
ڈاکٹر ثنا ء اللہ شریف
واِنک لَعلیٰ خلق عظیم۔ (اور آپ ﷺ یقینا اخلاق کے بلند مرتبے پر فائز ہیں) آپ اپنے اخلاق وکردار کے بلند ترین معیار کے باعث پہلے سے ہی معراج انسانیت کے مقام پر فائز تھے ،جب کہ آپ معراج نبوت و رسالت کے سفر کا آغاز رہے ہوں۔دنیا میں بہار اور خزان کا موسم آتا رہتا ہے، لیکن رحمت للعالمین کی بعثت سے دنیا میں جو بہار آئی اس سے پہلے کبھی دنیا کی تاریخ میں آئی نہ اس کے بعد آئے گی ۔ آپ ﷺ کے ذریعے جو انقلاب آیا اس سے بڑا انقلاب دنیا کی تاریخ میں نہیں آیا۔ مشہور مصنف Michael Heart
کی ایک کتاب The Hundred, A Ranking of the most Influential Persons in History
کے نام سے شائع ہوئی، اس کتاب میں تاریخ انسانی کے سو عظیم ہستیوں کے نام اور حالات درج ہیں۔ مصنف جوخود عیسائی ہے ،اس نے اس کتاب میں پہلا مقام حضرت محمد ﷺ کو دیا ہے ۔ یعنی دنیا کی تاریخ میں کسی شخص کو اتنے کم عرصے میں ایسی زبردست کامیابی نہیں ملی اور ان کو پیغمبر انقلاب قرار دیا ہے ۔آپ ﷺ پہلے شخص ہیں جو انتہائی حدتک کامیاب رہے ۔مذہبی سطح پر بھی اور دنیوی سطح پر بھی۔”He was the only man in History who was Supremely Successfull on both relegions and Secular level”
کفرتھا ظلالت تھی ، مالک حقیقی سے ہرطرف بغاوت تھی
بولہب کی بستی میں پیار کا سبق لے کر میرے مصطفیٰ آئے
آپ ﷺ کا انقلابی کردار، ایک بین الانسانی مشن کی داستان ہے۔ آپ کا انقلاب قرآن مجید کے ابدی اصولوں کی تفسیر ہے جس کو عمل کی زبان سے واضح کیا گیا ۔آپ کا انقلاب، اس مقدس انقلاب کی تکمیل ہے جس کی مشعل حضرت آدم،حضرت ابراہیمؑ،حضرت موسیٰؑ،حضرت عیسیٰ ؑاور جملہ انبیائے اپنے اپنے دور میں کوشش کرتے رہے ۔محسنِ انسانیت نے کسی اعتقاد ،نظریے اور کسی نقشہ فکر کے بغیر یہ انقلابی کام شروع نہیں کیا تا وقتیکہ آپ کے قلب ِاطہر پر وحی الٰہی اور تابندہ ربانی سے منور نہیں کیا ،جس کے لئے غارِ حراکی تنہائی میں مدتوں غورو فکر کرکے خود کوگھلایا ۔روح پرور اورعظیم الشان نعمت قرآن مجیدکے پیغام کو دنیا کے سامنے پیش کیا ؎
اُتر کر حراسے سوئے قوم آیا
اوراک نسخہ ء کیمیا ساتھ لایا
خوش اخلاقی اور نیک عملی کے ساتھ عہد طفلی و عہدجوانی گزارا۔ دنیا کے اندھیرے میں یہی ایک چراغ تھا جس کی زندگی میں کسی گناہ کا اندھیرا نہ تھا۔ کنکروں اور پتھروں کے درمیان یہ ایک گوہر ہے بے بہاتھا۔ ببول کے ماحول کے درمیان آپ کی ذات گلاب کے پھول کی مانند تھی۔ آپ کی ذات ہدایت کا روشن چراغ تھی ۔ مینارہ ء نور تھی جس کی کوئی مثال نہ عرب میں تھی نہ عجم میں ۔عوام نے ان کے اخلاق عالیہ کو دیکھ کر صادق وامین کاخطاب دیا۔ آپ کی ذات مقدس کے جس شعبہ ء زندگی کا مطالعہ کیا جائے، پیارے نبی اپنی قوم میں شیریں اخلاق، کر یمانہ کردار اور فاضلانہ عادت کے لحاظ سے ممتا ز تھے۔آپ میں شفقت ہی شفقت اور رحمت ہی رحمت تھی۔ جوانی کا دور انسان کے لئے بڑا رنگین دور ہوتا ہے ۔ عمر کے اس حصے میں ہرشئے حسین و دلفریب دکھائی دیتی ہے۔جوانی کو دیوانی تو کہا جانا ہے لیکن آپ ﷺ کو قدرت نے ایسی صالح اور سعید فطرت سے نوازا تھا کہ جذبات کا بے قابو ہوناتو دورکی بات ہے ، کبھی خیال کا دامن بھی آلودگیوں کو نہ چھوا تھا۔پھولوں کی پتیاں بہت صاف و شفاف ہیں، قوس قزح نہایت معصوم ہے، چاندنی بہت اجلی اور بے داغ ہے مگر آپ ﷺ کی جوانی ان سب سے زیادہ معصوم، پاکیزہ اور عفیف تھی ۔ یہی سبب ہے حضرت خدیجہ ؓ جو مکہ کی امیرو کبیر بیوہ تھیں جب اس نوجوان کو اپنے کاروبار میں آزمایا اور کھراپایا ،اسے اپنی طرف سے نکاح کا پیغام بھیجا ۔ انہوں نے کہا۔’’ میں نے آپ کے اچھے اخلاق اور صداقت کی وجہ سے آج کو پسند کیا ہے ۔ میں آپ کی صداقت اور کردار سے متاثر ہوگئی ہوں‘‘۔ حضرت ابو طالب ان کا نکاح پڑھاتے ہوئے کہتے ہیں۔’’یہ میرے بھائی کا لڑکا محمد بن عبداللہ ہے یہ ایک ایسا نوجوان ہے کہ قریش کے کسی شخص سے اس کامقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں مال البتہ کم ہے ۔ اس کا مستقبل خدا کی قسم عظیم الشان اور جلیل القدر ہے‘‘معروف عالم و فاضل ورقہ بن نوفل جوحضرت خدیجہ کے چچازاد بھائی تھے ،نے کہا’’ بلا شبہ آپ تمام خصائل کے اہل ہیں۔ کوئی طاقت آپ کے فضل و شرف کو رد نہیں کر سکتی اور بے شک ہم نے نہایت رغبت سے آپ کے ساتھ شامل ہونا پسند کیا ہے ۔ پس اے قریش گواہ رہو کہ میں خدیجہ بنت خویلد کومحمد بن عبداللہ کی زوجیت میں دیتا ہوں‘‘
حجر اسودنصب کرنے کیلئے ہنگامہ :۔ حجر ِ اسود نصب کرنے کا وقت آیا تو ہنگامہ ہوا۔ ہر فریق خود کا دعویدار تھا لیکن فیصلہ ہوا کل جو شخص سب سے پہلے حرم میں داخل ہوگا اُس کے فیصلے پر عمل کریں گے۔سب سے پہلے پیارے نبی ﷺ حرم پہنچے تو لوگ خوشی سے جھوم اٹھے اور کہا ’’یہ تو امین آرہاہے، ہم اس پر راضی ہیں، یہ تو محمد ہے ، ہم اس کے فیصلے پر رضا مند ہیں ۔آپ کی حسن ِ تدبیر سے خون ریز جنگ ٹل گئی ۔آپ کی بصیرت پر غور کیجئے کہ آپ ﷺ نے چادر منگوائی ، اور ہرفریق کو اس میں شامل کرکے حجر اسود نصب کیاگیاتو تمام قریش کے لوگ اس سے مسرور ہوئے اور یہ آپسی جنگ ٹل گئی۔
غارِ حرا سے واپسی پر پیارے نبی ﷺ ہانپتے کانپتے ، ڈرتے ڈرتے ، سہمے سہمے جسم اطہر پسینے سے شرابور تھا ، ام المؤمنین حضرت خدیجہ ؓ سے کہا’’مجھے چادر اڑھادو، اپنی جان کاڈرلگ رہاہے ، تو خدیجہ ؓ نے کہاچوںکہ بحیثیت بیوی اپنی شوہر کی کمزوریوں اور خوبیوں سے واقف تھیں ، کہا’’آپ خوش ہو جائیے ۔اے محمد ، خدا کی قسم آپ کبھی رسوا نہیں ہونگے۔ آپ رشتے داروں سے نیک سلوک کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، امانتیں ادا کرتے ہیں، محتاجوں، مسکینوں، یتیموں کی کفالت کرتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں ۔ آپ تو اللہ کے نبی ہیں۔ دعوت عام دینے کیلئے کوہ صفا پر کھڑے ہوکر اپنے متعلق لوگوں سے پوچھا تو تمام نے کہا’’ آپ صادق و امین ہیں‘‘۔
حضرت علی ؓ کے پوچھنے پردشمن ِ رسول ابو جہل نے ان سے کہا ’’ہم جھوٹا نہیں کہتے مگر جو کچھ آپ پیش کررہے ہیں ، اسے جھوٹ قرار دیتے ہیں‘‘جنگ بدر کے موقع پر ابو جہل سے اخنس بن طریق نے تنہائی میں پوچھا ’’کیا تم محمد ﷺ کو سچا کہتے ہو یا جھوٹا ؟‘‘اس نے کہا ’’خدا کی قسم ، محمدایک سچا آدمی ہے‘‘
تاریخ ساز واقعات:۔ ۱۔ ہجرت کے اس موقع پرآپ کو اپنی جان کاڈراور خوف نہیں تھا، بلکہ امانتیں لوٹانے کی زیادہ فکر تھی ۔اسی لئے حضرت علی ؓ کو انھوں نے ان کی امانتیں لوٹاکر مدینہ پہنچنے کی ہدایت کی۔ دنیا کی تاریخ میں شاید ہی ایسا واقع ہوگاجس کو اپنی جان کی فکرنہیں تھی بلکہ دشمنوں کی امانتیں لوٹانے کی انھیں فکر دامن گیر تھی۔ ۲۔مدینہ پہنچ کر مواخات مدینہ، نہایت دانشمندانہ اور دور اندیشی پرمبنی فیصلہ ۔مہاجرین بے سروسامانی کی حالت میں مدینہ پہنچے ۔ان میں سے بعض مفلس تھے۔ بعض صحابہ معاشی اعتبار سے اچھے تھے۔ ہر انصاری بھائی نے مہاجر بھائی کیلئے گھر کے دروازے اور دل کے دروازے (دونوں) کھول دئے ۔ بڑادیرپا اثرپڑا۔ اس معاہدے سے جاہلی عصبیتیں تحلیل ہوئیں، رنگ و نسل اور وطن کے امتیازات مٹ گئے۔ایک کردار نے کہا میری دو بیویاں ہیں، ایک کو طلاق دیتا ہوں آپ ان سے نکاح کر لیں۔اللہ اکبر۔
آپ ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ نے اس قدر متاثر کیا۔ آپ نے جنگ بدر کے موقع پر صحابہ سے مشورہ کیا۔یہ بتائیے ایک جانب قریش کا ایک تجارتی قافلہ مال کے ساتھ آرہاہے ، دوسری جانب قریش کا لشکر حملے کی نیت سے مدینہ کارخ کررہاہے ۔ توا س صورتحال میں ہمار اکیاموقف ہونا چاہیے؟اس وقت مہاجرین میں سے حضرت مقداد ؓ کہتے ہیں۔ ’’یا رسول اللہ! ہم وہ نہیں ہیں جو موسیٰ کی قوم کی طرح کہیں(تو اور تیرا رب لڑیں، ہم یہیں بیٹھے رہیں گے)ہم تو کہتے ہیں ، یا رسول اللہ ﷺ آپ چلئے جدھر آپ کارب آپ کو حکم دیتا ہے۔اللہ کی قسم جس کے قبضہء قدرت میں ہماری جان ہے، ہم آپ کے دائیں، بائیں، آگے پیچھے سے جب تک ہمارا گلا کٹ نہیں جاتا، آپ کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے‘‘پھر پیارے نبی نے سوال کیا تو انصار میں سے محسوس کیاگیاکہ غالباً ہم سے مخاطب ہوں گے توحضرت سعد بن معاذ جومدینہ کے معزز لوگوں میںسے تھے۔ انہوں نے کہا:اللہ کے رسول! ہم آپ پر ایمان لائے ہیں، ہم نے آپ کو سچا سمجھا ہے، ہم نے گواہی دی ہے آپ حق پر ہیں، ہم آپ کی اطاعت کا عہد بھی کر چکے ہیں۔آپ نے جس کام کا ارادہ کیا ہے،بے جھجک اس کے لئے قدم بڑھائیے ۔ خدا کی قسم اگر آپ ہمیں لے کے سمندر میں کود پڑیں تو بھی ہم بخوشی تیار ہیں۔ ہم میں کوئی پیچھے ہٹنے والا نہیں ہم تو میدانِ جنگ کے شیر ہیں، مقابلے میں ڈٹنے والے ہیں۔امید ہے کہ ہم بہادری کے وہ جوہر دکھائیں گے کہ آپ خوش ہو جائیں گے اور دشمن آپ تک پہنچنا ہوتواس کو ہماری لاشوں سے گزرنا ہوگا۔ غرض وہ قوم جو تہذیب و تمدن سے نا آشنا جنگ و جدال اور لوٹ مار کی خوگر، جہالت کی گھٹاٹوپ اندھیروں میں بھٹک رہی تھی ۔ آپ ﷺ کی حکیمانہ تعلیم،فیاضانہ کردار و کریمانہ اخلاق نے ان کو اس قدر متاثر کیا کہ وہ قوم تہذیب و شرافت کی علمبردار بن گئی ۔ بھائی چار گی، اخوت اور امن و امان کے امین بن گئے۔ نعیم صدیقی ’’محسن انسانیت ‘‘ میں لکھتے ہیں(صفحہ 43) اس نئے انسان کے کردار کی درخشانی دیکھیے تو آنکھوں میں چکاچو ند آ جاتی ہے ۔ حضرت عمر ؓ جیسا مکہ کاایک مے خوار انسان بدلاتوکہاں پہنچا، فضالہ میں تبدیلی آئی تو کس شان سے آئی ! ذوالبجادین کو دیکھیے کہ کس طرح دولت و آسائش کو لات مار کر درویشانہ زندگی اختیار کرتا ہے۔ حضرت ابوذرؓ کو لیجئے کیا انقلابی جذبہ ہے کہ کعبے میں کھڑے ہوکر جاہلیت کو چیلنج کیا اور خوب مار کھائی۔ان مبارک ہستیوں سے ایک صالح معاشرہ وجود میں آیا۔ ہر طرف امن و امان، چین و سکون، بھائی چارہ کی فضا نظر آئی۔ جن میں خلوص تھا ایک دوسرے کی بھلائی و خیر خواہی جھلکتی نظر آئی، کہیں شر و فساد نہیں بلکہ ارتقاء ہی ارتقاء، بناؤ ہی بناؤ اور تعمیر ہی تعمیر تھی۔آج پیارے نبی ﷺ نہیں ہیں لیکن ان کا اسوہ موجود ہے ۔ محدثین و مفسرین اور سیرت نگاروں کے اللہ تبارک وتعالیٰ درجات بلند کرے ان کی محنتوں اور ریاضتوں سے ہم استفادہ کررہے ہیں، وہیں ہم خود بھی ان مبارک تعلیمات پر عمل کریں اور بندگان خدا اور پیاسی انسانیت تک پیغام پہنچائیں۔
میرا مقصد زندگی یہی، میرا وظیفہ یہی ہے :۔ دنیا کی زیب و زینت، رنگینی و رعنائی سے میرا مکان خالی ہے۔ اس کا مجھے غم نہیں۔دنیا کے فانی ہونے والے چند چیتھڑوں سے میرا بدن مزین نہ ہو سکے، اس کی مجھے فکر نہیں۔مجھے غم اور فکر ہے تو یہی کہ میرا حشر قیامت کے دن متقیوں کی صف میں ہو، اُمت کے معمار و قائدین کی صف میں ہو، اُمت کے نگران و رہبروں کی صف میں ہو، حضور اور صحابہؓ کی صف میں ہو اور آپ ﷺ کے پیغام پہنچانے والوں میں اور اصحاب الیمین میں ہو۔’’یہی میری تمنا، یہی میری آرزو، میرا مقصد زندگی ‘‘
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں


