غزل: محمد ایوبؔ

محمد ایوبؔ
ترال بالا پلوامہ

تیرے خاموش لبوں پر کیسی الجھن ہے
چہرے پہ اداسی، ماتھے پہ شکن ہے
دل میں طوفان، آنکھوں میں نمی کیوں ہے
پلکوں پہ ٹھہری ہوئی اک اشک کی کرن ہے
کچھ کہنا ہے تم کو، مگر لب نہیں کھلتے
آنکھوں کی زباں میں بھی عجب سی گھٹن ہے
کس بات کا غم ہے جو چھپاتے ہو زمانے سے
ہر سانس میں محسوس ہوتی تیری تھکن ہے
میں پوچھوں جو حالِ دل، نظریں چرا لیتے ہو
لگتا ہے ابھی دل میں کوئی رازِ سخن ہے
تنہائی میں بیٹھے ہو، خود سے ہی الجھتے ہو
کیا دل میں کسی یاد کی اب تک بھی لگن ہے
کیوں ایوبؔ! سینے میں یہ درد کی چبھن ہے
کس یاد کا مرقد ہے جو دل میں دفن ہے
زز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

غزل: محمد ایوبؔ

محمد ایوبؔ
ترال بالا پلوامہ

تیرے خاموش لبوں پر کیسی الجھن ہے
چہرے پہ اداسی، ماتھے پہ شکن ہے
دل میں طوفان، آنکھوں میں نمی کیوں ہے
پلکوں پہ ٹھہری ہوئی اک اشک کی کرن ہے
کچھ کہنا ہے تم کو، مگر لب نہیں کھلتے
آنکھوں کی زباں میں بھی عجب سی گھٹن ہے
کس بات کا غم ہے جو چھپاتے ہو زمانے سے
ہر سانس میں محسوس ہوتی تیری تھکن ہے
میں پوچھوں جو حالِ دل، نظریں چرا لیتے ہو
لگتا ہے ابھی دل میں کوئی رازِ سخن ہے
تنہائی میں بیٹھے ہو، خود سے ہی الجھتے ہو
کیا دل میں کسی یاد کی اب تک بھی لگن ہے
کیوں ایوبؔ! سینے میں یہ درد کی چبھن ہے
کس یاد کا مرقد ہے جو دل میں دفن ہے
زز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون