جنگ نیوز ڈیسک
سری نگر، 13 ستمبر: تین روزہ ’کشمیر تھیٹر کانفرنس‘ ایک پُروقار اختتامی و اعزازی تقریب کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ کانفرنس میں ممتاز تھیٹر فنکاروں، اسکالروں، ادیبوں اور ثقافتی شخصیات نے کشمیر کی تھیٹر روایت، موجودہ چیلنجز اور مستقبل کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
کانفرنس میں حسرت گڈا، گوری شنکر رائنا، بھوانی بشیر یاسر، ڈاکٹر عیاض عارف، روی کیمو، گلزار احمد بٹ، پروفیسر فاروق فیاض، للت پریمو، مجید خان، شیخ حنیف، شاہِ جہاں احمد بھگت، جاوید خان، رئیس وٹھوری، نثار نسیم، ارشد مشتاق، ریشی رشید، حسن جاوید، ایم۔ وائی۔ شاہین، حکیم جاوید، امین بٹ، گلزار فائٹر، شیخ الطاف، میر سرور، ایس۔ ہمایوں قیصر اور مشتاق علی احمد خان نے مقالے اور پیش کشیں پیش کیں۔
اختتامی تقریب میں سید ہمایوں قیصر نے خیرمقدمی کلمات پیش کیے۔ تھیٹر پریکٹیشنر روی کیمو، رائٹر و تھیٹر پریکٹیشنر گوری شنکر رائنا، ایکٹر و ڈائریکٹر للت پریمو، کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر شیخ برہان، وائس چیئرپرسن ایس ایس ایم کالج آف انجینئرنگ دلافروز قاضی، سابق بیوروکریٹ و سماجی کارکن روما وانی، ایڈیشنل سیکریٹری جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز لال چند، نیشنل ترجمان لوک جن شکتی پارٹی سنجے صراف اور سابق وزیرِ محصولات سید بشارت بخاری مہمانانِ اعزاز تھے، جبکہ سیکریٹری اطلاعات منیر الاسلام (آئی اے ایس) مہمانِ خصوصی تھے۔
مقررین نے ایکٹ فار اے بیٹر ٹومارو کو کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر سراہتے ہوئے کشمیر کے تھیٹر اور ثقافتی ورثے کے تحفظ، فنکاروں کی حوصلہ افزائی اور نئی تخلیقی آوازوں کو مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر شرکا، معاونین اور اسپانسرز میں یادگاری تحائف تقسیم کیے گئے جبکہ مہمانِ خصوصی اور مہمانانِ اعزاز کو کشمیری شالیں اور مومنٹو پیش کیے گئے۔ مشتاق علی احمد خان نے کلماتِ تشکر پیش کیے۔
کانفرنس کے دوران ’’زو قدم کَیتھِس تام‘‘ اور ’’کانفلکٹ‘‘ کشمیری جبکہ اردو ڈرامہ ’’پاگل کون؟‘‘ پیش کیا گیا۔ تقریب میں کشمیری لوک رقص ’’روف‘‘ اور بھاند پتھر نے بھی شائقین کو محظوظ کیا۔ کانفرنس نے کشمیر میں تھیٹر کے فروغ، تحقیق، تخلیقی اظہار اور نوجوان فنکاروں کے لئے نئے مواقع پیدا کرنے کے عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔


