محمد ایوبؔ
ترال بالا پلوامہ
تیرے خاموش لبوں پر کیسی الجھن ہے
چہرے پہ اداسی، ماتھے پہ شکن ہے
دل میں طوفان، آنکھوں میں نمی کیوں ہے
پلکوں پہ ٹھہری ہوئی اک اشک کی کرن ہے
کچھ کہنا ہے تم کو، مگر لب نہیں کھلتے
آنکھوں کی زباں میں بھی عجب سی گھٹن ہے
کس بات کا غم ہے جو چھپاتے ہو زمانے سے
ہر سانس میں محسوس ہوتی تیری تھکن ہے
میں پوچھوں جو حالِ دل، نظریں چرا لیتے ہو
لگتا ہے ابھی دل میں کوئی رازِ سخن ہے
تنہائی میں بیٹھے ہو، خود سے ہی الجھتے ہو
کیا دل میں کسی یاد کی اب تک بھی لگن ہے
کیوں ایوبؔ! سینے میں یہ درد کی چبھن ہے
کس یاد کا مرقد ہے جو دل میں دفن ہے
زز


