
ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی
سورہ الکہف کا شان نزول 6 نبوی ہے، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 46 سال اور اعلان نبوت کے 6 سال بعد سورہ الکہف نازل ہوئی۔ یہ قرآن مجید کی اٹھارہویں سورت ہے اور پندرھویں اور سولہویں پارے میں شامل ایک مکی سورت ہے۔
جب مشرکین مکہ نے یہ جانا کہ آئے روز یہاں کے لوگ، خصوصاً نوجوان، دین اسلام کی طرف راغب ہو رہے ہیں تو انہوں نے سوچا کہ اس کا تدارک کیسے کیا جائے۔ انہوں نے اپنے کئی آدمی مدینہ میں یہودیوں کے پاس بھیجے تاکہ ان سے معلوم کریں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کس حد تک صحیح بول رہے ہیں، کیونکہ یہودی اہل کتاب تھے اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بہتر معلومات رکھتے تھے۔
جب مشرکین مکہ کے بھیجے ہوئے آدمی یہودیوں کے پاس پہنچے اور ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق پوچھا تو یہودیوں نے تورات میں نشانیاں پائیں اور اس طرح پہچانا جیسے باپ اپنی اولاد کو پہچانتا ہے، لیکن بولے: ’’تم لوگ ان سے تین سوال پوچھو۔ اگر وہ صحیح جواب دیں تو پھر ان کی اطاعت کرو اور اگر صحیح جواب نہ دیں تو تمہارا دین ہی بہتر ہے، اسی پر قائم رہو۔‘‘
وہ تین سوال اس طرح تھے:
1. ان جوانوں کے بارے میں جو لاپتہ ہو گئے اور بسیار تلاش کرنے پر بھی گمنام رہے۔
2. روح کیا چیز ہے، وہ اس کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
3. اس آدمی کے بارے میں جو ساری دنیا گھوما، اس کا مقصد کیا تھا؟
یہ تین سوال لے کر وہ اپنے سرداروں کے پاس واپس آئے۔ سرداروں نے اپنے کئی آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان تین سوالوں کے جوابات کے لئے بھیجے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’میں کل جواب دوں گا‘‘، لیکن ان شاء اللہ کہنا بھول گئے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ جبرئیل علیہ السلام کے ذریعے مجھے روشناس کریں گے اور میں ان مشرکین مکہ کو جواب دوں گا، لیکن ان شاء اللہ نہ کہنے پر اللہ کی طرف سے 15 روز تک کوئی وحی نہیں آئی۔ نتیجتاً مشرکین مکہ تالیاں پیٹنے لگے، مذاق کرنے لگے اور نعوذ باللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا ثابت کرنے لگے۔ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی رنج میں رہے اور دل مبارک مشرکین کی باتوں سے آزردہ ہوا۔
پھر 15 روز بعد اللہ کے حکم سے جبرئیل امین علیہ السلام خدمت میں حاضر ہوئے اور یوں عرض کی: ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ جب بھی کسی کام کا ارادہ کریں تو ان شاء اللہ کہنا نہ بھولئے گا، اور ان شاء اللہ کہنے پر وہ کام باعمل ثابت ہو جائے گا۔ مشرکین کی طرف سے جو تین سوال کیے گئے، اللہ نے ان کے جواب کے ساتھ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔‘‘
پہلے سوال کا جواب یوں ہے:
ایک بادشاہ، دقیانوس نامی، بت پرست یہودیوں کا کٹھ پتلی تھا۔ اس کے دور میں بت پرستی خوب پھیلی اور کئی نوجوان اس کے مخالف ہو گئے۔ بادشاہ نے ان کو دربار میں بلایا اور بت پرستی سے باز آنے کی مہلت دی۔ وہ نوجوان آپس میں مشورہ کر کے اس بات پر راضی ہوئے کہ ناحق خون ریزی سے بچنے کے لئے کسی پہاڑ کے غار میں پناہ لیں اور خالق کائنات کی عبادت کریں۔
وہ چوری چھپے رات کو نکلے۔ ان کے پیچھے ایک کتا بھی نکلا۔ کتے کو دیکھ کر وہ رنجیدہ ہو گئے کہ مبادا یہ کتا ہمارا راز فاش کرے۔ روایات میں ہے کہ کتا بول پڑا اور کہنے لگا: ’’جس خالق کائنات کی تم عبادت کرتے ہو، میں بھی اسی کا بندہ ہوں۔‘‘ پس یہ کتا بھی ان کے ساتھ نکلا اور وہ کسی پہاڑ کے غار میں پناہ گزین ہو گئے۔
اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے ان کے کانوں پر تھپکی دی اور ان کو گہری نیند سلا دیا۔ کچھ دیر کے بعد ان کو جگایا تاکہ جان لیں کہ کتنی مدت سو گئے۔ آپس میں پوچھنے لگے: ’’ہم کتنی دیر تک سو گئے؟‘‘ خود ہی کہنے لگے: ’’دن کا کچھ حصہ یا اس سے بھی کم۔‘‘ پھر اس بات پر متفق ہو گئے کہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ ہم کتنی دیر سوئے، اور اپنے کسی آدمی کو چاندی کا سکہ دے کر اپنے لئے صاف، پاک غذا لینے بازار بھیجا اور تاکید کی کہ بڑی ہوشیاری سے رہیں، کسی کو ہمارے بارے میں معلومات نہ ہوں، کیونکہ وہ ہمیں اپنے دین میں واپس پھیریں گے۔
آدمی جب بازار گیا تو ایک طرف وہ اپنی وضع قطع اور دوسری طرف چاندی کے سکے سے پکڑا گیا۔ جب اسے ان کی پکڑ سے رہائی کی امید نہیں رہی تو اس نے کہا کہ آپ مجھے دقیانوس کے پاس لے جائیں، آج ہماری پھانسی ہے۔ لوگ حیران ہوئے کہ دقیانوس کون ہے؟ پھر شاہی خزانے میں جا کر ایک تختی نکالی، جس پر ان کے نام درج تھے، اور اس واقعے کو تین سو نو سال گزر چکے تھے۔
پھر لوگ ان کے احترام میں وہاں غار میں گئے۔ روایات میں آیا ہے کہ پکڑا گیا آدمی غار میں واپس داخل ہوا، پھر اللہ نے ان پر حقیقی موت وارد کر دی۔ پھر وہ غار بند کر دیا گیا۔ کئی لوگ کہنے لگے کہ غار پر یادگار کے طور پر ایک عمارت بنائیں، جبکہ اکثر لوگوں کی رائے پر وہاں مسجد بنائی گئی، اور یہ علاقہ ترکی کی طرف ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے ڈیڑھ سو سال پہلے کا واقعہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت 571 عیسوی میں ہوئی ہے، تبھی یہودیوں نے تین سوالوں میں سے ایک یہ بھی بھیجا تھا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم ان کی کروٹیں غار میں بدلتے رہتے تھے۔ طلوع ہوتے وقت سورج کی دھوپ غار کے دائیں طرف اور غروب ہوتے وقت غار کے بائیں طرف پڑتی تھی تاکہ ان کے جسم گل سڑ نہ جائیں، اور ان کا کتا غار کے دہانے پر ٹانگیں پھیلائے ہوا تھا۔ ہم نے وہ ایسی خوفناک جگہ بنائی تھی کہ کوئی بھی بشر اس طرف ڈر کے مارے نہیں جاتا تھا۔‘‘
اب لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے، چوتھا ان کا کتا تھا۔ کئی لوگ کہیں گے کہ وہ پانچ تھے، چھٹا ان کا کتا تھا۔ بےتکی باتیں ہیں، لیکن کئی لوگ کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ آیت پر غور کریں تو یقیناً وہ سات ہی تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا، کیونکہ چار اور پانچ کے پیچھے ’’اور‘‘ نہیں ہے، جب کہ اللہ آگے فرماتا ہے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔


