
گلفام بارجی
ہارون سرینگر
ادب محض الفاظ کو خوبصورت ترتیب دینے کا نام نہیں بلکہ یہ انسانی احساسات، تجربات، مشاہدات، جذبات اور فکری رویوں کی ترجمانی کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔کسی بھی قلم کار کی ایک اچھی کتاب جب منظرِ عام پر آتی ہے تو وہ اپنے ساتھ صرف صفحات کا ایک مجموعہ نہیں لاتی بلکہ اپنے اندر ایک عہد، ایک ماحول، ایک سوچ اور ایک تخلیق کار کی داخلی دنیا بھی لئے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی نئی تصنیف کی اشاعت اہلِ ادب کے لئے ہمیشہ ایک خوش آئند واقعہ تصور کی جاتی ہے۔اسی ادبی تسلسل میں صدرِ اندر کلچرل فورم، اندرکوٹ سمبل سوناواری سلیم یوسف کی دوسری تصنیف ’’صدائے قفس‘‘ کی اشاعت بھی ایک قابلِ ذکر ادبی پیش رفت ہے۔ سلیم یوسف نے اپنی نئی تصنیف کے ذریعے اپنے ادبی سفر کو ایک نئے مرحلے میں داخل کیا ہے جو ان کے تخلیقی شوق، فکری وابستگی اور ادب سے گہری محبت کی عکاسی ہے۔’’صدائے قفس‘‘ کے عنوان میں ہی ایک گہری معنویت پوشیدہ ہے۔ ’’قفس‘‘ جہاں پابندی، محدودیت اور جمود کی علامت بن کر سامنے آتا ہے وہیں ’’صدا‘‘ انسانی احساس، احتجاج، امید، فکر اور اظہار کی نمائندگی کرتی ہے۔ یوں یہ عنوان اپنے اندر ایک ایسے تخلیقی احساس کی طرف اشارہ کرتا ہے جو خاموشی کے ماحول میں بھی اظہار کا راستہ تلاش کرتا ہے۔ ادب کی بنیادی روح بھی یہی ہے کہ جہاں عام آوازیں دب جاتی ہیں وہاں قلم اپنی زبان پیدا کرتا ہے۔سلیم یوسف کی دوسری کتاب کی اشاعت اس لحاظ سے بھی اہمیت رکھتی ہے کہ یہ ان کے ادبی سفر کے تسلسل کی علامت ہے۔”صدائے قفس” نامی تصنیف میں سلیم یوسف نے کربلا کی داستان کو شاعری میں بیان کرکے جس انداز سے تحریر کیا ہے وہ واقعی قابل تعریف اور قابل فخر ہے۔کتاب میں درج ہرایک نوحہ میں شہدائے کربلا پر ڈھائے گئے ستم کو سلیم یوسف نے جزباتی انداز میں بیان کیا ہے جنہیں پڑھ کر پڑھنے والے کو کربلا کی تصویر آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے اور آنکھیں خودبخود نم ہوجاتی ہیں۔اس تصنیف کے منظر عام پر آنے سے عقیدتی ادب میں ایک اور تصنیف کا اظافہ ہوا ہے جو خوش آئند بات ہے کیونکہ ہمارے ادبی دنیا میں عقیدتی ادب لکھنے والوں کی کمی شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔ عقیدتی ادب میں سلیم یوسف کی اس تازہ تصنیف کے منظر عام پر آنے سے امید کی جاسکتی ہے کہ ادبی دنیا کے نوآموز قلم کار عقیدتی ادب کی طرف مائل ہوکر اور "صدائے قفس” کو مدنظر رکھ کر اپنے قلم سے عقیدتی ادب میں رنگ بھر دیں گے۔ سلیم یوسف کی پہلی تصنیف "کرپھولہ سحر” کے بعد دوسری کتاب تک کا سفر کسی بھی قلم کار کے لئے محض وقت کا فاصلہ نہیں ہوتا بلکہ یہ مطالعے، مشاہدے، تجربے، فکری ارتقا اور تخلیقی پختگی کے مختلف مراحل سے گزرنے کا عمل ہوتا ہے۔ ایک کتاب لکھنا جتنا مشکل کام ہے اس سے کہیں زیادہ مشکل یہ ہے کہ قلم کار اپنے پہلے ادبی سفر کے بعد بھی اپنی تخلیقی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے نئی فکر اور نئے موضوعات کے ساتھ قارئین کے سامنے آئے۔سلیم یوسف کا تعلق محض تحریر و تصنیف سے نہیں بلکہ ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں سے بھی ہے۔ اندر کلچرل فورم اندرکوٹ سمبل سوناواری کے پلیٹ فارم سے ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں ان کی وابستگی اس بات کی غماز ہے کہ وہ ادب کو صرف کتاب کے صفحات تک محدود نہیں سمجھتے بلکہ اسے معاشرے کی فکری اور تہذیبی زندگی کا ایک اہم حصہ تصور کرتے ہیں۔یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ موجودہ دور میں جب مطالعے کی عادت مختلف مصروفیات اور جدید ذرائع ابلاغ کے دباؤ میں کم ہوتی جا رہی ہے کسی قلم کار کا کتاب کی تخلیق اور اشاعت کی طرف متوجہ ہونا بذاتِ خود ایک مثبت اور حوصلہ افزا عمل ہے۔ کتاب آج بھی انسان اور فکر کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی کتاب کی آمد کو ادبی حلقوں میں امید کی ایک نئی کرن کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔’’صدائے قفس‘‘ بھی اسی امید کی ایک کڑی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف اپنے مصنف کے ادبی سفر کو آگے بڑھاتی ہے بلکہ ان تمام قارئین کے لئے بھی ایک دعوتِ مطالعہ ہے جو ادب میں انسانی احساس، معاشرتی مشاہدے اور فکری اظہار کی جستجو کرتے ہیں۔ ایک تخلیق کار کی اصل کامیابی اس وقت سامنے آتی ہے جب اس کے الفاظ قاری کے دل و دماغ میں سوال پیدا کریں، اسے سوچنے پر مجبور کریں اور اس کے اندر کسی احساس کو بیدار کریں۔ادب کا یہی وصف اسے محض تفریح سے بلند کرکے انسانی شعور کی تعمیر کا وسیلہ بناتا ہے۔ ایک حساس قلم کار اپنے عہد کی نبض کو محسوس کرتا ہے۔ وہ معاشرے کے دکھ، خوشی، محرومی، امید، کشمکش اور خوابوں کو اپنے الفاظ میں جگہ دیتا ہے۔ اس اعتبار سے سلیم یوسف کی نئی تصنیف ان کے ادبی سفر میں ایک اہم اضافہ قرار دی جا سکتی ہے۔
’’صدائے قفس‘‘ کی اشاعت کے موقع پر ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ کتاب قارئین میں پذیرائی حاصل کرے گی اور سلیم یوسف کی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید جلا بخشے گی۔ کتاب کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ اسے کتنے لوگوں نے پڑھا بلکہ اس سے بھی ہوتی ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد کتنے ذہنوں میں نئے سوال پیدا ہوئے، کتنے دلوں میں نئے احساسات نے جنم لیا اور کتنے قارئین نے اپنے گردوپیش کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی۔
ادبی تعلقات محض رسمی تقریبات میں شرکت کے محتاج نہیں ہوتے۔ خلوص، محبت، فکری رفاقت اور ایک دوسرے کی تخلیقی کاوشوں کا احترام ہی وہ رشتہ ہے جو اہلِ قلم کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔
سلیم یوسف کی ادبی کاوش پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آج کے دور میں ادب اور ثقافت سے وابستہ افراد کی حوصلہ افزائی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے قلم کاروں کی ضرورت ہے جو اپنے اردگرد کے حالات کو محسوس کریں انہیں الفاظ کا جامہ پہنائیں اور نئی نسل کو کتاب، مطالعے اور فکر سے جوڑنے میں اپنا کردار ادا کریں۔خاص طور پر کشمیر جیسے خطے میں جہاں صدیوں سے شعر و ادب، صوفیانہ فکر، لوک روایت اور ثقافتی اظہار نے معاشرتی زندگی کو متاثر کیا ہے نئی ادبی آوازوں کا ابھرنا ایک خوش آئند امر ہے۔ یہاں کی مٹی نے ہمیشہ شاعروں، ادیبوں، دانشوروں اور فن کاروں کو جنم دیا ہے۔ نئی نسل کے قلم کار اسی روایت کو اپنے عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے آگے بڑھا سکتے ہیں۔’’صدائے قفس‘‘ کی اشاعت اسی تسلسل میں ایک مثبت قدم ہے۔ یہ کتاب سلیم یوسف کے لئے محض دوسری تصنیف نہیں بلکہ ان کے ادبی سفر کے ایک نئے باب کا آغاز بھی ہے۔ امید ہے کہ سلیم یوسف مستقبل میں بھی اسی جذبے، خلوص اور فکری وابستگی کے ساتھ قلمی سفر جاری رکھیں گے۔
آخر میں سلیم یوسف صاحب کو ’’صدائے قفس‘‘ کی اشاعت پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ دعا ہے کہ ان کا قلم ہمیشہ احساس کی ترجمانی کرتا رہے ان کی فکر میں وسعت اور گہرائی پیدا ہوتی رہے اور ان کی تحریریں معاشرے میں مثبت سوچ، شعور اور ادبی ذوق کے فروغ کا ذریعہ بنتی رہیں۔
قلم سلامت رہے،فکر روشن رہے،
لفظوں کی خوشبو قائم رہے،
اور سلیم یوسف کا سفرِ ادب اسی عزم و حوصلے کے ساتھ جاری و ساری رہے۔


