رسول اللہ ﷺ کی جوانی اور صادق و امین

 

 

طفیل مگسی

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی زندگی کو نبوت سے پہلے بھی ایسی پاکیزگی، سچائی اور کردار سے آراستہ فرمایا کہ آپ ﷺ کی قوم آپ کو نبوت کا اعلان کرنے سے بہت پہلے ہی صادق اور امین کے لقب سے پکارتی تھی۔ آپ ﷺ کی جوانی کا زمانہ محنت، پاکیزہ معاش، تجارت، حسنِ اخلاق، وعدے کی پابندی اور لوگوں کے حقوق ادا کرنے کا روشن نمونہ تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں محنت کو اختیار فرمایا۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے بچپن میں بکریاں بھی چرائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَى الْغَنَمَ”
یعنی اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ صحابہؓ نے پوچھا: آپ بھی؟ فرمایا: ہاں، میں بھی اہلِ مکہ کی بکریاں چند قیراط کے عوض چرایا کرتا تھا۔ (صحیح البخاری)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی زندگی میں محنت، ذمہ داری اور حلال کمائی کی بڑی اہمیت ہے۔
بعد میں رسول اللہ ﷺ نے تجارت بھی فرمائی۔ آپ ﷺ تجارت میں سچائی، دیانت اور معاملے کی صفائی کے لئے مشہور تھے۔ آپ ﷺ نے کبھی جھوٹ، دھوکہ، خیانت یا ناجائز طریقے سے مال حاصل کرنے کو اختیار نہیں کیا۔
حضرت خدیجہؓ کے مال سے تجارت
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا مکہ کی معزز اور مال دار تاجر خاتون تھیں۔ وہ اپنے مال سے تجارت کرواتی تھیں اور قابلِ اعتماد لوگوں کو اپنا مال دے کر تجارتی سفر پر بھیجتی تھیں۔
رسول اللہ ﷺ کی سچائی، امانت اور بہترین کردار سے متاثر ہوکر حضرت خدیجہؓ نے آپ ﷺ کو اپنے تجارتی مال کے ساتھ شام کی طرف بھیجا۔ آپ ﷺ نے نہایت دیانت داری کے ساتھ تجارت کی اور واپسی پر بہترین نتائج حاصل کیے۔
سیرت کی روایات میں حضرت خدیجہؓ کے غلام میسرہ کا ذکر بھی آتا ہے، جس نے سفر کے دوران رسول اللہ ﷺ کے غیر معمولی اخلاق اور کردار کو دیکھا اور حضرت خدیجہؓ کو اس کی خبر دی۔ یہی وہ کردار تھا جس نے حضرت خدیجہؓ کے دل میں آپ ﷺ کی عظمت اور اعتماد کو مزید بڑھایا۔
رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے ہی اہلِ مکہ آپ ﷺ کو الصادق اور الامین کہتے تھے۔
صادق یعنی ہمیشہ سچ بولنے والا۔
امین یعنی ایسا شخص جس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ اس میں خیانت نہ کرے۔
یہ معمولی بات نہیں تھی۔ مکہ کے لوگ آپ ﷺ کے سخت مخالف بھی ہوئے، لیکن آپ ﷺ کی امانت و دیانت ایسی مسلم حقیقت تھی کہ وہ اپنی امانتیں بھی آپ ﷺ کے پاس رکھتے تھے۔
نبوت کے بعد جب قریش نے آپ ﷺ کی مخالفت کی اور آپ ﷺ کو مکہ سے ہجرت کرنا پڑی، تب بھی لوگوں کی امانتیں آپ ﷺ کے پاس موجود تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؑ کو حکم دیا کہ وہ مکہ میں رہ کر لوگوں کی امانتیں ان کے مالکوں تک پہنچائیں۔ (سیرت ابن ہشام؛ مسند احمد، روایاتِ ہجرت کے ضمن میں)
یہ واقعہ اس بات کی عظیم دلیل ہے کہ اسلام میں دشمن کی امانت بھی خیانت کرکے نہیں کھائی جا سکتی۔
حجرِ اسود کا واقعہ اور آپ ﷺ کی دانائی
نبوت سے تقریباً پانچ سال پہلے جب قریش نے خانہ کعبہ کی تعمیر نو کی تو حجرِ اسود کو اپنی جگہ رکھنے کا مسئلہ پیدا ہوگیا۔ ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ یہ شرف اسے حاصل ہو۔ معاملہ اتنا بڑھا کہ خونریزی کا خطرہ پیدا ہوگیا۔
بالآخر یہ فیصلہ ہوا کہ جو شخص سب سے پہلے حرم میں داخل ہو، اسے منصف بنایا جائے۔ سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ لوگوں نے آپ ﷺ کو دیکھ کر کہا:
"یہ امین ہیں، ہم ان کے فیصلے پر راضی ہیں۔”
آپ ﷺ نے ایک چادر بچھائی، حجرِ اسود کو اس پر رکھا اور تمام قبائل کے سرداروں سے کہا کہ وہ چادر کے کنارے پکڑ کر حجرِ اسود کو اٹھائیں۔ جب وہ مقررہ جگہ تک پہنچا تو آپ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے اسے اس کی جگہ رکھ دیا۔
یوں ایک ایسا مسئلہ جس سے خانہ جنگی کا خطرہ تھا، آپ ﷺ کی حکمت اور امانت نے حل کردیا۔
رسول اللہ ﷺ کی تجارت ہمیں صرف کاروبار کرنا نہیں سکھاتی بلکہ حلال طریقے سے کاروبار کرنا سکھاتی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا”
"اللہ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا۔”
(البقرۃ: 275)
اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ”
"خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے۔”
(المطففین: 1)
رسول اللہ ﷺ نے بھی دھوکے سے سختی سے منع فرمایا:
"مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا”
"جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔” (صحیح مسلم)
اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا کہ خریدنے اور بیچنے والے اگر سچ بولیں اور چیز کی حقیقت واضح کردیں تو ان کے معاملے میں برکت ہوتی ہے، اور اگر جھوٹ بولیں اور عیب چھپائیں تو ان کی تجارت کی برکت مٹا دی جاتی ہے۔ (صحیح البخاری، صحیح مسلم)
آج کے تاجروں کے لئے رسول اللہ ﷺ کا پیغام
آج اگر کوئی مسلمان رسول اللہ ﷺ کی تجارت اور کاروباری زندگی کو اپنا رول ماڈل بنانا چاہتا ہے تو اسے چند اصولوں کو مضبوطی سے اختیار کرنا چاہیے:
جھوٹ نہیں، سچ۔
دھوکا نہیں، دیانت۔
ناجائز منافع نہیں، حلال رزق۔
عیب چھپانا نہیں، عیب واضح کرنا۔
ناپ تول میں کمی نہیں، مکمل حق ادا کرنا۔
سود نہیں، حلال تجارت۔
وعدہ خلافی نہیں، وعدے کی پابندی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ”
"سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔” (جامع الترمذی)
رسول اللہ ﷺ کی جوانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کا لباس، مال، عہدہ یا شہرت نہیں بلکہ اس کا کردار ہے۔
آپ ﷺ نے نبوت سے پہلے بھی سچائی اور امانت کا ایسا معیار قائم کیا کہ دشمن بھی آپ ﷺ کو صادق و امین کہنے پر مجبور تھے۔
آج ہمیں اپنے کاروبار، دکان، ملازمت، مزدوری، خرید و فروخت اور روزمرہ معاملات میں یہ دیکھنا چاہیے کہ اگر رسول اللہ ﷺ ہمارے سامنے ہوتے تو کیا ہم اپنے اس معاملے کو آپ ﷺ کے سامنے پیش کرنے میں شرمندہ ہوتے؟
اللہ تعالیٰ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ پر چلنے، حلال رزق کمانے، سچ بولنے، امانت ادا کرنے اور ہر معاملے میں دیانت اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسماعیل شیخ احمد اسلامی تعاون تنظیم کے نئے سیکریٹری جنرل منتخب

جناب اسماعیل ولد شیخ احمد نے سیکریٹری جنرل کے عہدے کا حلف اٹھایا اور سبکدوش ہونے والے سیکریٹری جنرل جناب حسین ابراہیم طہٰ کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں۔

5.1 شدت کا زلزلہ

  چین کے سیچوان میں جمعہ کو 5.1 شدت کے...

سرینگر میں ٹریفک جام سے نجات کے لئے بڑے سڑک منصوبوں کا جائزہ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 27 اگست: ڈویژنل کمشنر کشمیر، انشول...

اسکولوں کے 50 میٹر کے دائرے میں غیر صحت بخش خوراک کی فروخت ممنوع

جنگ نیوز سرینگر/ محکمہ خوراک و ادویات انتظامیہ (FDA) جموں...

سجیت کماراور تیجندر سنگھ بالترتیب کشمیر اور جموں کے IGP تعینات

جنگ نیوز سرینگر/ جموں و کشمیر پولیس میں بڑے پیمانے...

تازہ ترین خبریں

اسماعیل شیخ احمد اسلامی تعاون تنظیم کے نئے سیکریٹری جنرل منتخب

جناب اسماعیل ولد شیخ احمد نے سیکریٹری جنرل کے عہدے کا حلف اٹھایا اور سبکدوش ہونے والے سیکریٹری جنرل جناب حسین ابراہیم طہٰ کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں۔

5.1 شدت کا زلزلہ

  چین کے سیچوان میں جمعہ کو 5.1 شدت کے...

سرینگر میں ٹریفک جام سے نجات کے لئے بڑے سڑک منصوبوں کا جائزہ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 27 اگست: ڈویژنل کمشنر کشمیر، انشول...

اسکولوں کے 50 میٹر کے دائرے میں غیر صحت بخش خوراک کی فروخت ممنوع

جنگ نیوز سرینگر/ محکمہ خوراک و ادویات انتظامیہ (FDA) جموں...

سجیت کماراور تیجندر سنگھ بالترتیب کشمیر اور جموں کے IGP تعینات

جنگ نیوز سرینگر/ جموں و کشمیر پولیس میں بڑے پیمانے...

رسول اللہ ﷺ کی جوانی اور صادق و امین

 

 

طفیل مگسی

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی زندگی کو نبوت سے پہلے بھی ایسی پاکیزگی، سچائی اور کردار سے آراستہ فرمایا کہ آپ ﷺ کی قوم آپ کو نبوت کا اعلان کرنے سے بہت پہلے ہی صادق اور امین کے لقب سے پکارتی تھی۔ آپ ﷺ کی جوانی کا زمانہ محنت، پاکیزہ معاش، تجارت، حسنِ اخلاق، وعدے کی پابندی اور لوگوں کے حقوق ادا کرنے کا روشن نمونہ تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں محنت کو اختیار فرمایا۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے بچپن میں بکریاں بھی چرائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَى الْغَنَمَ”
یعنی اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ صحابہؓ نے پوچھا: آپ بھی؟ فرمایا: ہاں، میں بھی اہلِ مکہ کی بکریاں چند قیراط کے عوض چرایا کرتا تھا۔ (صحیح البخاری)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی زندگی میں محنت، ذمہ داری اور حلال کمائی کی بڑی اہمیت ہے۔
بعد میں رسول اللہ ﷺ نے تجارت بھی فرمائی۔ آپ ﷺ تجارت میں سچائی، دیانت اور معاملے کی صفائی کے لئے مشہور تھے۔ آپ ﷺ نے کبھی جھوٹ، دھوکہ، خیانت یا ناجائز طریقے سے مال حاصل کرنے کو اختیار نہیں کیا۔
حضرت خدیجہؓ کے مال سے تجارت
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا مکہ کی معزز اور مال دار تاجر خاتون تھیں۔ وہ اپنے مال سے تجارت کرواتی تھیں اور قابلِ اعتماد لوگوں کو اپنا مال دے کر تجارتی سفر پر بھیجتی تھیں۔
رسول اللہ ﷺ کی سچائی، امانت اور بہترین کردار سے متاثر ہوکر حضرت خدیجہؓ نے آپ ﷺ کو اپنے تجارتی مال کے ساتھ شام کی طرف بھیجا۔ آپ ﷺ نے نہایت دیانت داری کے ساتھ تجارت کی اور واپسی پر بہترین نتائج حاصل کیے۔
سیرت کی روایات میں حضرت خدیجہؓ کے غلام میسرہ کا ذکر بھی آتا ہے، جس نے سفر کے دوران رسول اللہ ﷺ کے غیر معمولی اخلاق اور کردار کو دیکھا اور حضرت خدیجہؓ کو اس کی خبر دی۔ یہی وہ کردار تھا جس نے حضرت خدیجہؓ کے دل میں آپ ﷺ کی عظمت اور اعتماد کو مزید بڑھایا۔
رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے ہی اہلِ مکہ آپ ﷺ کو الصادق اور الامین کہتے تھے۔
صادق یعنی ہمیشہ سچ بولنے والا۔
امین یعنی ایسا شخص جس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ اس میں خیانت نہ کرے۔
یہ معمولی بات نہیں تھی۔ مکہ کے لوگ آپ ﷺ کے سخت مخالف بھی ہوئے، لیکن آپ ﷺ کی امانت و دیانت ایسی مسلم حقیقت تھی کہ وہ اپنی امانتیں بھی آپ ﷺ کے پاس رکھتے تھے۔
نبوت کے بعد جب قریش نے آپ ﷺ کی مخالفت کی اور آپ ﷺ کو مکہ سے ہجرت کرنا پڑی، تب بھی لوگوں کی امانتیں آپ ﷺ کے پاس موجود تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؑ کو حکم دیا کہ وہ مکہ میں رہ کر لوگوں کی امانتیں ان کے مالکوں تک پہنچائیں۔ (سیرت ابن ہشام؛ مسند احمد، روایاتِ ہجرت کے ضمن میں)
یہ واقعہ اس بات کی عظیم دلیل ہے کہ اسلام میں دشمن کی امانت بھی خیانت کرکے نہیں کھائی جا سکتی۔
حجرِ اسود کا واقعہ اور آپ ﷺ کی دانائی
نبوت سے تقریباً پانچ سال پہلے جب قریش نے خانہ کعبہ کی تعمیر نو کی تو حجرِ اسود کو اپنی جگہ رکھنے کا مسئلہ پیدا ہوگیا۔ ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ یہ شرف اسے حاصل ہو۔ معاملہ اتنا بڑھا کہ خونریزی کا خطرہ پیدا ہوگیا۔
بالآخر یہ فیصلہ ہوا کہ جو شخص سب سے پہلے حرم میں داخل ہو، اسے منصف بنایا جائے۔ سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ لوگوں نے آپ ﷺ کو دیکھ کر کہا:
"یہ امین ہیں، ہم ان کے فیصلے پر راضی ہیں۔”
آپ ﷺ نے ایک چادر بچھائی، حجرِ اسود کو اس پر رکھا اور تمام قبائل کے سرداروں سے کہا کہ وہ چادر کے کنارے پکڑ کر حجرِ اسود کو اٹھائیں۔ جب وہ مقررہ جگہ تک پہنچا تو آپ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے اسے اس کی جگہ رکھ دیا۔
یوں ایک ایسا مسئلہ جس سے خانہ جنگی کا خطرہ تھا، آپ ﷺ کی حکمت اور امانت نے حل کردیا۔
رسول اللہ ﷺ کی تجارت ہمیں صرف کاروبار کرنا نہیں سکھاتی بلکہ حلال طریقے سے کاروبار کرنا سکھاتی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا”
"اللہ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا۔”
(البقرۃ: 275)
اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ”
"خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے۔”
(المطففین: 1)
رسول اللہ ﷺ نے بھی دھوکے سے سختی سے منع فرمایا:
"مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا”
"جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔” (صحیح مسلم)
اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا کہ خریدنے اور بیچنے والے اگر سچ بولیں اور چیز کی حقیقت واضح کردیں تو ان کے معاملے میں برکت ہوتی ہے، اور اگر جھوٹ بولیں اور عیب چھپائیں تو ان کی تجارت کی برکت مٹا دی جاتی ہے۔ (صحیح البخاری، صحیح مسلم)
آج کے تاجروں کے لئے رسول اللہ ﷺ کا پیغام
آج اگر کوئی مسلمان رسول اللہ ﷺ کی تجارت اور کاروباری زندگی کو اپنا رول ماڈل بنانا چاہتا ہے تو اسے چند اصولوں کو مضبوطی سے اختیار کرنا چاہیے:
جھوٹ نہیں، سچ۔
دھوکا نہیں، دیانت۔
ناجائز منافع نہیں، حلال رزق۔
عیب چھپانا نہیں، عیب واضح کرنا۔
ناپ تول میں کمی نہیں، مکمل حق ادا کرنا۔
سود نہیں، حلال تجارت۔
وعدہ خلافی نہیں، وعدے کی پابندی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ”
"سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔” (جامع الترمذی)
رسول اللہ ﷺ کی جوانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کا لباس، مال، عہدہ یا شہرت نہیں بلکہ اس کا کردار ہے۔
آپ ﷺ نے نبوت سے پہلے بھی سچائی اور امانت کا ایسا معیار قائم کیا کہ دشمن بھی آپ ﷺ کو صادق و امین کہنے پر مجبور تھے۔
آج ہمیں اپنے کاروبار، دکان، ملازمت، مزدوری، خرید و فروخت اور روزمرہ معاملات میں یہ دیکھنا چاہیے کہ اگر رسول اللہ ﷺ ہمارے سامنے ہوتے تو کیا ہم اپنے اس معاملے کو آپ ﷺ کے سامنے پیش کرنے میں شرمندہ ہوتے؟
اللہ تعالیٰ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ پر چلنے، حلال رزق کمانے، سچ بولنے، امانت ادا کرنے اور ہر معاملے میں دیانت اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں