نیپال میں بدھ کی صبح آنے والے شدید اچانک سیلاب کے بعد 105 بھارتی شہریوں سمیت 384 سیاح لاپتہ بتائے گئے ہیں، جبکہ کم از کم 8 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ لاپتہ افراد کے اعداد و شمار ابتدائی ہیں اور ان کی مختلف اداروں کے ذریعے تصدیق جاری ہے۔ نیپال ٹورزم بورڈ کے مطابق لاپتہ 384 افراد میں 291 غیر ملکی اور 93 نیپالی شہری شامل ہیں۔
غیر ملکیوں میں 105 بھارتیوں کے علاوہ برطانیہ، آسٹریلیا، امریکہ، ملائیشیا، جنوبی افریقہ اور نیدرلینڈز کے شہری بھی شامل ہیں۔ کئی افراد کی قومیت ابھی حتمی طور پر معلوم نہیں ہوسکی۔ لاپتہ سیاح 9 مختلف ٹریول ایجنسیوں سے وابستہ تھے۔ حکام ٹریول ایجنسیوں، گائیڈز، مقامی انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر معلومات کی تصدیق کررہے ہیں۔ سیلاب بھوٹے کوشی دریا میں اچانک طغیانی کے باعث آیا، جس سے رسوا، دھادنگ اور نواکوٹ کے علاقے متاثر ہوئے۔
بدھ کی صبح تقریباً 9 بجے دریا میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی، جس سے کئی دیہات، سڑکیں اور ہائیڈرو پاور منصوبے متاثر ہوئے۔ حکام نے لوگوں کو بھوٹے کوشی، تریشولی اور ناراینی دریاؤں کے کناروں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ کٹھمنڈو میں قائم انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ کے ماہرین کے مطابق ایک برفانی تودہ اور چٹانوں کا سرکنا اس سیلاب کی ممکنہ وجہ ہے۔
ماہرین کے مطابق لینڈے کھولا دریا میں بھی شدید طغیانی دیکھی گئی۔ ماہرِ آفات سسوتا سنیال نے کہا کہ گزشتہ 14 ماہ میں لینڈے کھولا میں یہ دوسری بڑی طغیانی ہے۔ ان کے مطابق گلیشیئر سے برف اور چٹانوں کے تودے نے دریا کے بہاؤ کو متاثر کیا، جس کے بعد پانی کا بڑا ریلا نیچے کی جانب آیا۔ رسوا ضلع سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔ اگست 2025 میں بھی اس خطے میں شدید سیلاب آیا تھا، جس میں 9 افراد ہلاک اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔
نیپالی حکومت کے ترجمان سسمت پوکھریل کے مطابق امدادی کارروائیوں کے لیے بھارت اور چین سے مدد طلب کی گئی ہے۔ سرچ اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ نیپال ٹورزم بورڈ نے متاثرہ سیاحوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے یہ رابطہ نمبرز جاری کیے ہیں: ٹول فری: 1234، ہاٹ لائن: 1144، ٹورسٹ پولیس: 9851289445۔ بورڈ نے متاثرہ علاقوں میں موجود سیاحوں سے پرسکون رہنے، سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کرنے اور حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔


