دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کرنے والے ملک سعودی عرب نے اچانک ایک ایسا بڑا فیصلہ سنایا ہے، جس نے پوری دنیا کی انرجی مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔ ریڈ سی یعنی بحیرۂ احمر سے جڑی مین پائپ لائن پر ہوئے خوفناک حملے کے بعد سعودی عرب نے اپنے خام تیل کے ایکسپورٹ کا پورا روٹ ہی تبدیل کر دیا ہے۔ بحران کی اس گھڑی میں سعودی آرامکو نے یورپ کو بری خبر دی ہے۔ وہیں دوسری طرف، سعودی عرب نے تقریباً 60 ملین بیرل کروڈ آئل کو عمان کی صحار پورٹ کی طرف ڈائیورٹ کر دیا ہے۔ یورپ کے دروازے بند کرکے تیل کو عمان کے راستے موڑے جانے سے ہندوستان، چین اور جاپان جیسے ایشیائی ممالک کی لاٹری لگ گئی ہے۔
عام طور پر سعودی عرب اپنے وسیع و عریض انفراسٹرکچر کے ذریعے خلیج فارس اور ریڈ سی دونوں طرف کی بندرگاہوں سے تیل باہر بھیجتا ہے۔ لیکن ینبع ایکسپورٹ ٹرمینل کو جوڑنے والی پائپ لائن پر حوثی باغیوں نے حملہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے وہاں کام بہت سست پڑ گیا۔
اس مشکل سے نکلنے کے لیے سعودی عرب نے ایک راستہ نکالا ہے۔ خلیج میں واقع رأس تنورہ پورٹ سے خام تیل عمان کی صحار پورٹ لایا جا رہا ہے۔ یہاں سمندر کے اندر ہی ایک بڑے جہاز سے دوسرے جہاز میں تیل منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس انوکھے انتظام کی بدولت سعودی عرب ریڈ سی کے خطرات سے بچتے ہوئے اپنے خریداروں تک تیل پہنچا پا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ماہ اور اگلے ماہ کو ملا کر کل 60 ملین بیرل خام تیل اسی عمان والے روٹ سے نکالا جائے گا۔
یورپ کو جھٹکا، اگلے ماہ ایک بوند بھی نہیں ملے گا تیل
ایک طرف جہاں ایشیائی ممالک کو عمان کے راستے تیل بھیجا جا رہا ہے، وہیں یورپ کے لیے یہ فرمان انتہائی بری خبر لایا ہے۔ سعودی آرامکو نے یورپ کی کم از کم دو بڑی ریفائننگ کمپنیوں کو صاف الفاظ میں بتا دیا ہے کہ انہیں اگلے ماہ کوئی سعودی خام تیل نہیں دیا جائے گا۔
یہ فیصلہ یورپ کے تقریباً تمام تیل خریداروں پر لاگو ہونے جا رہا ہے۔ سعودی آرامکو عام طور پر یورپی کمپنیوں کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں کے تحت کام کرتا ہے، جن کے ذریعے ہر ماہ مقررہ مقدار میں شپمنٹ بھیجی جاتی ہے۔ لیکن اگلے ماہ یہ ڈیلیوری مکمل طور پر ٹھپ رہنے والی ہے۔ اس پائپ لائن کے بند ہونے سے پہلے تک یورپی ممالک روزانہ تقریباً 5,77,000 بیرل سعودی خام تیل درآمد کر رہے تھے۔ اب اچانک اتنی بڑی سپلائی کٹ سے یورپ کے انرجی سیکٹر پر بھاری دباؤ پڑنا طے ہے۔
ہندوستان کو ہوگا بڑا فائدہ
یورپ کے لیے بھلے ہی تیل کا قحط پڑنے والا ہو، لیکن ایشیائی ممالک کے لیے کہانی بالکل مختلف دکھائی دے رہی ہے۔ عمان کی صحار پورٹ پر جو اسپاٹ کارگو تیار کیا جا رہا ہے، اس کے سب سے بڑے خریدار چین اور جنوبی کوریا کی ریفائنریاں بن کر ابھری ہیں۔
اس کے ساتھ ہی اس تیل کا ایک بڑا حصہ ہندوستان اور جاپان بھی بھیجا جائے گا۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ریڈ سی میں ہنگامہ اور ینبع پورٹ پر کام سست ہونے کے باوجود ہندوستانی ریفائنریوں کو سعودی عرب سے خام تیل کی سپلائی مسلسل ملتی رہے گی۔ سعودی عرب اپنے سب سے بڑے اور قابل اعتماد ایشیائی گاہکوں کو کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتا، اس لیے وہ گلف انفراسٹرکچر کا استعمال کرکے پوری طاقت سے سپلائی برقرار رکھنے میں مصروف ہے۔


