جمعرات کو چین کی سرکاری میڈیا کی رپورٹس کے مطابق نیپال سے متصل چین کے تبت کے خود مختار علاقے کے سرحدی علاقے میں بڑے پیمانے پر مٹی کے تودے گرنے سے 588 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی نے جمعرات کو ہلاکتوں کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک دو مقامی دیہاتیوں کو بچا لیا گیا ہے۔
چین کی ژنہوا نیوز ایجنسی نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ تبت میں ایک گلیشیئر گرنے سے مٹی کے تودے کھسکنے سے تین افراد ہلاک ہو گئے۔ چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے اطلاع دی ہے کہ 588 لاپتہ افراد میں سے 260 غیر ملکی تھے۔
بدھ کو چینی صدر شی جن پنگ نے حکم دیا کہ تبت میں چین-نیپال سرحد کے قریب دیہاتوں اور قصبوں کو متاثر کرنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد لاپتہ ہونے والوں کی تلاش اور انہیں بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔
دوسری جانب، نیپال پولیس کے مطابق نیپال-چین سرحد پر اچانک بڑے سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 162 افراد ہلاک ہوے ہیں۔
ہمالیہ کے پہاڑیوں میں کھڑی ڈھلوانوں اور سرسبز وادیاں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا بہت زیادہ خطرہ پیدا کرتی ہیں۔ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے شدید موسمی واقعات جیسے کہ شدید مانسون اور گلیشیئرز کا پگھلنا معمول بن گیا ہے۔
تبت میں اسی طرح کا سیلاب گزشتہ اگست میں آیا تھا۔ اس واقعے میں نو افراد ہلاک اور نیپال اور چین کو ملانے والا پل سمیت اہم بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔
خطے کی کھڑی وادیاں اقتصادی لائف لائنز اور سفری راستوں کا کام کرتی ہیں، پھر بھی آفات کے دوران یہ خطرناک ہو جاتی ہیں۔
نیپال کے شدید متاثرہ ضلع نواکوٹ سے حاصل ہونے والی تصاویر میں سیلاب کے بعد عمارتوں کی بالائی منزلیں مٹی میں ڈھکی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ درختوں کی شاخوں اور بجلی کی تاروں سے ملبہ لٹکا ہوا ہے، گاڑیاں ملبے میں دب گئی ہیں۔ سیلاب کے باعث بعض علاقوں میں سفری نظام درہم برہم ہوگیا۔


