
بجے نس نس میں جو سرگم نمی دانم
کہوں گا میں یہی ہر دم نمی دانم
ہوا کے دوش پر اس کا مقدر تھا
ہوئی قندیلِ دل مدھم نمی دانم
ہے لغزش اس کی ہر نس میں،کسے معلوم
سدھر جائے بنی آدم نمی دانم
سبب کیا ہے، یہ تم جانو ،جنوں میں اب
سکوں بھی ہے بہت ہی کم نمی دانم
کہ چھیڑا ذکر یونہی آج یاروں نے
ہوئی پھر آنکھیں کیوں پر نم نمی دانم
روش بدلی ہے اپنی ، اب کے برکھا رت
برستی ہے چھما چھم چھم نمی دانم
لبوں پر مہر ہر دم ،آنکھ پرنم اور
دبے پاؤں چلے پیتم نمی دانم
ہے باہر دل کے کیا جلوہ ارے توبہ
ہے اندر ہو کا جو عالم نمی دانم
محیطِ بے کراں ہے تو میں اک قطرہ
کجا تو ،من کجا جانم نمی دانم


