کولگام سے تعلق رکھنے والا 35 سالہ مریض اننت ناگ کے ایک نجی اسپتال میں پراسرار طور پر جان کی بازی ہار گیا۔ واقعے کے بعد متوفی کے اہل خانہ نے طبی غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت احتجاج کیا۔
حکام کے مطابق، 35 سالہ مشتاق احمد وانی ولد غلام نبی وانی (ساکن قائموہ، کولگام) کو گردے کی پتھری کے آپریشن کے لیے کے پی روڈ، نائِبستی اننت ناگ میں واقع ‘مڈ سٹی پرائیویٹ اسپتال’ میں داخل کرایا گیا تھا۔
جراحی (سرجری) کے بعد مریض کی حالت مستحکم بتائی جا رہی تھی، تاہم 29 اگست کی صبح اچانک اس کی طبیعت بگڑ گئی اور وہ اسپتال میں ہی دم توڑ گیا۔
مریض کی موت کے بعد لواحقین نے ڈاکٹروں پر شدید لاپرواہی کا الزام لگایا اور اسپتال کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور معاملات کی تفتیش شروع کر دی۔
دوسری جانب، مڈ سٹی اسپتال کے ڈاکٹر ظہور گیلکار نے اسپتال کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ مریض کا PCNL طریقہ کار کے تحت آپریشن کیا گیا تھا۔ گزشتہ شام تک مریض کی حالت بالکل ٹھیک تھی اور اسے زبانی ادویات بھی شروع کر دی گئی تھیں۔
ڈاکٹر گیلکار نے مزید بتایا: "صبح کے وقت مریض وارڈ میں ٹہل رہا تھا کہ اچانک بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ یہ ممکنہ طور پر ایمبولزم (embolism) یا مائیوکارڈیل انفارکشن (دل کا دورہ) کا معاملہ ہو سکتا ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی سامنے آئے گی، ورنہ سرجری کے لحاظ سے مریض بالکل ٹھیک اور مستحکم تھا۔


