امریکہ میں اتحاد کا پیغام، ہندوستان میں اس کا عملی امتحان!*

 

 

تحریر: مومن فیاض احمد غلام مصطفیٰ

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے امریکہ کے نیویارک میں منعقدہ “Universal Oneness Celebration” میں جو بات کہی ہے، اسے معمولی بیان سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ہندو یہ سمجھتا ہے کہ بھارت میں مسلمان نہیں ہونے چاہئیں تو وہ ہندو نہیں رہے گا۔ انہوں نے ہندوستان کی شناخت کو تنوع اور اتحاد سے جوڑتے ہوئے انسانیت اور باہمی احترام کی بات بھی کی۔
یہ بات اچھی ہے، بلکہ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ پیغام صرف امریکہ کی سرزمین پر کیوں؟
ہندوستان میں مسلمانوں کے حوالے سے آر ایس ایس اور اس سے وابستہ حلقوں کے بارے میں طویل عرصے سے شدید سیاسی اور سماجی اختلافات اور مسلم مخالف رویوں کے الزامات موجود رہے ہیں۔ اسی لئے جب آر ایس ایس کا سربراہ امریکہ میں کھڑے ہوکر مذہبی ہم آہنگی، تنوع اور مسلمانوں کے ہندوستان میں حقِ وجود کی بات کرتا ہے تو ایک فطری سوال پیدا ہوتا ہے: کیا یہی پیغام ہندوستان میں بھی اسی قوت اور وضاحت کے ساتھ سنائی دے گا؟
بات امریکہ کی نہیں، ہندوستان کی ہونی چاہیے

امریکہ میں تقریر کرنا آسان ہے، لیکن ہندوستان کے گلی کوچوں، بازاروں، تعلیمی اداروں اور سیاسی جلسوں میں یہی بات کہنا اصل امتحان ہے۔
اگر واقعی یہ مانا جاتا ہے کہ مسلمان ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہیں، تو پھر اس نظریے کو صرف تقریر تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ مسلمان کو برابر کا شہری، برابر کا ہندوستانی اور برابر کا انسان سمجھنے کا عملی مظاہرہ بھی نظر آنا چاہیے۔
مسلمانوں کو کسی کی مہربانی سے ہندوستان میں رہنے کا حق نہیں ملا۔ وہ اس ملک کے باشندے ہیں، اس ملک کی تاریخ، تہذیب، معیشت، آزادی کی جدوجہد اور تعمیرِ وطن میں ان کی نمایاں حصہ داری رہی ہے۔
اس لئے کسی مسلمان کو یہ احساس دلانا کہ وہ یہاں کسی کے رحم و کرم پر آباد ہے، ہندوستانی آئین اور ہندوستان کی بنیادی روح دونوں کے خلاف ہے۔
اگر بھاگوت کا بیان دل سے ہے تو اس کا خیرمقدم ہونا چاہیے
ہمیں کسی کے اچھے بیان کی مخالفت صرف اس لئے نہیں کرنی چاہیے کہ وہ آر ایس ایس کے سربراہ نے دیا ہے۔
اگر موہن بھاگوت واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ “بھارت مسلمانوں کے بغیر نہیں ہو سکتا” اور مذہب کی بنیاد پر کسی شہری کے وجود کو مسترد کرنا درست نہیں، تو ہم اس سوچ کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہنا ہوگا کہ اچھے الفاظ کی اصل قیمت اس وقت ثابت ہوتی ہے جب وہ زمین پر اچھے عمل میں تبدیل ہوں۔
آج ہندوستان کو ایسے ہی واضح پیغامات کی ضرورت ہےایسے پیغامات جو صرف بیرونِ ملک ہندوستانی تارکینِ وطن کے درمیان نہیں بلکہ ہندوستان کے ہر شہر، ہر گاؤں، ہر سیاسی پلیٹ فارم اور ہر سماجی تنظیم کے درمیان سنائی دیں۔

مسلمانوں کو بھی سوچنا ہوگا
یہاں مسلمانوں کے لئے بھی ایک سبق ہے۔
ہمیں ہر بیان کو صرف شک کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ جو شخص نفرت کے بجائے محبت، تصادم کے بجائے مکالمہ اور تقسیم کے بجائے اتحاد کی بات کرے، اس کی اچھی بات کو قبول کرنا چاہیے۔
لیکن ساتھ ہی زبان سے زیادہ عمل کو دیکھنا چاہیے۔
مسلمان نہ کسی سے دشمنی چاہتے ہیں، نہ کسی پر برتری۔ مسلمان صرف یہ چاہتے ہیں کہ انہیں ہندوستان کا برابر کا شہری سمجھا جائے، ان کی عزت، جان، مال، عبادت گاہ، تعلیم اور روزگار کے حقوق محفوظ رہیں۔

اب گیند میدان میں ہے
موہن بھاگوت کا نیویارک کا بیان ایک موقع فراہم کرتا ہے۔
اگر یہ صرف ایک تقریر تھی تو وقت اسے بھلا دے گا۔
لیکن اگر یہ واقعی ایک نظریاتی تبدیلی کا اعلان ہے تو اس کے اثرات ہندوستان میں بھی نظر آنے چاہئیں۔
مسلمانوں کے خلاف نفرت کی زبان کم ہو، مذہبی بنیاد پر تفریق ختم ہو، اشتعال انگیزی کے خلاف آواز اٹھائی جائے، اور ہر ہندوستانی کو بلاامتیاز عزت دی جائےتب دنیا کہے گی کہ نیویارک میں کہے گئے الفاظ صرف تقریر نہیں بلکہ ایک نئے ہندوستان کا پیغام تھے۔
ہندوستان کو کسی ایک مذہب کا نہیں، ہر ہندوستانی کا ہندوستان بنانا ہوگا۔
اور شاید آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب مل کر ایک ہی سوال پوچھیں:
“امریکہ میں کہی گئی یہ بات ہندوستان میں کب عملی حقیقت بنے گی؟”

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ

جنگ نیوز ڈیسک پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ نے...

وزیر اعظم مودی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مابین میٹنگ

جنگ نیوز وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو ایرانی...

تازہ ترین خبریں

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ

جنگ نیوز ڈیسک پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ نے...

وزیر اعظم مودی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مابین میٹنگ

جنگ نیوز وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو ایرانی...

امریکہ میں اتحاد کا پیغام، ہندوستان میں اس کا عملی امتحان!*

 

 

تحریر: مومن فیاض احمد غلام مصطفیٰ

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے امریکہ کے نیویارک میں منعقدہ “Universal Oneness Celebration” میں جو بات کہی ہے، اسے معمولی بیان سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ہندو یہ سمجھتا ہے کہ بھارت میں مسلمان نہیں ہونے چاہئیں تو وہ ہندو نہیں رہے گا۔ انہوں نے ہندوستان کی شناخت کو تنوع اور اتحاد سے جوڑتے ہوئے انسانیت اور باہمی احترام کی بات بھی کی۔
یہ بات اچھی ہے، بلکہ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ پیغام صرف امریکہ کی سرزمین پر کیوں؟
ہندوستان میں مسلمانوں کے حوالے سے آر ایس ایس اور اس سے وابستہ حلقوں کے بارے میں طویل عرصے سے شدید سیاسی اور سماجی اختلافات اور مسلم مخالف رویوں کے الزامات موجود رہے ہیں۔ اسی لئے جب آر ایس ایس کا سربراہ امریکہ میں کھڑے ہوکر مذہبی ہم آہنگی، تنوع اور مسلمانوں کے ہندوستان میں حقِ وجود کی بات کرتا ہے تو ایک فطری سوال پیدا ہوتا ہے: کیا یہی پیغام ہندوستان میں بھی اسی قوت اور وضاحت کے ساتھ سنائی دے گا؟
بات امریکہ کی نہیں، ہندوستان کی ہونی چاہیے

امریکہ میں تقریر کرنا آسان ہے، لیکن ہندوستان کے گلی کوچوں، بازاروں، تعلیمی اداروں اور سیاسی جلسوں میں یہی بات کہنا اصل امتحان ہے۔
اگر واقعی یہ مانا جاتا ہے کہ مسلمان ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہیں، تو پھر اس نظریے کو صرف تقریر تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ مسلمان کو برابر کا شہری، برابر کا ہندوستانی اور برابر کا انسان سمجھنے کا عملی مظاہرہ بھی نظر آنا چاہیے۔
مسلمانوں کو کسی کی مہربانی سے ہندوستان میں رہنے کا حق نہیں ملا۔ وہ اس ملک کے باشندے ہیں، اس ملک کی تاریخ، تہذیب، معیشت، آزادی کی جدوجہد اور تعمیرِ وطن میں ان کی نمایاں حصہ داری رہی ہے۔
اس لئے کسی مسلمان کو یہ احساس دلانا کہ وہ یہاں کسی کے رحم و کرم پر آباد ہے، ہندوستانی آئین اور ہندوستان کی بنیادی روح دونوں کے خلاف ہے۔
اگر بھاگوت کا بیان دل سے ہے تو اس کا خیرمقدم ہونا چاہیے
ہمیں کسی کے اچھے بیان کی مخالفت صرف اس لئے نہیں کرنی چاہیے کہ وہ آر ایس ایس کے سربراہ نے دیا ہے۔
اگر موہن بھاگوت واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ “بھارت مسلمانوں کے بغیر نہیں ہو سکتا” اور مذہب کی بنیاد پر کسی شہری کے وجود کو مسترد کرنا درست نہیں، تو ہم اس سوچ کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہنا ہوگا کہ اچھے الفاظ کی اصل قیمت اس وقت ثابت ہوتی ہے جب وہ زمین پر اچھے عمل میں تبدیل ہوں۔
آج ہندوستان کو ایسے ہی واضح پیغامات کی ضرورت ہےایسے پیغامات جو صرف بیرونِ ملک ہندوستانی تارکینِ وطن کے درمیان نہیں بلکہ ہندوستان کے ہر شہر، ہر گاؤں، ہر سیاسی پلیٹ فارم اور ہر سماجی تنظیم کے درمیان سنائی دیں۔

مسلمانوں کو بھی سوچنا ہوگا
یہاں مسلمانوں کے لئے بھی ایک سبق ہے۔
ہمیں ہر بیان کو صرف شک کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ جو شخص نفرت کے بجائے محبت، تصادم کے بجائے مکالمہ اور تقسیم کے بجائے اتحاد کی بات کرے، اس کی اچھی بات کو قبول کرنا چاہیے۔
لیکن ساتھ ہی زبان سے زیادہ عمل کو دیکھنا چاہیے۔
مسلمان نہ کسی سے دشمنی چاہتے ہیں، نہ کسی پر برتری۔ مسلمان صرف یہ چاہتے ہیں کہ انہیں ہندوستان کا برابر کا شہری سمجھا جائے، ان کی عزت، جان، مال، عبادت گاہ، تعلیم اور روزگار کے حقوق محفوظ رہیں۔

اب گیند میدان میں ہے
موہن بھاگوت کا نیویارک کا بیان ایک موقع فراہم کرتا ہے۔
اگر یہ صرف ایک تقریر تھی تو وقت اسے بھلا دے گا۔
لیکن اگر یہ واقعی ایک نظریاتی تبدیلی کا اعلان ہے تو اس کے اثرات ہندوستان میں بھی نظر آنے چاہئیں۔
مسلمانوں کے خلاف نفرت کی زبان کم ہو، مذہبی بنیاد پر تفریق ختم ہو، اشتعال انگیزی کے خلاف آواز اٹھائی جائے، اور ہر ہندوستانی کو بلاامتیاز عزت دی جائےتب دنیا کہے گی کہ نیویارک میں کہے گئے الفاظ صرف تقریر نہیں بلکہ ایک نئے ہندوستان کا پیغام تھے۔
ہندوستان کو کسی ایک مذہب کا نہیں، ہر ہندوستانی کا ہندوستان بنانا ہوگا۔
اور شاید آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب مل کر ایک ہی سوال پوچھیں:
“امریکہ میں کہی گئی یہ بات ہندوستان میں کب عملی حقیقت بنے گی؟”

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں