سرینگر:
جموں و کشمیر نیشنل ہیلتھ مشن ایمپلائز ایسوسی ایشن (JKNHMEA) نے اپنے دیرینہ مطالبات کا حل نہ نکلنے اور حکومت کی جانب سے کسی ٹھوس و وقت کے پابند فیصلے کی عدم موجودگی کے باعث جموں و کشمیر بھر میں اپنی ہڑتال میں 15 ستمبر سے مزید 72 گھنٹوں کی توسیع کر دی ہے۔
اس فیصلے کے بارے میں ایسوسی ایشن کی جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے ایک مراسلے کے ذریعے مشن ڈائریکٹر، نیشنل ہیلتھ مشن، جموں و کشمیر کو باضابطہ طور پر مطلع کر دیا گیا ہے۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ ملازمین اپنا احتجاج پرامن، جمہوری اور آئینی دائرے کے اندر جاری رکھیں گے۔ تمام شرکاء کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ احتجاج کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھیں اور امن و امان میں خلل نہ پڑنے دیں۔
ملازمین نے حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے اپنی آمادگی کا اعادہ کرتے ہوئے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ان کی شکایت کے ازالے کے لیے معنی خیز اور وقت کے پابند اقدامات کیے جائیں گے۔
اس مراسلے کی کاپیاں سینئر حکام کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں، جن میں مرکزی وزرائے صحت و خاندانی بہبود اور محنت و روزگار، لیفٹیننٹ گورنر جموں و کشمیر، چیف منسٹر، اور جموں و کشمیر کے وزرائے صحت و طبی تعلیم اور محنت و روزگار شامل ہیں۔
ہڑتال میں 72 گھنٹوں کی اس توسیع کے باعث صحت کی خدمات، بالخصوص دیہی اور دور دراز علاقوں میں متاثر ہونے کا اندیشہ ہے، جہاں این ایچ ایم کا عملہ شعبہ صحت کا ایک اہم حصہ ہے۔
اس سے قبل ہفتے کے روز جموں و کشمیر کی وزیر برائے صحت و طبی تعلیم سکینہ اتو نے احتجاجی این ایچ ایم ملازمین سے ہڑتال ختم کرکے واپس ڈیوٹی پر لوٹنے کی اپیل کی تھی۔


