محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی تقاضے اور ہماری غفلت

 

محمد مسلم کبیر

محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کے دل میں پیدا ہو کر اس کے قول، عمل، کردار اور ترجیحات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جس سے محبت ہو، اس کی بات دل کو عزیز ہوتی ہے، اس کی پسند اپنی پسند پر مقدم آتی ہے اور اس کے نقشِ قدم پر چلنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ پھر اگر محبت کا دعویٰ زبان پر ہو، مگر زندگی کا راستہ اس محبوب کی تعلیمات سے مختلف ہو، تو انسان کو اپنے دعوے کا جائزہ لینا چاہیے۔
حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہر مسلمان کے ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔ قرآنِ مجید نے آپؐ کو صرف ایک قوم یا ایک زمانے کے لئے نہیں، بلکہ تمام جہانوں کے لئے رحمت قرار دیا: "وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ”۔ آپؐ کی حیاتِ مبارکہ عبادت سے لے کر معاملات تک، گھر سے لے کر معاشرے تک، فرد سے لے کر ریاست تک، انسانی زندگی کے ہر پہلو کے لئے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہماری محبتِ رسولؐ صرف جذبات، نعروں، محافل اور الفاظ تک محدود تو نہیں ہوگئی؟
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سنتے ہیں تو عقیدت سے درود پڑھتے ہیں، نعتیں سنتے ہیں، محافل منعقد کرتے ہیں، آپؐ کی شان میں خوبصورت الفاظ بیان کرتے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ محبت کے مظاہر ہیں۔ مگر محبت کا اصل امتحان وہاں شروع ہوتا ہے جہاں ہماری خواہش اور رسولِ اکرمؐ کی تعلیم آمنے سامنے کھڑی ہو۔ کیا ہم وہاں اپنی خواہش کو پیچھے ہٹا کر سنتِ رسولؐ کو اختیار کرتے ہیں؟

قرآن مجید صاف کہتا ہے: "قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ”۔ یعنی اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔ اس آیت میں محبت کا معیار محض دعویٰ نہیں، بلکہ اتباعِ رسولؐ قرار دیا گیا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری غفلت نمایاں ہوتی ہے۔
ہم عبادات کے بعض ظاہری پہلوؤں میں سنت کی تلاش کرتے ہیں، لیکن معاملات میں سنت کو بھول جاتے ہیں۔ نماز کی فکر کرتے ہیں مگر کاروبار میں دیانت کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ درود پڑھتے ہیں مگر زبان سے دوسروں کی عزت مجروح کرتے ہیں۔ نبی کریمؐ کی محبت کے دعوے کرتے ہیں مگر والدین، بیوی، بچوں، پڑوسیوں، ملازمین اور کمزوروں کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی برتتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اخلاق کو دین کی روح بنا کر پیش کیا۔ آپؐ نے صرف عبادات کا طریقہ نہیں سکھایا؛ آپؐ نے انسان بننے کا سلیقہ دیا۔ آپؐ نے بتایا کہ طاقتور وہ نہیں جو دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ حقیقی قوت اپنے غصے پر قابو پانے میں ہے۔ آپؐ نے دشمنوں کے ساتھ بھی عدل کا معاملہ کیا، غلاموں اور کمزوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کیا، یتیموں کے حقوق کی حفاظت کی اور پڑوسیوں کے ساتھ بھلائی کی تاکید فرمائی۔
پھر ہمارا طرزِ عمل کیا ہے؟
معمولی اختلاف پر رشتے توڑ دینا، ذاتی مفاد کے لئے جھوٹ بولنا، کاروبار میں ملاوٹ کرنا، کسی کا حق روک لینا، غیبت کو گفتگو کا حصہ بنا لینا، سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق الزام پھیلا دینا، کمزور انسان کو حقیر سمجھنا—یہ سب اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم اپنے دعوائے محبت پر سنجیدگی سے غور کریں۔

محبتِ رسولؐ کا ایک بڑا تقاضا سچائی ہے۔ نبی کریمؐ نبوت سے پہلے بھی "الصادق” اور "الامین” کے لقب سے معروف تھے۔ آپؐ کی زندگی میں صداقت کوئی وقتی اخلاقی خوبی نہیں تھی؛ یہ شخصیت کا لازمی حصہ تھی۔ آج اگر ایک مسلمان اپنی تجارت، ملازمت، سیاست، صحافت یا روزمرہ زندگی میں سچائی کو ترجیح دیتا ہے تو وہ دراصل سنتِ نبویؐ کی عملی پیروی کرتا ہے۔
اسی طرح محبتِ رسولؐ کا تقاضا عدل ہے۔ اپنے آدمی کے لئے الگ معیار اور مخالف کے لئے الگ معیار، اسلام کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں۔ قرآن کا حکم ہے کہ کسی قوم کی دشمنی بھی انسان کو انصاف سے نہ ہٹائے۔ رسول اللہؐ نے عدل کو اپنی زندگی میں اس طرح نافذ کیا کہ قانون اور حق کے سامنے کسی شخص کی ذات، خاندان یا حیثیت رکاوٹ نہ بن سکی۔
محبت کا تقاضا رحمت بھی ہے۔ رسول اللہؐ کی سیرت میں رحمت ایک مرکزی وصف ہے۔ بچوں سے شفقت، بزرگوں کا احترام، عورتوں کے حقوق کی پاسداری، محتاجوں کی خبرگیری، بیماروں کی عیادت، یتیموں سے حسنِ سلوک اور جانوروں تک کے ساتھ نرمی—یہ سب اسی رحمت کے مظاہر ہیں۔
افسوس یہ ہے کہ ہم نے کبھی کبھی دین کو صرف اپنی ذات تک محدود کر لیا ہے۔ عبادت گاہ میں ہمارا رویہ کچھ اور ہوتا ہے اور بازار میں کچھ اور۔ مذہبی گفتگو میں ہم محبتِ رسولؐ کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، مگر گھر کے اندر ہماری زبان، رویہ اور معاملات اس دعوے کی گواہی نہیں دیتے۔ حالاں کہ رسول اللہؐ نے بہترین انسان ہونے کا تعلق اچھے اخلاق سے جوڑا اور اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک کو انسان کی فضیلت کا اہم معیار بنایا۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ محبتِ رسولؐ کا مطلب صرف جذباتی وابستگی نہیں؛ یہ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ اگر ہم واقعی آپؐ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اپنی زندگی میں ایک ایک کر کے ان اوصاف کو جگہ دینا ہوگی جنہیں آپؐ پسند فرماتے تھے۔ زبان کو سچ کا عادی بنانا ہوگا۔ دل کو کینہ سے پاک کرنا ہوگا۔ رزق کو حلال رکھنا ہوگا۔ وعدہ پورا کرنا ہوگا۔ امانت میں خیانت سے بچنا ہوگا۔ اختلاف کے باوجود تہذیب اور انصاف کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا ہوگا۔
آج کے دور میں محبتِ رسولؐ کا ایک اہم عملی تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم آپؐ کی تعلیمات کو سماجی زندگی کی اصلاح کا ذریعہ بنائیں۔ نفرت کے ماحول میں محبت، جھوٹ کے ہجوم میں صداقت، ناانصافی کے مقابلے میں عدل، انتقام کے بجائے عفو و درگزر اور خود غرضی کے مقابلے میں ایثار کو اختیار کرنا ہی سیرتِ نبویؐ سے حقیقی وابستگی ہے۔

ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے صرف ایک مقدس نام ہیں یا ہماری زندگی کا عملی نمونہ بھی۔
محبت کا سب سے خوبصورت ثبوت یہ نہیں کہ ہم محبت کے بارے میں کتنا بولتے ہیں؛ اصل ثبوت یہ ہے کہ ہماری زندگی ہمیں دیکھنے والوں کو رسول اللہؐ کی تعلیمات کی یاد دلاتی ہے یا نہیں۔ ہمارے اخلاق، ہمارے معاملات، ہماری گفتگو اور ہمارے رویے میں اگر سیرتِ مصطفیٰؐ کی خوشبو محسوس ہونے لگے تو یہی محبت کا حقیقی ثمر ہے۔
آج ضرورت کسی نئے نعرے کی نہیں، اپنے اندر ایک نئے عہد کی ہے۔ ہم درود بھی پڑھیں، نعت بھی سنیں، سیرت بھی بیان کریں؛ لیکن اس کے ساتھ اپنے کردار کو بھی سیرتِ رسولؐ کا آئینہ بنائیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی تقاضے اور ہماری غفلت

 

محمد مسلم کبیر

محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کے دل میں پیدا ہو کر اس کے قول، عمل، کردار اور ترجیحات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جس سے محبت ہو، اس کی بات دل کو عزیز ہوتی ہے، اس کی پسند اپنی پسند پر مقدم آتی ہے اور اس کے نقشِ قدم پر چلنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ پھر اگر محبت کا دعویٰ زبان پر ہو، مگر زندگی کا راستہ اس محبوب کی تعلیمات سے مختلف ہو، تو انسان کو اپنے دعوے کا جائزہ لینا چاہیے۔
حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہر مسلمان کے ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔ قرآنِ مجید نے آپؐ کو صرف ایک قوم یا ایک زمانے کے لئے نہیں، بلکہ تمام جہانوں کے لئے رحمت قرار دیا: "وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ”۔ آپؐ کی حیاتِ مبارکہ عبادت سے لے کر معاملات تک، گھر سے لے کر معاشرے تک، فرد سے لے کر ریاست تک، انسانی زندگی کے ہر پہلو کے لئے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہماری محبتِ رسولؐ صرف جذبات، نعروں، محافل اور الفاظ تک محدود تو نہیں ہوگئی؟
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سنتے ہیں تو عقیدت سے درود پڑھتے ہیں، نعتیں سنتے ہیں، محافل منعقد کرتے ہیں، آپؐ کی شان میں خوبصورت الفاظ بیان کرتے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ محبت کے مظاہر ہیں۔ مگر محبت کا اصل امتحان وہاں شروع ہوتا ہے جہاں ہماری خواہش اور رسولِ اکرمؐ کی تعلیم آمنے سامنے کھڑی ہو۔ کیا ہم وہاں اپنی خواہش کو پیچھے ہٹا کر سنتِ رسولؐ کو اختیار کرتے ہیں؟

قرآن مجید صاف کہتا ہے: "قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ”۔ یعنی اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔ اس آیت میں محبت کا معیار محض دعویٰ نہیں، بلکہ اتباعِ رسولؐ قرار دیا گیا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری غفلت نمایاں ہوتی ہے۔
ہم عبادات کے بعض ظاہری پہلوؤں میں سنت کی تلاش کرتے ہیں، لیکن معاملات میں سنت کو بھول جاتے ہیں۔ نماز کی فکر کرتے ہیں مگر کاروبار میں دیانت کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ درود پڑھتے ہیں مگر زبان سے دوسروں کی عزت مجروح کرتے ہیں۔ نبی کریمؐ کی محبت کے دعوے کرتے ہیں مگر والدین، بیوی، بچوں، پڑوسیوں، ملازمین اور کمزوروں کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی برتتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اخلاق کو دین کی روح بنا کر پیش کیا۔ آپؐ نے صرف عبادات کا طریقہ نہیں سکھایا؛ آپؐ نے انسان بننے کا سلیقہ دیا۔ آپؐ نے بتایا کہ طاقتور وہ نہیں جو دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ حقیقی قوت اپنے غصے پر قابو پانے میں ہے۔ آپؐ نے دشمنوں کے ساتھ بھی عدل کا معاملہ کیا، غلاموں اور کمزوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کیا، یتیموں کے حقوق کی حفاظت کی اور پڑوسیوں کے ساتھ بھلائی کی تاکید فرمائی۔
پھر ہمارا طرزِ عمل کیا ہے؟
معمولی اختلاف پر رشتے توڑ دینا، ذاتی مفاد کے لئے جھوٹ بولنا، کاروبار میں ملاوٹ کرنا، کسی کا حق روک لینا، غیبت کو گفتگو کا حصہ بنا لینا، سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق الزام پھیلا دینا، کمزور انسان کو حقیر سمجھنا—یہ سب اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم اپنے دعوائے محبت پر سنجیدگی سے غور کریں۔

محبتِ رسولؐ کا ایک بڑا تقاضا سچائی ہے۔ نبی کریمؐ نبوت سے پہلے بھی "الصادق” اور "الامین” کے لقب سے معروف تھے۔ آپؐ کی زندگی میں صداقت کوئی وقتی اخلاقی خوبی نہیں تھی؛ یہ شخصیت کا لازمی حصہ تھی۔ آج اگر ایک مسلمان اپنی تجارت، ملازمت، سیاست، صحافت یا روزمرہ زندگی میں سچائی کو ترجیح دیتا ہے تو وہ دراصل سنتِ نبویؐ کی عملی پیروی کرتا ہے۔
اسی طرح محبتِ رسولؐ کا تقاضا عدل ہے۔ اپنے آدمی کے لئے الگ معیار اور مخالف کے لئے الگ معیار، اسلام کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں۔ قرآن کا حکم ہے کہ کسی قوم کی دشمنی بھی انسان کو انصاف سے نہ ہٹائے۔ رسول اللہؐ نے عدل کو اپنی زندگی میں اس طرح نافذ کیا کہ قانون اور حق کے سامنے کسی شخص کی ذات، خاندان یا حیثیت رکاوٹ نہ بن سکی۔
محبت کا تقاضا رحمت بھی ہے۔ رسول اللہؐ کی سیرت میں رحمت ایک مرکزی وصف ہے۔ بچوں سے شفقت، بزرگوں کا احترام، عورتوں کے حقوق کی پاسداری، محتاجوں کی خبرگیری، بیماروں کی عیادت، یتیموں سے حسنِ سلوک اور جانوروں تک کے ساتھ نرمی—یہ سب اسی رحمت کے مظاہر ہیں۔
افسوس یہ ہے کہ ہم نے کبھی کبھی دین کو صرف اپنی ذات تک محدود کر لیا ہے۔ عبادت گاہ میں ہمارا رویہ کچھ اور ہوتا ہے اور بازار میں کچھ اور۔ مذہبی گفتگو میں ہم محبتِ رسولؐ کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، مگر گھر کے اندر ہماری زبان، رویہ اور معاملات اس دعوے کی گواہی نہیں دیتے۔ حالاں کہ رسول اللہؐ نے بہترین انسان ہونے کا تعلق اچھے اخلاق سے جوڑا اور اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک کو انسان کی فضیلت کا اہم معیار بنایا۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ محبتِ رسولؐ کا مطلب صرف جذباتی وابستگی نہیں؛ یہ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ اگر ہم واقعی آپؐ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اپنی زندگی میں ایک ایک کر کے ان اوصاف کو جگہ دینا ہوگی جنہیں آپؐ پسند فرماتے تھے۔ زبان کو سچ کا عادی بنانا ہوگا۔ دل کو کینہ سے پاک کرنا ہوگا۔ رزق کو حلال رکھنا ہوگا۔ وعدہ پورا کرنا ہوگا۔ امانت میں خیانت سے بچنا ہوگا۔ اختلاف کے باوجود تہذیب اور انصاف کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا ہوگا۔
آج کے دور میں محبتِ رسولؐ کا ایک اہم عملی تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم آپؐ کی تعلیمات کو سماجی زندگی کی اصلاح کا ذریعہ بنائیں۔ نفرت کے ماحول میں محبت، جھوٹ کے ہجوم میں صداقت، ناانصافی کے مقابلے میں عدل، انتقام کے بجائے عفو و درگزر اور خود غرضی کے مقابلے میں ایثار کو اختیار کرنا ہی سیرتِ نبویؐ سے حقیقی وابستگی ہے۔

ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے صرف ایک مقدس نام ہیں یا ہماری زندگی کا عملی نمونہ بھی۔
محبت کا سب سے خوبصورت ثبوت یہ نہیں کہ ہم محبت کے بارے میں کتنا بولتے ہیں؛ اصل ثبوت یہ ہے کہ ہماری زندگی ہمیں دیکھنے والوں کو رسول اللہؐ کی تعلیمات کی یاد دلاتی ہے یا نہیں۔ ہمارے اخلاق، ہمارے معاملات، ہماری گفتگو اور ہمارے رویے میں اگر سیرتِ مصطفیٰؐ کی خوشبو محسوس ہونے لگے تو یہی محبت کا حقیقی ثمر ہے۔
آج ضرورت کسی نئے نعرے کی نہیں، اپنے اندر ایک نئے عہد کی ہے۔ ہم درود بھی پڑھیں، نعت بھی سنیں، سیرت بھی بیان کریں؛ لیکن اس کے ساتھ اپنے کردار کو بھی سیرتِ رسولؐ کا آئینہ بنائیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں