں کھیلوں کی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ مختلف مقامات پر کرکٹ ٹورنامنٹس اور لیگز منعقد ہو رہی ہیں، جہاں کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں اور تماشائی بڑی تعداد میں ان کی حوصلہ افزائی کے لئے موجود ہوتے ہیں۔ بعض مقامات پر تو دن کے ساتھ ساتھ رات کی روشنی میں بھی مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں اور کھیل کے میدان شائقین سے بھرے نظر آتے ہیں۔
میں کھیل کے قطعی خلاف نہیں ہوں۔ بلکہ کھیل نوجوانوں کی صحت اور شخصیت سازی کے لئے ضروری ہیں۔ لیکن ایک سوال ضرور ذہن میں آتا ہے کہ کیا نوجوان نسل کو خود کو چاق و چوبند اور متحرک رکھنے کے لئے صرف کرکٹ ہی کا سہارا لینا چاہیے؟ کیا فٹبال، ہاکی، والی بال، کبڈی، کشتی اور دیگر کھیل ہماری نوجوان نسل کو صحت مند اور فعال رکھنے میں اپنا کردار ادا نہیں کر سکتے؟
اصل مسئلہ کھیل نہیں بلکہ کھیل کے لئے وقت اور زندگی کے دیگر اہم مقاصد کے درمیان توازن کا ہے۔
والدین اپنے بچوں سے بہت سی امیدیں وابستہ کرتے ہیں۔ ایک غریب یا متوسط طبقے کا والد اپنی عمر بھر کی کمائی اپنے بچوں کی تعلیم اور بہتر مستقبل پر خرچ کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ہر والدین سرمایہ دار نہیں ہوتے۔ بہت سے والدین کڑی دھوپ میں مزدوری کرتے ہیں، محنت کرتے ہیں اور اپنی ضروریات کو محدود کرکے اپنے بچوں کی تعلیم اور مستقبل کے لئے وسائل فراہم کرتے ہیں۔
ایسے میں بچوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ والدین کی محنت اور قربانی کی قدر کریں۔ والدین کا پیسہ اور وقت صرف اس طرح استعمال نہ کریں کہ کل کو انہیں اپنے فیصلوں پر افسوس ہو۔ کھیلیں ضرور، لیکن اپنی تعلیم، ہنر اور مستقبل کو نظرانداز کرکے نہیں۔
ایک اچھا کھلاڑی بھی کامیابی کے لئے منصوبہ بندی کرتا ہے۔ وہ اپنے وقت کو ضائع نہیں کرتا، روزانہ مشق کرتا ہے، اپنی کمزوریوں کو دور کرتا ہے اور اپنی منزل حاصل کرنے کے لئے مسلسل محنت کرتا ہے۔ یہی اصول زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی کامیابی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اگر ایک نوجوان کسی امتحان میں کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے، کوئی ہنر سیکھنا چاہتا ہے، کسی ملازمت کے لئے خود کو تیار کرنا چاہتا ہے یا زندگی میں کوئی بڑا مقام حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے بھی ایک کھلاڑی کی طرح مسلسل محنت، نظم و ضبط اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ شارٹ کٹ راستے اکثر منزل تک نہیں پہنچاتے۔ کامیابی کے لئے محنت، لگن اور انتھک کوشش ضروری ہے۔
کھیل کا میدان بھی ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ مقابلہ ایمانداری اور جذبے کے ساتھ کیا جائے۔ جو کھلاڑی پسینہ بہاتا ہے، مسلسل مشق کرتا ہے اور شکست سے سبق حاصل کرتا ہے، وہی آگے بڑھنے کے قابل ہوتا ہے۔ یہی سبق ہماری زندگی کے ہر میدان میں کارآمد ہے۔
ایک اور اہم پہلو مقامی ٹیلنٹ کا ہے۔ آج کشمیر میں بڑے پیمانے پر لیگز اور کرکٹ ٹورنامنٹس منعقد ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے دور دراز دیہات اور گاؤں کے ان نوجوانوں کو ان بڑے مقابلوں میں اپنی صلاحیتیں دکھانے کے کتنے مواقع مل رہے ہیں؟ اگر کھیل میں مالی وسائل کا کردار بڑھتا جائے اور مواقع صرف مخصوص حلقوں تک محدود رہیں تو ہمارے بہت سے باصلاحیت نوجوان پس منظر میں رہ سکتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ کھیلوں کے انعقاد میں مقامی ٹیلنٹ کو بھی مناسب مواقع فراہم کیے جائیں۔ دیہی علاقوں کے نوجوانوں کو سامنے لایا جائے، ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں اپنی صلاحیت ثابت کرنے کے لئے مساوی میدان فراہم کیا جائے۔ کھیل صرف تماشائیوں کی تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا ایک مؤثر وسیلہ بھی ہیں۔
تاہم نوجوانوں کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ زندگی کا آخری مقصد صرف کھیل کا میدان نہیں۔ کھیل زندگی کا ایک خوبصورت حصہ ہو سکتے ہیں، لیکن زندگی کے دیگر مقاصد بھی اپنی جگہ اہم ہیں۔ تعلیم، ہنر، روزگار، کردار سازی اور خاندان کی ذمہ داریاں بھی ہماری زندگی کا حصہ ہیں۔
اس لئے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے لئے ایک مناسب ٹائم ٹیبل بنائیں۔ کھیل کے لئے بھی وقت نکالیں، تعلیم کے لئے بھی، اپنے ہنر کو نکھارنے کے لئے بھی اور اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے بھی۔ جس قوم نے وقت کی قدر کی، اس نے ترقی کی منازل طے کیں۔ وقت ایک ایسی دولت ہے جو ایک بار گزر جائے تو واپس نہیں آتی۔
ہمارے ماضی میں بھی ایسے کئی کھلاڑی گزرے ہیں جنہوں نے اپنے گاؤں، قصبے اور علاقے کا نام روشن کیا۔ لیکن انہوں نے کھیل کو اپنی زندگی کا واحد مقصد نہیں بنایا۔ کھیل کے ساتھ ساتھ انہوں نے تعلیم، روزگار اور اپنی زندگی کے دیگر مقاصد پر بھی توجہ دی اور اپنی صلاحیتوں کو مختلف میدانوں میں بروئے کار لایا۔
لہٰذا نوجوان نسل کے لئے پیغام واضح ہے: کھیلیں ضرور، لیکن کھیل کے ساتھ زندگی کو بھی کھیل کی طرح سنجیدگی سے لیں۔ میدان میں کامیابی کے لئے جس محنت، نظم و ضبط اور وقت کی پابندی کی ضرورت ہوتی ہے، اگر یہی اصول زندگی میں اختیار کیے جائیں تو کامیابی کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
کھیل صحت دیتا ہے، نظم و ضبط سکھاتا ہے اور حوصلہ بڑھاتا ہے؛ مگر مستقبل صرف کھیل سے نہیں بنتا۔ مستقبل تعلیم، ہنر، محنت، وقت کی قدر اور مسلسل جدوجہد سے بنتا ہے۔ نوجوان اگر کھیل اور مستقبل کے درمیان مناسب توازن قائم کرلیں تو نہ صرف وہ اپنے والدین کی امیدوں پر پورا اتر سکتے ہیں بلکہ اپنے علاقے اور معاشرے کے لئے بھی ایک روشن مثال بن سکتے ہیں۔


