پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ

جنگ نیوز ڈیسک

پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر اپنی نازک ہمالیائی جغرافیائی ساخت، دشوار گزار خطے اور موسمی تغیرات کے باعث سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، زلزلوں، برفانی تودوں اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے پیدا ہونے والے سیلاب (GLOFs) سمیت متعدد قدرتی آفات کے خطرات سے انتہائی حساس ہے۔
کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق کشمیر وادی سیلاب کے خطرات سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ رکھتی ہے، چناب وادی لینڈ سلائیڈنگ کے لئے حساس ہے، جبکہ جموں خطہ زلزلہ خیز علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔
رپورٹ میں جموں و کشمیر کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان، جسے پہلی بار 2017 میں نافذ کیا گیا تھا، 2023 میں مرکز کے زیر انتظام علاقے کے انتظامی ڈھانچے اور قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان کے مطابق نظرثانی کے بعد مرتب کیا گیا۔ تمام 20 اضلاع کے لئے ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان بھی تیار کیے جا چکے ہیں۔
کمیٹی نے کہا کہ انتظامی تنظیم نو کے بعد ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنایا گیا، تاہم ابتدائی مرحلے میں ذمہ داریوں کی وضاحت اور مختلف محکموں کے درمیان تال میل کے حوالے سے مشکلات پیش آئیں۔
رپورٹ کے مطابق سڑک، سیاحت اور پن بجلی منصوبوں میں ڈھلوانوں کے استحکام اور بہتر نکاسیٔ آب جیسے اقدامات کے ذریعے آفات کے خطرات کو کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم انہیں ابھی تک یکساں اور جامع نظام کا حصہ نہیں بنایا جا سکا۔
کمیٹی نے ابتدائی انتباہی نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات، بشمول کامن الرٹنگ پروٹوکول اور IMD، CWC اور DGRE سے موصول ہونے والے انتباہات کے انضمام کو سراہا، تاہم کشتواڑ، کپواڑہ اور بانڈی پورہ جیسے دور دراز اضلاع میں آخری سطح تک اطلاعات کی بروقت رسائی کو اب بھی ایک بڑا چیلنج قرار دیا۔
رپورٹ میں SDRF، NDRF اور فوج کے باہمی تعاون سے آفات سے نمٹنے کی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ حساس علاقوں میں وسائل کی پیشگی دستیابی اور موسمی تیاریوں پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
کمیٹی کے مطابق آپدا متر اور آپدا سکھی جیسے اقدامات کے علاوہ پنچایت اور بلاک سطح پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹیوں کے قیام سے عوامی سطح پر تیاریوں کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔
رام بن، بارہمولہ اور اوڑی جیسے حساس علاقوں میں ڈھلوانوں کے استحکام، سیلاب سے تحفظ اور بند تعمیر کرنے سمیت مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ GLOFs کے خطرات سے نمٹنے کے لئے گلیشیائی جھیلوں کی نگرانی بھی جاری ہے۔
پارلیمانی کمیٹی نے سرینگر اور جموں میں شہری سیلاب سے نمٹنے کے اقدامات کا بھی ذکر کیا، تاہم سیلابی میدانوں پر تجاوزات، نکاسیٔ آب کے ناکافی نظام اور قوانین کے نفاذ میں خامیوں کو تشویش ناک قرار دیا۔
کمیٹی نے کہا کہ زلزلہ مزاحم تعمیرات اور سیلابی میدانوں کی زوننگ سے متعلق ضوابط موجود ہیں، لیکن بالخصوص نیم شہری اور دیہی علاقوں میں ان پر عمل درآمد یکساں نہیں ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر نے آفات سے نمٹنے کے نظام کو مضبوط بنانے میں قابلِ ذکر پیش رفت کی ہے، تاہم دور دراز علاقوں تک بروقت انتباہ کی رسائی بہتر بنانے، زمین کے استعمال سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل درآمد، ترقیاتی سرگرمیوں میں آفات کے خطرات میں کمی کو شامل کرنے اور تکنیکی و ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

وزیر اعظم مودی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مابین میٹنگ

جنگ نیوز وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو ایرانی...

تازہ ترین خبریں

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

وزیر اعظم مودی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مابین میٹنگ

جنگ نیوز وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو ایرانی...

پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ

جنگ نیوز ڈیسک

پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر اپنی نازک ہمالیائی جغرافیائی ساخت، دشوار گزار خطے اور موسمی تغیرات کے باعث سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، زلزلوں، برفانی تودوں اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے پیدا ہونے والے سیلاب (GLOFs) سمیت متعدد قدرتی آفات کے خطرات سے انتہائی حساس ہے۔
کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق کشمیر وادی سیلاب کے خطرات سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ رکھتی ہے، چناب وادی لینڈ سلائیڈنگ کے لئے حساس ہے، جبکہ جموں خطہ زلزلہ خیز علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔
رپورٹ میں جموں و کشمیر کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان، جسے پہلی بار 2017 میں نافذ کیا گیا تھا، 2023 میں مرکز کے زیر انتظام علاقے کے انتظامی ڈھانچے اور قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان کے مطابق نظرثانی کے بعد مرتب کیا گیا۔ تمام 20 اضلاع کے لئے ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان بھی تیار کیے جا چکے ہیں۔
کمیٹی نے کہا کہ انتظامی تنظیم نو کے بعد ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنایا گیا، تاہم ابتدائی مرحلے میں ذمہ داریوں کی وضاحت اور مختلف محکموں کے درمیان تال میل کے حوالے سے مشکلات پیش آئیں۔
رپورٹ کے مطابق سڑک، سیاحت اور پن بجلی منصوبوں میں ڈھلوانوں کے استحکام اور بہتر نکاسیٔ آب جیسے اقدامات کے ذریعے آفات کے خطرات کو کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم انہیں ابھی تک یکساں اور جامع نظام کا حصہ نہیں بنایا جا سکا۔
کمیٹی نے ابتدائی انتباہی نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات، بشمول کامن الرٹنگ پروٹوکول اور IMD، CWC اور DGRE سے موصول ہونے والے انتباہات کے انضمام کو سراہا، تاہم کشتواڑ، کپواڑہ اور بانڈی پورہ جیسے دور دراز اضلاع میں آخری سطح تک اطلاعات کی بروقت رسائی کو اب بھی ایک بڑا چیلنج قرار دیا۔
رپورٹ میں SDRF، NDRF اور فوج کے باہمی تعاون سے آفات سے نمٹنے کی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ حساس علاقوں میں وسائل کی پیشگی دستیابی اور موسمی تیاریوں پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
کمیٹی کے مطابق آپدا متر اور آپدا سکھی جیسے اقدامات کے علاوہ پنچایت اور بلاک سطح پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹیوں کے قیام سے عوامی سطح پر تیاریوں کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔
رام بن، بارہمولہ اور اوڑی جیسے حساس علاقوں میں ڈھلوانوں کے استحکام، سیلاب سے تحفظ اور بند تعمیر کرنے سمیت مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ GLOFs کے خطرات سے نمٹنے کے لئے گلیشیائی جھیلوں کی نگرانی بھی جاری ہے۔
پارلیمانی کمیٹی نے سرینگر اور جموں میں شہری سیلاب سے نمٹنے کے اقدامات کا بھی ذکر کیا، تاہم سیلابی میدانوں پر تجاوزات، نکاسیٔ آب کے ناکافی نظام اور قوانین کے نفاذ میں خامیوں کو تشویش ناک قرار دیا۔
کمیٹی نے کہا کہ زلزلہ مزاحم تعمیرات اور سیلابی میدانوں کی زوننگ سے متعلق ضوابط موجود ہیں، لیکن بالخصوص نیم شہری اور دیہی علاقوں میں ان پر عمل درآمد یکساں نہیں ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر نے آفات سے نمٹنے کے نظام کو مضبوط بنانے میں قابلِ ذکر پیش رفت کی ہے، تاہم دور دراز علاقوں تک بروقت انتباہ کی رسائی بہتر بنانے، زمین کے استعمال سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل درآمد، ترقیاتی سرگرمیوں میں آفات کے خطرات میں کمی کو شامل کرنے اور تکنیکی و ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں