نوجوان اور مصنوعی ذہانت

مصنوعی ذہانت اب نوجوان نسل کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ وہ تعلیم، معلومات، گفتگو اور بعض اوقات جذباتی تسلی کے لئے بھی اے آئی سے رجوع کرتے ہیں۔ ایسے میں نوعمر صارفین کے لئے خصوصی حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔
نوجوانوں کے لئے چیٹ بوٹس میں خود کو نقصان پہنچانے، تشدد اور نامناسب مواد سے متعلق سخت حفاظتی نظام، والدین کے کنٹرول اور نگرانی کے اقدامات اہم ہیں۔ نوعمر ذہن ابھی نشوونما کے مرحلے میں ہوتا ہے، اس لئے وہ اے آئی کی انسان جیسی گفتگو اور ہمدردانہ انداز سے جذباتی طور پر متاثر یا اس پر انحصار کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ نوجوانوں میں ڈیجیٹل شعور پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اے آئی سے ملنے والی ہر معلومات درست نہیں ہوتی اور کسی بھی حساس مسئلے میں والدین، اساتذہ یا متعلقہ ماہرین سے رہنمائی لینا ضروری ہے۔
ایک اور اہم پہلو ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ذمہ داری ہے۔ صرف صارفین کو احتیاط کا مشورہ دینا کافی نہیں، بلکہ اے آئی پلیٹ فارمز کو ابتدا ہی سے ایسے حفاظتی نظام کے ساتھ تیار کرنا ہوگا جو بچوں اور نوجوانوں کو نقصان دہ مواد اور ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھ سکیں۔
سوشل میڈیا کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کو صرف مقبولیت اور منافع کے پیمانے سے نہیں چلایا جا سکتا۔ حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں، والدین اور اساتذہ کو مل کر نوجوانوں کے لئے محفوظ ڈیجیٹل ماحول بنانا ہوگا۔
ٹیکنالوجی کی اصل کامیابی اس کی ذہانت نہیں، بلکہ نئی نسل کے لئے اس کی حفاظت اور ذمہ داری میں ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

نوجوان اور مصنوعی ذہانت

مصنوعی ذہانت اب نوجوان نسل کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ وہ تعلیم، معلومات، گفتگو اور بعض اوقات جذباتی تسلی کے لئے بھی اے آئی سے رجوع کرتے ہیں۔ ایسے میں نوعمر صارفین کے لئے خصوصی حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔
نوجوانوں کے لئے چیٹ بوٹس میں خود کو نقصان پہنچانے، تشدد اور نامناسب مواد سے متعلق سخت حفاظتی نظام، والدین کے کنٹرول اور نگرانی کے اقدامات اہم ہیں۔ نوعمر ذہن ابھی نشوونما کے مرحلے میں ہوتا ہے، اس لئے وہ اے آئی کی انسان جیسی گفتگو اور ہمدردانہ انداز سے جذباتی طور پر متاثر یا اس پر انحصار کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ نوجوانوں میں ڈیجیٹل شعور پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اے آئی سے ملنے والی ہر معلومات درست نہیں ہوتی اور کسی بھی حساس مسئلے میں والدین، اساتذہ یا متعلقہ ماہرین سے رہنمائی لینا ضروری ہے۔
ایک اور اہم پہلو ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ذمہ داری ہے۔ صرف صارفین کو احتیاط کا مشورہ دینا کافی نہیں، بلکہ اے آئی پلیٹ فارمز کو ابتدا ہی سے ایسے حفاظتی نظام کے ساتھ تیار کرنا ہوگا جو بچوں اور نوجوانوں کو نقصان دہ مواد اور ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھ سکیں۔
سوشل میڈیا کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کو صرف مقبولیت اور منافع کے پیمانے سے نہیں چلایا جا سکتا۔ حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں، والدین اور اساتذہ کو مل کر نوجوانوں کے لئے محفوظ ڈیجیٹل ماحول بنانا ہوگا۔
ٹیکنالوجی کی اصل کامیابی اس کی ذہانت نہیں، بلکہ نئی نسل کے لئے اس کی حفاظت اور ذمہ داری میں ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں