جنگ نیوز ڈیسک
جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے ڈویژنل کمشنر کشمیر کو ہدایت دی ہے کہ وہ عوامی سڑکوں، پارکوں اور دیگر عوامی مقامات پر مذہبی اداروں کی جانب سے کی گئی کسی بھی تجاوزات کی تفصیلات پر مشتمل تازہ حلف نامہ عدالت میں پیش کریں۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ سابقہ رپورٹ میں سرکاری، کہچرائی اور شملات دیہہ اراضی پر مساجد، مندروں، گرجا گھروں اور گردواروں کی تعمیر کا ذکر کیا گیا تھا، تاہم عوامی مقامات پر تجاوزات اور مستقبل میں ایسی تجاوزات روکنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی واضح تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
عدالت نے ڈویژنل کمشنر کشمیر کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کے لیے چھ ہفتوں کی مہلت دی ہے۔ کیس کی اگلی سماعت 12 اکتوبر کو ہوگی۔
دریں اثنا، عدالت نے لداخ کی جانب سے پیش کی گئی تعمیلی رپورٹ کا بھی نوٹس لیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ عوامی سڑکوں، پارکوں یا دیگر عوامی مقامات پر مذہبی اداروں کی جانب سے کوئی تجاوزات نہیں کی گئی ہیں۔


