
ڈاکٹر جہاں گیر حسن
تاریخِ انسانی میں جتنے بھی انقلابات برپا ہوئے، اُن میں سب سے توانا، ہمہ گیر اور دیرپا انقلاب سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا انقلابِ فکر و عمل ہے۔ سیرتِ طیبہ کا اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے، تو اُس کا ایک بنیادی اور اصل پیغام جو معاشرے کی کایا پلٹ سکتا ہے، وہ ہے: اِنفرادی ذمہ داری اور جواب دہی کا احساس۔ یعنی ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے اور بارگاہِ الٰہی میں اُسے اپنے ہی اعمال کا حساب دینا ہے۔
موجودہ زمانےکا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم بطور معاشرہ اپنی ناکامیوں، کوتاہیوں اور بداخلاقیوںکا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ نظام خراب ہے، حکومت ناکام ہے، ماحول سازگار نہیں ہے۔یہ وہ بہانے ہیں جو ہمیں اپنی انفرادی ذمہ داریوںسے فرار کا راستہ فراہم کرتے ہیں۔ لیکن سیرتِ النبی ﷺ ہمیں اس کے بالکل برعکس درس دیتی ہے۔حضرت اُسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کوئی شخص کسی کے حق میںہرگز بُرا نہ کرے( ابن ماجہ:2180)؛کیوں کہ ہرشخص خود؛اپنے بُرےعمل کا ذمہ دار ہے، نہ باپ کےبُرے عمل کا ذمہ دار بیٹا ہے اور نہ بیٹے کے بُرے عمل کا ذمہ دار باپ ہے۔دوسرے لفظوں میں کہاجائے توہم سے خراب نظام، ناکام حکومت اور ناسازگار حالات کے سلسلے میں نہیں پوچھاجائےگا بلکہ ہم سے ہمارے ذاتی اعمال کے بارے میں پوچھا جائےگا۔ لہٰذا ہماراحسن عمل اگر ہمیں فائدہ دیتاہے تو ہماری بدعملی؛ ہمیں نقصان بھی پہنچاسکتی ہے۔
خودفریبی سے اجتناب:ہم لوگ اکثر؛کثرت اور بھیڑ کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ جب سب جرم کر رہے ہیں تو میرے اکیلے نہ کرنے سے کیا ہوگا؟ یا جب پورا نظام ہی بےایمان ہے تو میں اکیلاایمان دار ہوکر کیا بدل لوں گا؟ یہ وہ فریبِ نفس ہے جومعاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔لہٰذاسیرت النبی ﷺکا اسلوبِ تربیت اِس فکری مغالطے کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کی تحریک وترغیب دیتا ہے۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےواضح طورپر فرمایاہے: لکیر کا فقیر نہ بنوکہ تم یہ کہنے لگوکہ اگر لوگوںنے اچھا کیا تو ہم بھی اچھا کریں گے، اور لوگوںنے ظلم کیا تو ہم بھی ظلم کریں گے، بلکہ تم اپنے آپ سے عہدوپیمان کرو کہ اگرلوگوں نے اچھا کیا تو تم بھی اچھاکروگے اور اگر اُنھوں نے بُرا کیا تو تم ظلم نہیں کرو گے۔ ( ترمذی:2007)پس معاشرتی واخلاقی گراوٹ کاذمہ دار؛ کثرت یا اندھی تقلید کو نہیںٹھہرایا جاسکتا اور طوفان چاہے جتنابھی تیز ہو، چراغ کو اپنی لو برقرار رکھنے کےلئے جنگ خود ہی لڑنی ہے۔
اِحساسِ جواب دہی کی تاکید:سیرت النبی ﷺ کا پیغام دراصل قرآنی اصول کا عملی تسلسل ہے جس میںتاکیدی طورپریہ تنبیہ کیاگیاہےکہ ’’کوئی بوجھ اُٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ (الفاطر:18) اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف وعظ نہیں فرمایا، بلکہ اپنے عمل سے اُس کو ثابت کیا اور اُسے استحکام بھی بخشا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش،بنو عبدمناف ،حضرت عباس اور حضرت صفیہ کے ساتھ اپنی چہیتی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے مخاطب ہو کر فرمایا:اے فاطمہ بنت محمد! میری مالیت میں سے جو چاہو مانگ لو، لیکن اللہ تعالیٰ کے حضور؛ میںتمہارے کچھ کام نہ آسکوں گا۔ (بخاری:4771)جب اہل خاندان اور بالخصوص سیدہ کائنات اور خاتونِ جنت کے لئے انفرادی عمل اور جواب دہی کا یہ معیار ہے، تو اُمت کے عام فرد کے لئے کسی خوش فہمی، محض خاندانی جاہ و جلال، یا زبانی دعووں کے سہارے بیٹھے رہنے کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟
مخزومی خاتون کاواقعہ:تاریخ سیرت؛ بےشمارایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں قانون اور اِنفرادی جواب دہی کے سامنے بڑے بڑے حسب و نسب کو جھکا دیا گیا تھا، مثلاً: قبیلہ بنو مخزوم کی ایک معزز خاتون چوری کے جرم میں پکڑی گئی، تواہل قبیلہ نے ذلت ورسوائی سے بچنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے صحابی حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو سفارش کے لئے بھیجا۔غصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہوگیا، آپ نے فرمایا: تم قانونِ ربانی میں سفارش کرتے ہو؟اس کے بعد جو تاریخی جملہ آپ نےفرمایا وہ قیامت تک کے لئے اِنفرادی جواب دہی کا آفاقی منشور بن گیا،فرماتے ہیں:بےشک تم سے پہلے کی اُمتیں اِسی لئے تباہ ہوگئیں کہ جب اُن میں کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو اُسے چھوڑ دیتے اورغریب چوری کرتا تو اُسے سزا دیتے۔ واللہ! اگر محمد(ﷺ) کی بیٹی فاطمہ چوری کرتی تو میں اُس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔ (بخاری:3475)آج کی معاشرت وسیاست خواہ اِسلامی ہویاغیراِسلامی؛ اِسی طرح کی جانب داری، چھوٹےبڑے، اپنے بیگانے اور قوی ضعیف جیسےامتیازی سلوک کی شکارہے،اس سے نکلنے کا واحدراستہ اِنفرادی جوابدہی کا اِحساس ہےجس کا پیغام سیرت میں واضح طور پر ملتاہے۔
اگر ہم آج کے دور پر نظر ڈالیں، تو اِنفرادی جواب دہی کا نبوی اُصول ہماری روزمرہ زندگی کے ہرچھوٹے بڑے عمل سے جڑا ہواہے،مثلاً:
۱۔جب ایک ملازم یہ سوچ کر رِشوت لینےاور کام چوری سےبچےکہ پورا محکمہ بدعنوانی کرتاہے تو کرے، مجھے اپنی بدعنوانی کا خودجواب دینا ہے، تو وہیں سے نظام بدلتا نظر آئےگا۔ جب ایک دکان دار ناپ تول پورا رکھتاہے، تو وہ اُسی انفرادی جواب دہی کا مظاہرہ کر رہا ہوتا ہے، جس کا مطالبہ سیرت میں کیا گیا ہے۔اُسی طرح ایک مبلغ وعالم بھی جب اپنے فرائض میں ایمان داری اور وفاداری کا مظاہرہ کرتا ہے تو اُس کے پیش نظر بھی وہی جواب دہی ہوتی ہے کہ اُسے دنیوی زندگی کےمختلف مراحل سے گزرناہے اورپھر مختلف منازل طے کرتے ہوئے رب کے حضور بھی حاضر ہونا ہےجہاں اُس سے ایک ایک عمل کا حساب اور جواب طلب کیا جائےگا۔ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص اپنی ذمہ داری کامحافظ اور جواب دہ ہے۔ ( بخاری:5200)
۲۔اُسی طرح جب تک معاشرے میں یہ احساس بیدار نہ ہوگاکہ ’’ہر شخص خود اپنا جواب دہ ہے‘‘، تب تک کوئی قانون، کوئی تعزیراور کوئی اصلاحی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔نیز جب انسان کو یہ یقین ہو جائے کہ اس کے اعمال کا حساب کسی اور کو نہیں بلکہ خوداُسے ہی دینا ہے، تو وہ ڈیوٹی پرتعینات پہریدار یا دیوار میںنصب کیمرے کا محتاج نہیں رہتا، بلکہ خود اُس کا اپنا ضمیر اُس کامحافظ ونگراں بن جاتا ہے۔ اِس طرح وہ کسی بھی معاشرت کو نقصان پہنچانے کا مرتکب نہیں ہوتا اور وہ خودبھی ہر طرح کےنقصان سےمحفوظ و مامون رہتاہے۔حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:نہ خود نقصان اُٹھانا جائزہے اور نہ ہی کسی کو نقصان پہنچانا۔ جس نےکسی کو نقصان پہنچایا، اللہ تعالیٰ اُسے نقصان پہنچائے گااور جس نے کسی کوتکلیف میں ڈالا، اللہ تعالیٰ اُسے مشقت میں ڈالے گا۔(دارِ قطنی:3079)اوربلاشبہ اِس قبیح عمل سے محفوظ رہنے کا بہترین ذریعہ؛ جوابدہی کااحساس ہے۔
۳۔ آج اکثروبیشتر افراد کسی کی پگڑی/عزت اچھالنے،منفی خبریں پھیلانے اور تنقید کا نشانہ بنانے(Trolling) کو معمولی سمجھتے ہیںکہ ’’سبھی کر رہے ہیں تو وہ بھی کررہے ہیں۔‘‘ لیکن اِنفرادی جوابدہی کانبوی اُصول یہ احساس دلاتا ہے کہ سوشل میڈیاپر لکھی کی گئی ہر سطر اور شیئر کی گئی ہر خبر/پوسٹ کا بوجھ اُسی کی گردن پر ہوگاجس نے اُسے شیئر/پوسٹ کیا ہے۔
۴۔ انفرادی جواب دہی کا یہ احساس انسان کو مایوسی کے دلدل سے بھی نکالتاہے۔ جب انسان کو اِحساس ہوجائے کہ اُس سے پوری دنیا کی اصلاح کا سوال نہیں ہوگا، بلکہ صرف اُس کی بساط اور اُس کےدائرۂ اختیار سے متعلق پوچھا جائےگا، تو اُس کاسارا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے اوروہ؛ساری دنیا کو بدلنے کا جوکھم اُٹھانے کے بجائے، اپنے حصے کی شمع جلانے میں مصروف مگن دکھائی دیتاہے ، جو اُس کے لئےانتہائی آسان بھی ہے اور کامیابی کاراز بھی۔
حاصل کلام یہ کہ آج سیرتِ طیبہ کے نام پر جلسے، جلوس اور سیمینارز تو کثرت سے ہوتے ہیں، لیکن معاشرتی واخلاقی بگاڑ جوں کا توں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم دوسروں کے کفر اور گناہوں کے فیصلے کرنے میں جتنے مستعد نظرآتےہیں، اپنے اعمال کی اصلاح وتعمیر میں اُتنے ہی سخت غافل دکھائی دیتےہیںاور یہ احساس جوابدہی سے دوری کا نتیجہ ہے۔چناںچہ اگر ہم واقعی ایک صالح، پُرامن اور فلاحی معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں، تو ہمیں انگلیوں کا رُخ دوسروں کی طرف کرنے کے بجائے اپنی طرف کرنا ہوگا اور اپنےگریبان میں جھانکنا ہوگا۔ ہمیں یہ مروجہ بیانیہ بدلنا ہوگا کہ ’’پہلے دوسرے ٹھیک ہوں تو میں بھی ٹھیک ہوجاؤں گا۔‘‘ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تبدیلی کا آغاز ’’ہم سے‘‘ ہونا ہے۔ جب معاشرے کا ہر فرد اپنی جواب دہی کا مخلصانہ محاسبہ شروع کر دے گا اور یہ جان لے گاکہ قبر کے اندھیرے سے لے کر حشر کے میدان تک اپنے ہر عمل کا تنہا اور خود ذمہ دار ہے، تو وہیں سے اُس حقیقی انقلاب تک رسائی حاصل ہوجائے گی جسے اُسوۂ حسنہ نے ہمارے سامنے عملی طور پر پیش کیا تھا۔


