تفسیر نظام القرآن: ایک تعارف

آفاق ملک

پلوامہ،کشمیر

قرآن مجید کی تفسیر کی تاریخ جتنی قدیم ہے، اتنی ہی وسیع اور متنوع بھی ہے۔ ہر دور میں ایسے جلیل القدر مفسرین پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے اپنے علمی ذوق، فکری رجحان اور تحقیقی منہج کے مطابق قرآن کریم کی شرح و تفسیر کی۔ کسی نے حدیث کی روشنی میں قرآن کو سمجھایا، کسی نے فقہی مسائل کو نمایاں کیا، کسی نے لغت اور بلاغت کو بنیاد بنایا، تو کسی نے تصوف، فلسفہ یا تاریخ کے زاویے سے قرآن کے معانی کو واضح کرنے کی کوشش کی۔ ان تمام علمی کاوشوں نے امتِ مسلمہ کے علمی ذخیرے کو بے پناہ وسعت عطا کی۔ لیکن اس کے باوجود ہر دور میں ایسے رجالِ علم بھی سامنے آئے جنہوں نے قرآن مجید کو ایک نئے زاویۂ نگاہ سے سمجھنے کی کوشش کی اور ایسے اصول متعارف کرائے جنہوں نے تفسیرِ قرآن کی دنیا میں نئی راہیں ہموار کیں۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک ایسا علمی مزاج بھی موجود رہا ہے جس میں تحقیق، تنقید اور آزادانہ غور و فکر کے بجائے تقلید، روایت پرستی اور سنی سنائی باتوں پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ، بلکہ بعض اوقات علماء بھی، کسی نظریے یا رائے کو صرف اس لئے قبول کر لیتے ہیں کہ وہ پہلے سے مشہور ہے یا اکابر سے منسوب ہے۔ وہ اس کے دلائل، تاریخی پس منظر، قرآنی بنیادوں اور عقلی استدلال پر سنجیدگی سے غور نہیں کرتے۔ اس طرزِ فکر کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ علمی دنیا جمود کا شکار ہو جاتی ہے، نئی تحقیق کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور فکر و نظر کے دروازے بتدریج بند ہونے لگتے ہیں۔قرآن مجید بار بار انسان کو تدبر، تعقل، تفکر اور تحقیق کی دعوت دیتا ہے۔ وہ انسان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ آیات پر غور کرے، کائنات میں پھیلی ہوئی نشانیوں کو دیکھے، تاریخ سے سبق حاصل کرے اور ہر معاملے میں دلیل اور برہان کی بنیاد پر رائے قائم کرے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تہذیب کے سنہرے ادوار میں ایسے علماء پیدا ہوئے جنہوں نے قرآن کے اسی دعوتی مزاج کو اپنا شعار بنایا۔ انہوں نے روایت کا احترام کیا، لیکن روایت کو تحقیق کا متبادل نہیں بنایا۔ انہوں نے قدیم تفسیری سرمایہ سے بھرپور استفادہ کیا، مگر اس کے ساتھ ساتھ قرآن کے متن پر براہِ راست غور و فکر کو بھی ضروری سمجھا۔برصغیر کی علمی روایت میں بھی کئی ایسی شخصیات پیدا ہوئیں جنہوں نے اس تحقیقی ذوق کو زندہ رکھا۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے حدیثی علوم کو نئی زندگی عطا کی، شاہ ولی اللہ دہلوی نے قرآن و حدیث کے فہم میں اعتدال اور توازن کی راہ دکھائی، سر سید احمد خان نے عقل و فطرت کے تناظر میں قرآن پر غور کرنے کی دعوت دی، علامہ شبلی نعمانی نے اسلامی علوم میں تحقیقی اسلوب کو فروغ دیا، جبکہ ان تمام اہلِ علم کے بعد امام حمید الدین فراہی نے قرآن فہمی کے میدان میں ایک ایسا منفرد نظریہ پیش کیا جس نے جدید دور کی قرآنی تحقیق پر گہرے اثرات مرتب کیے۔امام حمید الدین فراہی بلاشبہ بیسویں صدی کے عظیم ترین قرآنی مفکرین میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شخصیت علومِ قرآن، عربی زبان، ادب، نحو، بلاغت، فقہ، حدیث اور تاریخ جیسے متعدد علوم کا حسین امتزاج تھی۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن مجید کے فہم کے لئے وقف کر دی۔ ان کے نزدیک قرآن محض الگ الگ آیات یا مستقل احکام کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا مربوط، منظم اور حکیمانہ کلام ہے جس کی ہر سورت، ہر رکوع بلکہ ہر آیت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ اسی نظریے کو انہوں نے "نظمِ قرآن” کا نام دیا، جو بعد میں ان کی پوری فکری روایت کی بنیاد بن گیا۔امام فراہی کی مشہور تصنیف "نظام القرآن” اسی نظریۂ نظم کی عملی تفسیر ہے۔ اگرچہ یہ تفسیر صرف قرآن مجید کے تیسویں پارے کی تفسیر پر مشتمل ہے، لیکن اس کی علمی اہمیت کسی مکمل تفسیر سے کم نہیں۔ اس مختصر دائرۂ کار میں امام فراہی نے ایسے اصول متعین کیے جن کی روشنی میں پورے قرآن مجید کو سمجھا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ "نظام القرآن” کو صرف ایک تفسیر نہیں بلکہ ایک تفسیری منہج قرار دیا جاتا ہے۔
اس کتاب کا بنیادی تصور یہ ہے کہ قرآن مجید کی ہر سورت ایک مرکزی مضمون یا عمود رکھتی ہے۔ سورت کی تمام آیات اسی مرکزی مضمون کے گرد گردش کرتی ہیں۔ کوئی آیت غیر متعلق نہیں، کوئی جملہ بے مقصد نہیں اور کوئی حصہ الگ تھلگ نہیں۔ ہر لفظ، ہر مثال، ہر قسم، ہر واقعہ اور ہر حکم اپنے مقام پر ایک خاص حکمت کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ جب قاری اس مرکزی مضمون کو سمجھ لیتا ہے تو پوری سورت ایک مربوط اور ہم آہنگ وحدت کی صورت میں اس کے سامنے آ جاتی ہے۔
امام فراہی نے صرف سورتوں کے اندرونی نظم کو واضح نہیں کیا بلکہ یہ بھی دکھایا کہ ایک سورت دوسری سورت سے کس طرح مربوط ہے۔ قرآن کی ترتیب ان کے نزدیک محض تاریخی یا اتفاقی نہیں بلکہ ایک الٰہی حکمت کے تحت قائم کی گئی ترتیب ہے۔ اس لئے ایک سورت کے آغاز اور اختتام کا تعلق بھی اپنے ماقبل اور مابعد سے گہرا ہے۔ بعد میں یہی نظریہ مولانا امین احسن اصلاحی نے "تدبرِ قرآن” میں مزید تفصیل کے ساتھ پیش کیا اور سورتوں کے جوڑوں اور گروہوں کا نظریہ بھی واضح کیا۔نظام القرآن” کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ امام فراہی نے قرآن کو خود قرآن کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے آیات کی تشریح میں حتیٰ الامکان دوسری آیات سے استدلال کیا، عربی زبان کے خالص اسالیب سے مدد لی اور جاہلی عربی ادب کو بھی بطورِ قرینہ استعمال کیا۔ ان کے نزدیک قرآن کی اصل زبان عربی ہے، اس لئے اس کے الفاظ، محاورات اور اسالیب کو سمجھنے کے لئے عربی ادب سے واقفیت ناگزیر ہے۔امام فراہی کی تحقیق کا ایک اہم میدان حروفِ مقطعات بھی ہے۔ یہ موضوع صدیوں سے مفسرین کے درمیان بحث کا مرکز رہا ہے۔ کسی نے انہیں رازِ الٰہی قرار دیا، کسی نے حروفِ تہجی کی علامت کہا، کسی نے اسمائے الٰہی کے رموز سمجھا، جبکہ بعض علماء نے ان کے معنی اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیے۔ امام فراہی نے اس مسئلے پر نہایت سنجیدہ، علمی اور تحقیقی انداز اختیار کیا۔ اگرچہ ان کی رائے سے ہر شخص کا اتفاق ضروری نہیں، لیکن ان کی تحقیق اس بات کا ثبوت ضرور ہے کہ قرآن کے بہت سے موضوعات اب بھی تدبر اور تحقیق کے محتاج ہیں۔امام فراہی کے بعد ان کے عظیم شاگرد مولانا امین احسن اصلاحی نے ان کے افکار کو مزید منظم صورت میں پیش کیا۔ ان کی آٹھ جلدوں پر مشتمل شہرۂ آفاق تفسیر "تدبرِ قرآن” درحقیقت امام فراہی کے نظریۂ نظم کی سب سے جامع عملی تطبیق ہے۔ بعد ازاں جاوید احمد غامدی نے بھی اپنے قرآنی مباحث، دروس اور تصنیفات میں اسی منہج کو اختیار کیا اور اسے جدید اسلوب میں پیش کیا۔ اسی طرح متعدد دیگر اہلِ علم اور محققین نے بھی امام فراہی کے افکار سے استفادہ کیا اور نظمِ قرآن کے تصور کو مزید فروغ دیا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ امام فراہی کی بعض آراء سے تمام علماء متفق نہیں۔ کئی اہلِ علم نے ان کے بعض نتائج پر علمی نقد بھی کیا ہے، خصوصاً بعض تفسیری تطبیقات اور حروفِ مقطعات کی تعبیر کے حوالے سے۔ تاہم اس اختلاف کے باوجود تقریباً تمام سنجیدہ محققین اس بات پر متفق ہیں کہ امام فراہی نے قرآن کے مطالعے میں تدبر، ربطِ آیات اور وحدتِ سورت کے تصور کو غیر معمولی اہمیت دی، جس سے قرآنی علوم کو ایک نئی جہت ملی۔
نظام القرآن” کا سب سے بڑا امتیاز یہی ہے کہ یہ قاری کو صرف معلومات فراہم نہیں کرتی بلکہ اسے غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ یہ کتاب انسان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ہر سورت کو مکمل وحدت کے طور پر پڑھے، آیات کے درمیان تعلق تلاش کرے، الفاظ کے انتخاب میں پوشیدہ حکمت کو سمجھے اور قرآن کے اعجازِ نظم پر حیران ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کا مطالعہ محض معلومات میں اضافہ نہیں کرتا بلکہ قرآن سے ایک زندہ فکری تعلق پیدا کرتا ہے۔آج جب قرآن کے مطالعے میں سطحیت، اقتباسی انداز اور موضوعاتی تقسیم کا رجحان بڑھ رہا ہے، ایسے وقت میں "نظام القرآن” کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ یہ کتاب یاد دلاتی ہے کہ قرآن کو اس کے اصل سیاق، اس کے اندرونی نظم اور اس کی مکمل ساخت کے ساتھ سمجھنا ہی اس کے پیغام کو صحیح طور پر سمجھنے کی بنیاد ہے۔طلبہ، اساتذہ، محققین، خطباء، مفسرین اور عام قارئین، سب کے لئے یہ کتاب یکساں اہمیت رکھتی ہے۔ اگر کوئی شخص قرآن کو محض الگ الگ آیات کی کتاب نہیں بلکہ ایک مربوط، حکیمانہ، منظم اور زندہ کتاب کے طور پر سمجھنا چاہتا ہے تو "نظام القرآن” اس کے لئے ایک لازمی مطالعہ ہے۔ یہ کتاب نہ صرف قرآن فہمی کے نئے دروازے کھولتی ہے بلکہ قاری میں تحقیق، تدبر، علمی دیانت اور فکری گہرائی کا ایسا ذوق پیدا کرتی ہے جو عمر بھر اس کے ساتھ رہتا ہے۔اسی لئے نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود امام حمید الدین فراہی کی یہ شاہکار تصنیف اپنی تازگی، افادیت اور علمی وقعت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ جدید قرآنی مطالعات میں اس کی قدر و منزلت مزید بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر نیا قاری جب اس کتاب کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ قرآن مجید کا بحرِ معانی جتنا وسیع ہے، اتنا ہی گہرا بھی ہے، اور امام فراہی نے اس بحر کی چند ایسی موجوں کی نشان دہی کی ہے جو آج بھی اہلِ علم کو تدبر، تحقیق اور جستجو کی نئی راہوں کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

تفسیر نظام القرآن: ایک تعارف

آفاق ملک

پلوامہ،کشمیر

قرآن مجید کی تفسیر کی تاریخ جتنی قدیم ہے، اتنی ہی وسیع اور متنوع بھی ہے۔ ہر دور میں ایسے جلیل القدر مفسرین پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے اپنے علمی ذوق، فکری رجحان اور تحقیقی منہج کے مطابق قرآن کریم کی شرح و تفسیر کی۔ کسی نے حدیث کی روشنی میں قرآن کو سمجھایا، کسی نے فقہی مسائل کو نمایاں کیا، کسی نے لغت اور بلاغت کو بنیاد بنایا، تو کسی نے تصوف، فلسفہ یا تاریخ کے زاویے سے قرآن کے معانی کو واضح کرنے کی کوشش کی۔ ان تمام علمی کاوشوں نے امتِ مسلمہ کے علمی ذخیرے کو بے پناہ وسعت عطا کی۔ لیکن اس کے باوجود ہر دور میں ایسے رجالِ علم بھی سامنے آئے جنہوں نے قرآن مجید کو ایک نئے زاویۂ نگاہ سے سمجھنے کی کوشش کی اور ایسے اصول متعارف کرائے جنہوں نے تفسیرِ قرآن کی دنیا میں نئی راہیں ہموار کیں۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک ایسا علمی مزاج بھی موجود رہا ہے جس میں تحقیق، تنقید اور آزادانہ غور و فکر کے بجائے تقلید، روایت پرستی اور سنی سنائی باتوں پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ، بلکہ بعض اوقات علماء بھی، کسی نظریے یا رائے کو صرف اس لئے قبول کر لیتے ہیں کہ وہ پہلے سے مشہور ہے یا اکابر سے منسوب ہے۔ وہ اس کے دلائل، تاریخی پس منظر، قرآنی بنیادوں اور عقلی استدلال پر سنجیدگی سے غور نہیں کرتے۔ اس طرزِ فکر کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ علمی دنیا جمود کا شکار ہو جاتی ہے، نئی تحقیق کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور فکر و نظر کے دروازے بتدریج بند ہونے لگتے ہیں۔قرآن مجید بار بار انسان کو تدبر، تعقل، تفکر اور تحقیق کی دعوت دیتا ہے۔ وہ انسان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ آیات پر غور کرے، کائنات میں پھیلی ہوئی نشانیوں کو دیکھے، تاریخ سے سبق حاصل کرے اور ہر معاملے میں دلیل اور برہان کی بنیاد پر رائے قائم کرے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تہذیب کے سنہرے ادوار میں ایسے علماء پیدا ہوئے جنہوں نے قرآن کے اسی دعوتی مزاج کو اپنا شعار بنایا۔ انہوں نے روایت کا احترام کیا، لیکن روایت کو تحقیق کا متبادل نہیں بنایا۔ انہوں نے قدیم تفسیری سرمایہ سے بھرپور استفادہ کیا، مگر اس کے ساتھ ساتھ قرآن کے متن پر براہِ راست غور و فکر کو بھی ضروری سمجھا۔برصغیر کی علمی روایت میں بھی کئی ایسی شخصیات پیدا ہوئیں جنہوں نے اس تحقیقی ذوق کو زندہ رکھا۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے حدیثی علوم کو نئی زندگی عطا کی، شاہ ولی اللہ دہلوی نے قرآن و حدیث کے فہم میں اعتدال اور توازن کی راہ دکھائی، سر سید احمد خان نے عقل و فطرت کے تناظر میں قرآن پر غور کرنے کی دعوت دی، علامہ شبلی نعمانی نے اسلامی علوم میں تحقیقی اسلوب کو فروغ دیا، جبکہ ان تمام اہلِ علم کے بعد امام حمید الدین فراہی نے قرآن فہمی کے میدان میں ایک ایسا منفرد نظریہ پیش کیا جس نے جدید دور کی قرآنی تحقیق پر گہرے اثرات مرتب کیے۔امام حمید الدین فراہی بلاشبہ بیسویں صدی کے عظیم ترین قرآنی مفکرین میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شخصیت علومِ قرآن، عربی زبان، ادب، نحو، بلاغت، فقہ، حدیث اور تاریخ جیسے متعدد علوم کا حسین امتزاج تھی۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن مجید کے فہم کے لئے وقف کر دی۔ ان کے نزدیک قرآن محض الگ الگ آیات یا مستقل احکام کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا مربوط، منظم اور حکیمانہ کلام ہے جس کی ہر سورت، ہر رکوع بلکہ ہر آیت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ اسی نظریے کو انہوں نے "نظمِ قرآن” کا نام دیا، جو بعد میں ان کی پوری فکری روایت کی بنیاد بن گیا۔امام فراہی کی مشہور تصنیف "نظام القرآن” اسی نظریۂ نظم کی عملی تفسیر ہے۔ اگرچہ یہ تفسیر صرف قرآن مجید کے تیسویں پارے کی تفسیر پر مشتمل ہے، لیکن اس کی علمی اہمیت کسی مکمل تفسیر سے کم نہیں۔ اس مختصر دائرۂ کار میں امام فراہی نے ایسے اصول متعین کیے جن کی روشنی میں پورے قرآن مجید کو سمجھا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ "نظام القرآن” کو صرف ایک تفسیر نہیں بلکہ ایک تفسیری منہج قرار دیا جاتا ہے۔
اس کتاب کا بنیادی تصور یہ ہے کہ قرآن مجید کی ہر سورت ایک مرکزی مضمون یا عمود رکھتی ہے۔ سورت کی تمام آیات اسی مرکزی مضمون کے گرد گردش کرتی ہیں۔ کوئی آیت غیر متعلق نہیں، کوئی جملہ بے مقصد نہیں اور کوئی حصہ الگ تھلگ نہیں۔ ہر لفظ، ہر مثال، ہر قسم، ہر واقعہ اور ہر حکم اپنے مقام پر ایک خاص حکمت کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ جب قاری اس مرکزی مضمون کو سمجھ لیتا ہے تو پوری سورت ایک مربوط اور ہم آہنگ وحدت کی صورت میں اس کے سامنے آ جاتی ہے۔
امام فراہی نے صرف سورتوں کے اندرونی نظم کو واضح نہیں کیا بلکہ یہ بھی دکھایا کہ ایک سورت دوسری سورت سے کس طرح مربوط ہے۔ قرآن کی ترتیب ان کے نزدیک محض تاریخی یا اتفاقی نہیں بلکہ ایک الٰہی حکمت کے تحت قائم کی گئی ترتیب ہے۔ اس لئے ایک سورت کے آغاز اور اختتام کا تعلق بھی اپنے ماقبل اور مابعد سے گہرا ہے۔ بعد میں یہی نظریہ مولانا امین احسن اصلاحی نے "تدبرِ قرآن” میں مزید تفصیل کے ساتھ پیش کیا اور سورتوں کے جوڑوں اور گروہوں کا نظریہ بھی واضح کیا۔نظام القرآن” کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ امام فراہی نے قرآن کو خود قرآن کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے آیات کی تشریح میں حتیٰ الامکان دوسری آیات سے استدلال کیا، عربی زبان کے خالص اسالیب سے مدد لی اور جاہلی عربی ادب کو بھی بطورِ قرینہ استعمال کیا۔ ان کے نزدیک قرآن کی اصل زبان عربی ہے، اس لئے اس کے الفاظ، محاورات اور اسالیب کو سمجھنے کے لئے عربی ادب سے واقفیت ناگزیر ہے۔امام فراہی کی تحقیق کا ایک اہم میدان حروفِ مقطعات بھی ہے۔ یہ موضوع صدیوں سے مفسرین کے درمیان بحث کا مرکز رہا ہے۔ کسی نے انہیں رازِ الٰہی قرار دیا، کسی نے حروفِ تہجی کی علامت کہا، کسی نے اسمائے الٰہی کے رموز سمجھا، جبکہ بعض علماء نے ان کے معنی اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیے۔ امام فراہی نے اس مسئلے پر نہایت سنجیدہ، علمی اور تحقیقی انداز اختیار کیا۔ اگرچہ ان کی رائے سے ہر شخص کا اتفاق ضروری نہیں، لیکن ان کی تحقیق اس بات کا ثبوت ضرور ہے کہ قرآن کے بہت سے موضوعات اب بھی تدبر اور تحقیق کے محتاج ہیں۔امام فراہی کے بعد ان کے عظیم شاگرد مولانا امین احسن اصلاحی نے ان کے افکار کو مزید منظم صورت میں پیش کیا۔ ان کی آٹھ جلدوں پر مشتمل شہرۂ آفاق تفسیر "تدبرِ قرآن” درحقیقت امام فراہی کے نظریۂ نظم کی سب سے جامع عملی تطبیق ہے۔ بعد ازاں جاوید احمد غامدی نے بھی اپنے قرآنی مباحث، دروس اور تصنیفات میں اسی منہج کو اختیار کیا اور اسے جدید اسلوب میں پیش کیا۔ اسی طرح متعدد دیگر اہلِ علم اور محققین نے بھی امام فراہی کے افکار سے استفادہ کیا اور نظمِ قرآن کے تصور کو مزید فروغ دیا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ امام فراہی کی بعض آراء سے تمام علماء متفق نہیں۔ کئی اہلِ علم نے ان کے بعض نتائج پر علمی نقد بھی کیا ہے، خصوصاً بعض تفسیری تطبیقات اور حروفِ مقطعات کی تعبیر کے حوالے سے۔ تاہم اس اختلاف کے باوجود تقریباً تمام سنجیدہ محققین اس بات پر متفق ہیں کہ امام فراہی نے قرآن کے مطالعے میں تدبر، ربطِ آیات اور وحدتِ سورت کے تصور کو غیر معمولی اہمیت دی، جس سے قرآنی علوم کو ایک نئی جہت ملی۔
نظام القرآن” کا سب سے بڑا امتیاز یہی ہے کہ یہ قاری کو صرف معلومات فراہم نہیں کرتی بلکہ اسے غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ یہ کتاب انسان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ہر سورت کو مکمل وحدت کے طور پر پڑھے، آیات کے درمیان تعلق تلاش کرے، الفاظ کے انتخاب میں پوشیدہ حکمت کو سمجھے اور قرآن کے اعجازِ نظم پر حیران ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کا مطالعہ محض معلومات میں اضافہ نہیں کرتا بلکہ قرآن سے ایک زندہ فکری تعلق پیدا کرتا ہے۔آج جب قرآن کے مطالعے میں سطحیت، اقتباسی انداز اور موضوعاتی تقسیم کا رجحان بڑھ رہا ہے، ایسے وقت میں "نظام القرآن” کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ یہ کتاب یاد دلاتی ہے کہ قرآن کو اس کے اصل سیاق، اس کے اندرونی نظم اور اس کی مکمل ساخت کے ساتھ سمجھنا ہی اس کے پیغام کو صحیح طور پر سمجھنے کی بنیاد ہے۔طلبہ، اساتذہ، محققین، خطباء، مفسرین اور عام قارئین، سب کے لئے یہ کتاب یکساں اہمیت رکھتی ہے۔ اگر کوئی شخص قرآن کو محض الگ الگ آیات کی کتاب نہیں بلکہ ایک مربوط، حکیمانہ، منظم اور زندہ کتاب کے طور پر سمجھنا چاہتا ہے تو "نظام القرآن” اس کے لئے ایک لازمی مطالعہ ہے۔ یہ کتاب نہ صرف قرآن فہمی کے نئے دروازے کھولتی ہے بلکہ قاری میں تحقیق، تدبر، علمی دیانت اور فکری گہرائی کا ایسا ذوق پیدا کرتی ہے جو عمر بھر اس کے ساتھ رہتا ہے۔اسی لئے نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود امام حمید الدین فراہی کی یہ شاہکار تصنیف اپنی تازگی، افادیت اور علمی وقعت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ جدید قرآنی مطالعات میں اس کی قدر و منزلت مزید بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر نیا قاری جب اس کتاب کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ قرآن مجید کا بحرِ معانی جتنا وسیع ہے، اتنا ہی گہرا بھی ہے، اور امام فراہی نے اس بحر کی چند ایسی موجوں کی نشان دہی کی ہے جو آج بھی اہلِ علم کو تدبر، تحقیق اور جستجو کی نئی راہوں کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں