جنگ نیوز
ایجنسیاں
تہران/مکہ مکرمہ کے قریب ایک ڈرون کو سعودی فضائی دفاع کی جانب سے روکنے کے واقعے پر ایران اور یمن کی انصار اللہ (حوثی تحریک) نے سعودی عرب کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے کہ ڈرون مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ محض ڈرون روکنے کے دعوے کی بنیاد پر کسی فریق کو ذمہ دار قرار دینا درست نہیں اور خطے میں ماضی کی ’’فالس فلیگ‘‘ کارروائیوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
سعودی زیر قیادت اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے 16 ستمبر کو کہا تھا کہ سعودی فضائی دفاع نے مکہ کے جنوب میں ایک ڈرون کو تباہ کیا، اس سے پہلے کہ وہ مقدس شہر کے ممنوعہ فضائی علاقے میں داخل ہوتا۔ سعودی حکام نے اسے حوثیوں کی جانب سے مکہ کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا اور مقدس مقامات کی سلامتی کو ’’سرخ لکیر‘‘ قرار دیا۔
تاہم حوثی قیادت نے اس الزام کی سختی سے تردید کی۔ انصار اللہ کے رہنما عبدالملک الحوثی نے سعودی دعوے کو ’’سنگین جھوٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانا ان کی تحریک کی پالیسی نہیں۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے بھی کہا کہ ان کے حملوں کا ہدف سعودی فوجی اڈے اور تیل کی تنصیبات ہیں، مقدس مقامات نہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ مکہ، مدینہ اور دیگر اسلامی مقدس مقامات کے خلاف کسی بھی جارحیت کی مذمت کی جانی چاہیے، تاہم صرف یہ دعویٰ کہ مکہ کی جانب بڑھنے والے ڈرون کو روکا گیا، کسی مخصوص فریق کو ذمہ دار ٹھہرانے کے لئے کافی نہیں۔
بقائی نے خطے میں حالیہ برسوں کے دوران مبینہ ’’فالس فلیگ‘‘ کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے واقعات کو مسلم ممالک کے درمیان اختلافات اور علاقائی کشیدگی بڑھانے کے لئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
ایرانی مؤقف میں کسی تیسرے فریق کو موجودہ ڈرون واقعے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا، تاہم تہران نے اس امکان کی طرف اشارہ کیا ہے کہ غیرمصدقہ الزامات کو کسی دوسرے فریق کے خلاف کارروائی یا علاقائی رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
سعودی عرب کا مؤقف ہے کہ ڈرون حوثیوں کی جانب سے بھیجا گیا تھا۔ رائٹرز کے مطابق سعودی اتحاد نے اس واقعے کو مکہ کے خلاف دوسری مبینہ حوثی کوشش قرار دیا ہے، جبکہ حوثیوں نے ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق عبدالملک الحوثی نے سعودی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مکہ کو نشانہ بنانے کا الزام حوثیوں کے خلاف پروپیگنڈا ہے۔ اس دوران سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان دیگر علاقوں میں میزائل اور ڈرون حملوں کا تبادلہ بھی جاری ہے۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مکہ پر مبینہ حوثی حملے سے متعلق بعض ویڈیوز بھی بڑے پیمانے پر شیئر ہوئیں۔ تاہم بھارتی فیکٹ چیک ادارے BOOM نے کم از کم دو وائرل ویڈیوز کو پرانا اور موجودہ واقعے سے غیر متعلق قرار دیا۔ ایک ویڈیو 2025 کے مدینہ سے متعلق ایک پرانے واقعے سے جبکہ دوسری 2022 میں جدہ میں سعودی آرامکو تنصیب میں آتش زدگی سے متعلق پائی گئی۔
اس صورتحال میں اصل واقعے اور اس سے متعلق گردش کرنے والے دعووں کے درمیان فرق برقرار رکھنا اہم ہے۔ سعودی عرب نے ڈرون کو حوثیوں سے منسوب کیا ہے، جبکہ حوثی اس کی تردید اور ایران ذمہ داری طے کرنے کے لئے مزید شواہد کا مطالبہ کر رہا ہے۔ فی الحال دستیاب معلومات کی بنیاد پر کسی تیسرے فریق کو اس واقعے کا ذمہ دار قرار دینا ثابت شدہ حقیقت نہیں ہے۔
مکہ مکرمہ کی مذہبی اہمیت کے پیش نظر یہ تنازع محض ایک فوجی واقعے تک محدود نہیں۔ اس لئے ذمہ داری کے تعین کے لئے قابل تصدیق شواہد، ڈرون کی سمت، اس کی نوعیت اور ملبے سے حاصل ہونے والی معلومات سامنے آنا خطے میں مزید کشیدگی روکنے کے لئے اہم ہوگا۔


