غزل :راشف عزمی

 

 

بجے نس نس میں جو سرگم نمی دانم
کہوں گا میں یہی ہر دم نمی دانم
ہوا کے دوش پر اس کا مقدر تھا
ہوئی قندیلِ دل مدھم نمی دانم
ہے لغزش اس کی ہر نس میں،کسے معلوم
سدھر جائے بنی آدم نمی دانم
سبب کیا ہے، یہ تم جانو ،جنوں میں اب
سکوں بھی ہے بہت ہی کم نمی دانم
کہ چھیڑا ذکر یونہی آج یاروں نے
ہوئی پھر آنکھیں کیوں پر نم نمی دانم
روش بدلی ہے اپنی ، اب کے برکھا رت
برستی ہے چھما چھم چھم نمی دانم
لبوں پر مہر ہر دم ،آنکھ پرنم اور
دبے پاؤں چلے پیتم نمی دانم
ہے باہر دل کے کیا جلوہ ارے توبہ
ہے اندر ہو کا جو عالم نمی دانم
محیطِ بے کراں ہے تو میں اک قطرہ
کجا تو ،من کجا جانم نمی دانم

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

غزل :راشف عزمی

 

 

بجے نس نس میں جو سرگم نمی دانم
کہوں گا میں یہی ہر دم نمی دانم
ہوا کے دوش پر اس کا مقدر تھا
ہوئی قندیلِ دل مدھم نمی دانم
ہے لغزش اس کی ہر نس میں،کسے معلوم
سدھر جائے بنی آدم نمی دانم
سبب کیا ہے، یہ تم جانو ،جنوں میں اب
سکوں بھی ہے بہت ہی کم نمی دانم
کہ چھیڑا ذکر یونہی آج یاروں نے
ہوئی پھر آنکھیں کیوں پر نم نمی دانم
روش بدلی ہے اپنی ، اب کے برکھا رت
برستی ہے چھما چھم چھم نمی دانم
لبوں پر مہر ہر دم ،آنکھ پرنم اور
دبے پاؤں چلے پیتم نمی دانم
ہے باہر دل کے کیا جلوہ ارے توبہ
ہے اندر ہو کا جو عالم نمی دانم
محیطِ بے کراں ہے تو میں اک قطرہ
کجا تو ،من کجا جانم نمی دانم

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں