
سراج نقوی
امریکہ میں اسی سال نومبر میں وسط مدتی الیکشن ہونے والے ہیں،لیکن اس سے پہلے ہی ٹرمپ کو امریکی ایوان نمائیندگان میں بڑا جھٹکا لگا ہے۔گزشتہ منگل کے روز(15ستمبر( ایوان نے صدر کے جنگی اختیارات سے متعلق ایک قرار داد منظور کرکے واضح کر دیا ہے کہ اب ٹرمپ کو نومبر انتخابات میں شکست کے لئے تیار رہنا چاہیے۔حالانکہ اگر ٹرمپ نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ہار بھی جاتے ہیں تب بھی ان کا عہدہ صدارت خطرے میں پڑنے کا امکان بہت کم ہے،لیکن یہ طے ہے کہ اس صورت میں ٹرمپ حکومت کے لئے بہت سے فیصلے کرنے میں رکاوٹیں کھڑی ہونگی اور ان کی پارٹی کو بھی اس کے نتائج بھگتنے پڑینگے۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ منگل کے روز امریکہ کے ایوانِ نمائیندگا ن میں ٹرمپ کے جنگی اختیارات کم کرنے کے تعلق سے ہوئی ووٹنگ میں خود ٹرمپ کی ریپبلیکن پارٹی کے بھی سات ممبران نے ڈیموکریٹس کی پیش کردہ قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ خود اپنی پارٹی میں بھی الگ تھلگ پڑتے جا رہے ہیں اور ان کی حمایت کم ہو رہی ہے۔
گزشتہ منگل کے روز ڈیموکریٹ رکن پارلیمنٹ سیٹھ مولٹن نے ایوان میں ایک قرارداد پیش کی تھی،اس قرارداد میں ٹرمپ سے کہا گیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ دشمنانہ کارروائیوں کو بند کرتے ہوئے امریکی فوج کو واپس بلائیں۔قرارداد 204ووٹوں کے مقابلے 220ووٹوں سے کامیاب ہو گئی،لیکن اس کا اہم پہلو یہ ہے کہ قرار داد کے حق میں ووٹ دینے والے ممبران پارلیمنٹ میں سات ممبران حکمراں ریپبلیکن پارٹی کے بھی تھے۔حالانکہ ایک آزاد رکن پارلیمنٹ نے قرار داد کے خلاف ووٹ دیا۔ہر چند کہ یہ قرار داد ٹرمپ کو فوری طور پر ایران کے خلاف جنگ بند کرنے کا پابند نہیں بناتی۔اس لئے کہ امریکہ میں صدر کو بہت زیادہ اختیارات حاصل ہیں،اور اسی طرح کی دو قرار دادیں بھی ماضی قریب میں امریکی ایوان نمائیندگان میں پاس ہو چکی ہیں،لیکن ان کا کوئی اثر ٹرمپ کی جنگی پالیسی یا ٹرمپ کے اردادوں پر نہیں پڑا۔یہی سبب ہے کہ جنگ اب بھی ایک محدود سطح پر جاری ہے۔یہ الگ بات کہ جنگ جاری رکھنے کی ٹرمپ کی سنک نے امریکہ کا ہر اعتبار سے بڑا نقصان کیا ہے۔اسی طرح کی ایک قرارداد رواں سال جون میں بھی پاس ہوئی تھی اور اس وقت بھی ٹرمپ کی اپنی ریپبلیکن پارٹی کے چار ممبران پارلیمنٹ نے قرارداد کی حمایت کی تھی ۔اس سے اگلے ہی ماہ یعنی جولائی میں پھر اسی طرح کی ایک قرارداد پارلیمنٹ میں پیش کی گئی اور اس میں بھی ٹرمپ انتظامیہ کو شکست کا منھ دیکھنا پڑا۔اس قرار داد میں بھی ان چار ریپبلیکن ممبران پارلیمنٹ نے ڈیموکریٹک پارٹی کی قرار داد کی حمایت کی تھی کہ جنھوں نے اس سے پہلے جون کی قرار داد میں ٹرمپ کے خلاف ووٹ ڈالا تھا۔لیکن گزشتہ منگل کے روز پیش قرار داد کا خاص پہلو یہ ہے کہ اب ٹرمپ کی اپنی پارٹی میں ہی ان کے مخالفین کی تعداد چار سے بڑھ کر سات تک پہنچ گئی ہے۔اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ کی اپنی پارٹی میں ہی مخالفت بڑھ رہی ہے اور وہ کمزور ہو رہے ہیں۔اسی وجہ سے یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ ٹرمپ وسط مدتی الیکشن ہار جائینگے۔زیر بحث قرادادوں میں ٹرمپ کی شکست کو زمینی سطح پر بھلے ہی کوئی بڑا نقصان نہ مانا جائے ،لیکن ایسی قرار دادوں کو امریکی قانون میں علامتی تو مانا ہی جاتا ہے۔اس اعتبار سے یہ علامتی ہونے کے باوجود ٹرمپ کے مستقبل کا اشارہ بھی ہیں۔اہم بات یہ نہیں کہ اس وقت ان قراردادوں سے ٹرمپ کے انتظامی اختیارات پر کیا اثر پڑا۔بلکہ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں بھی اگر یہ رجحان جاری رہا تو ٹرمپ اپنی مدت کار کس طرح سے مکمل کر پائینگے۔اس لئے کہ وسط مدتی انتخابات کی شکست ٹرمپ کے اختیارات سمیت بہت سے مسائل کا سبب بنیگی۔اس تعلق سے ایک تجزیہ گزشتہ کالم میں پیش کیا جا چکا ہے۔
ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ یہ قابلِ غور ہے کہ داخلی سطح پر ٹرمپ کی شکستیں بین الاقوامی سطح پر بھی ان کو کمزور کر رہی ہیں۔امریکہ اور اس سے باہر باقی دنیا بھی اب ٹرمپ کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔امریکی عوام اگر اس بات پر ٹرمپ سے ناراض ہیں کہ انھوں نے اسرائیلی مفادات کے امریکی فوجیوں کو قربان کر دیا تو دوسری طرف رواں جنگ میں امریکہ کو ہوئے بھاری مالی اور دفاعی نقصان کی جو رپورٹ گزشتہ دنوں منظر عام پر آئی ہے اس نے ٹرمپ کی داخلی پوزیشن کو کمزور کیا ہے۔اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کو یکم اگست تک اس جنگ کے نتیجے میں تقریباً 38ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ خطیر رقم امریکہ کی ڈانوا ڈول معیشت کے لئے ایک بڑا جھٹکا ہے۔اس کے علاوہ کچھ مالی نقصانات ایسے ہیں کہ جنھیں اس رپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو امریکہ کو مزید دو سے تین ارب ڈالر اس جنگ میں خرچ کرنے پڑ سکتے ہیں۔باقی دنیا کے دفاعی تجزیہ کاروں کی بات چھوڑیں خود امریکہ کے تجزیہ کار یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ امریکہ یہ جنگ ہار چکا ہے اور اسے بھاری مالی و دفاعی نقصان اٹھانا پڑا ہے،اور ظاہر ہے جو ساکھ امریکہ نے اس جنگ میں گنوائی ہے اس کا ازالہ ہونے کا کوئی امکان تو دور دور تک نہیں نظر آتا۔امریکیوں یا وہاں کے دفاعی ماہرین کے لئے زیادہ باعث تشویش بات یہ ہے کہ ٹرمپ اب بھی یہ غلط فہمی پالے ہوئے ہیں کہ ایران سے لاحق خطرے سے نمٹنے کے لئے فوجی مہم ضروری ہے۔اب یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اب تک کی فوجی مہم میں امریکہ نے کیا گنوایا ہے اور کیا کھویاہے۔ناٹو اور امریکہ کے آپسی رشتے تباہ ہو چکے ہیں۔مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈے اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں۔امریکی فوجی جنگ سے فرار اختیار کرنے کے لئے مختلف ہتھکنڈے اپنا رہے ہیں۔امریکہ کے اسلحہ ذخائر کا حال یہ ہے کہ اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کی اسلحہ ساز کمپنیوں کو فوج کے اسلحہ ذخائر بھرنے کے لئے تین سال سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے۔امریکہ کے دفاعی عہدیدار وں نے اعتراف کیا ہے کہ ایران سے جنگ میں بڑے پیمانے پر گولا بارود کے استعمال سے کچھ اہم اسلحہ کے ذخائر کافی کم ہو گئے ہیں۔حکومت اس کمی کو پورا کرنے کے لئے کوششیں کر رہی ہے،لیکن اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں امریکہ کا دفاعی بجٹ کافی بڑھ جانے کا امکان بھی ہے۔خاص بات یہ ہے کہ امریکہ کی دفاعی کمپنیاں کی پیداواری صلاحیت کو دیکھتے ہوئے یہ کام بیحد مشکل ہے۔دفاعی ماہرین اس بات کو لیکر بھی فکر مند ہیں۔دوسری طرف ایران ہے ۔
اس جنگ میں حالانکہ ایران کو بھی کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔اس کے بنیادی ڈھانچے کو امریکہ نے تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نشانہ بنایا ہے۔عوامی مقامات،اسکولوں اور اسپتالوں پر بھی حملے کیے گئے ہیں،لیکن ان تمام باتوں کے باوجود ایران کی جنگی صلاحیت،طویل جنگ لڑنے کی اس کی زبردست حکمت عملی اور امریکہ و اسرائیل کے تعلق سے اس کے خدشات نے ایران کو دفاعی تیاری میں اسی لئے کامیاب کیا کہ اس نے چالیس سال سے زیادہ کے عرصے میں کم لاگت سے زیادہ موثر اور کامیاب حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے خود کو اس قابل بنا لیا ہے کہ وہ دس سال تک امریکہ سے جنگ لڑنے کے دعوے کر رہا ہے اور بار بار اس بات کے ثبوت پیش کر رہاہے کہ اس کے نہ صرف یہ کہ اب بھی اسلحہ کا بڑا ذخیرہ ہے بلکہ دفاع کے شعبے میں بھی اس کی پیداواری صلاحیت امریکہ اور دنیا کی دیگر بڑی طاقتوں سے زیادہ اور انھیں حیران کرنے والی ہے۔
اسی لئے اگر امریکی ایوان نمائیندگان میں جنگ روکنے کی قرار داد پاس ہونے کے باوجود ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کو طول دینے پر آمادہ ہیں توان کا یہ عمل ایران کو بھلے ہی کتنا بھی نقصان پہنچائے لیکن اس سے کہیں زیادہ نقصان امریکہ کی دفاعی صلاحیت اور اس کی معیشت کو پہنچنے کا خطرہ ہے۔یہی سبب ہے کہ خود ٹرمپ کی پارٹی میں بھی اس کی مخالفت بڑھ رہی ہے،


