کیا ہندوستانی سیاست لفظوں کے جال میں الجھ رہی ہے؟

ایڈوکیٹ کشن سنمکھ داس بھوانی

ہندوستانی لوک دانش میں زبان اور لفظ کی طاقت کو ہمیشہ غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ ایک لفظ عزت افزا بھی ہو سکتا ہے، دل آزاری کا سبب بھی، اور بعض اوقات وہی لفظ پورے سیاسی ماحول کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل اور تیز رفتار سیاسی دور میں لفظ صرف بولا نہیں جاتا، بلکہ اس کی تشریح ہوتی ہے، اسے تراشا جاتا ہے، اس پر میمز بنتے ہیں، ہیش ٹیگز چلتے ہیں اور پھر کبھی کبھی وہی لفظ ایک نئی سیاسی شناخت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
اسی تناظر میں لال قلعہ کی فصیل سے ادا ہونے والے ایک سیاسی فقرے نے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا سیاست اب نظریات سے زیادہ الفاظ کی تعبیرات کی جنگ بنتی جا رہی ہے؟
وزیر اعظم کے یومِ آزادی کے خطاب میں نکسل ازم کے خلاف حکومت کی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے استعمال ہونے والی اصطلاح ’’اربن نکسل‘‘ یا اس سے ملتی جلتی نظریاتی تعبیر نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ حکومت اور اس کے حامیوں نے اس اصطلاح کو ان عناصر کے لئے استعمال ہونے والی سیاسی تعبیر قرار دیا جو براہِ راست ہتھیار نہ اٹھانے کے باوجود پرتشدد ماؤ نواز نظریات یا ایسی سرگرمیوں کے لئے فکری، سماجی یا نظریاتی ماحول فراہم کرتے ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن اور ناقدین نے سوال اٹھایا کہ اس اصطلاح کی سرحد کہاں ختم ہوتی ہے؟ کیا حکومت پر تنقید کرنے والا ہر شخص، پالیسیوں سے اختلاف رکھنے والا ہر دانشور یا سیاسی مخالف بھی اسی دائرے میں شامل کر دیا جائے گا؟
یہیں سے اصل تنازع شروع ہوتا ہے۔
لفظ جب سیاسی ہتھیار بن جائے
’’اربن نکسل‘‘ کوئی آئینی اصطلاح نہیں، نہ ہی یہ کسی باقاعدہ قانونی تعریف کے تحت قائم زمرہ ہے۔ یہ بنیادی طور پر ایک سیاسی اور نظریاتی اصطلاح ہے، جس کے معنی بولنے والے کے سیاق، مقصد اور سیاسی موقف کے مطابق تبدیل ہو سکتے ہیں۔
حکومت کے حامیوں کا موقف ہے کہ مسلح نکسل ازم صرف جنگلات یا دور دراز علاقوں تک محدود مسئلہ نہیں۔ ان کے مطابق بعض حلقے شہروں، جامعات، دانشورانہ فورمز اور سماجی پلیٹ فارمز کے ذریعے ایسی فکر کو نظریاتی جواز فراہم کرتے ہیں، جس کا آخری اظہار تشدد کی صورت میں ہو سکتا ہے۔
مگر اپوزیشن کا بنیادی سوال مختلف ہے: کیا نظریاتی اختلاف اور تشدد کی حمایت کو ایک ہی ترازو میں تولا جا سکتا ہے؟
یہ سوال محض سیاسی نہیں بلکہ جمہوری ہے۔ کیونکہ جمہوریت میں حکومت پر تنقید، پالیسیوں کو عدالت میں چیلنج کرنا، پارلیمنٹ میں احتجاج کرنا، پرامن تحریک چلانا اور متبادل سیاسی نظریات پیش کرنا شہری آزادیوں کا حصہ ہیں۔ دوسری طرف کسی مسلح تنظیم یا تشدد پر مبنی تحریک کی عملی یا دانستہ حمایت ایک بالکل مختلف معاملہ ہے۔
یہی وہ باریک مگر بنیادی لکیر ہے جسے دھندلا کرنے سے سیاسی بحث جذباتی تو ہو سکتی ہے، مگر صحت مند نہیں۔
اپوزیشن کا جوابی وار: جب الزام شناخت میں بدل جائے
سیاسی تاریخ میں یہ کوئی نئی حکمت عملی نہیں کہ مخالف کی طرف سے استعمال کیا جانے والا طنزیہ یا تحقیر آمیز لفظ خود اس کے خلاف ہتھیار بنا لیا جائے۔ کئی سیاسی تحریکوں نے ایسے الفاظ کو، جو ابتدا میں بدنام کرنے کے لئے استعمال کیے گئے تھے، بعد میں مزاحمت اور شناخت کی علامت بنا دیا۔
اسی لئے جب اپوزیشن کے بعض رہنماؤں نے اس اصطلاح کو طنزیہ انداز میں قبول کرنے یا اسے الٹ کر حکومت کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی تو معاملہ صرف دفاع تک محدود نہ رہا۔ اب بحث یہ نہیں رہی کہ ’’اربن نکسل کون ہے؟‘‘ بلکہ سوال یہ بن گیا کہ ’’کیا کسی سیاسی اصطلاح کا مالک صرف وہی رہتا ہے جس نے اسے پہلی مرتبہ استعمال کیا ہو؟‘‘
سیاست کا جواب اکثر نفی میں ہوتا ہے۔
ایک بار کوئی لفظ عوامی میدان میں آ جائے تو اس کی تعبیر پر بولنے والے کا مکمل اختیار ختم ہو جاتا ہے۔ مخالف اسے طنز میں بدل سکتا ہے، عوام اسے مذاق بنا سکتے ہیں اور سوشل میڈیا اسے ایک مکمل سیاسی برانڈ میں تبدیل کر سکتا ہے۔
’’اربن نکسل پارٹی‘‘: سیاست یا ڈیجیٹل طنز؟
یہ تنازع اس وقت مزید دلچسپ ہو جاتا ہے جب سیاسی اصطلاحات سوشل میڈیا پر نئی شناختوں کی شکل اختیار کرنے لگتی ہیں۔ ’’اربن نکسل پارٹی‘‘ جیسی تعبیر، اگر طنزیہ یا پیروڈی کے طور پر استعمال ہو، تو اسے کسی تسلیم شدہ سیاسی جماعت کے برابر نہیں رکھا جا سکتا۔ تاہم اس کا سیاسی اور سماجی مفہوم نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔
ڈیجیٹل دور کی سیاست میں ایک میم بعض اوقات ایک تقریر سے زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔
آج ایک لفظ ٹی وی کی بحث سے نکل کر چند گھنٹوں میں انسٹاگرام ریل، ایکس کے ہیش ٹیگ، یوٹیوب کلپس اور واٹس ایپ گروپس تک پہنچ جاتا ہے۔ وہاں اس لفظ کی نئی نئی تشریحات پیدا ہوتی ہیں۔ کوئی اسے حکومت کے حق میں استعمال کرتا ہے، کوئی طنز کے طور پر، کوئی مزاح کے لئے اور کوئی سیاسی مزاحمت کے نشان کے طور پر۔
یہی وجہ ہے کہ سیاسی زبان اب صرف رہنماؤں کے اختیار میں نہیں رہی۔ سوشل میڈیا نے الفاظ کی ملکیت عوام کے ہاتھ میں دے دی ہے۔
حکومت کا سوال بھی اہم ہے
اس بحث کا دوسرا رخ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہندوستان نے کئی دہائیوں تک نکسل اور ماؤ نواز تشدد کا سامنا کیا ہے۔ سیکورٹی فورسز، ریاستی اداروں اور حکومتوں نے اس چیلنج کے خلاف طویل کارروائیاں کی ہیں۔ اگر کوئی فرد یا گروہ واقعی تشدد پر مبنی ماؤ نواز نظریات، ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد یا دہشت اور تشدد کو سیاسی ہتھیار کے طور پر جائز قرار دیتا ہے، تو اس نظریے پر سوال اٹھانا اور اس کی مخالفت کرنا جمہوری بحث کا حصہ ہے۔
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس کی شناخت کا معیار کیا ہوگا؟
کیا محض حکومت سے اختلاف کافی ہے؟
کیا کسی پالیسی پر سخت تنقید کرنا اس زمرے میں آنے کے لئے کافی ہے؟
کیا صحافت، انسانی حقوق، سماجی تحریک یا عدالتی جدوجہد کو بھی سیاسی لیبلنگ کے ذریعے مشکوک بنایا جا سکتا ہے؟
اگر ان سوالات کے جواب واضح نہیں ہوں گے تو ایک اصطلاح، جو کسی مخصوص نظریاتی خطرے کی نشاندہی کے لئے استعمال کی گئی ہو، رفتہ رفتہ اتنی وسیع ہو سکتی ہے کہ اس کا اپنا سیاسی مفہوم کمزور پڑ جائے۔
لال قلعہ کی زبان اور اس کی ذمہ داری
اپوزیشن کا یہ اعتراض بھی قابلِ غور ہے کہ لال قلعہ سے ادا ہونے والے الفاظ عام سیاسی جلسوں کے الفاظ نہیں ہوتے۔ یومِ آزادی کا خطاب ایک قومی موقع ہوتا ہے اور اس کے الفاظ کی بازگشت پورے ملک میں سنائی دیتی ہے۔
اسی لئے سیاسی زبان کے انتخاب میں ذمہ داری اور احتیاط کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
لفظوں کی طاقت صرف ان کے لغوی معنی میں نہیں بلکہ ان کے ممکنہ نتائج میں بھی ہوتی ہے۔ ایک سیاسی جلسے میں استعمال ہونے والا جملہ اگلے دن کی سرخی بن سکتا ہے، مگر لال قلعہ سے ادا کیا گیا ایک لفظ طویل المدت سیاسی بیانیے کا حصہ بن سکتا ہے۔
یہاں ہندوستانی دانش کا ایک قدیم اصول یاد آتا ہے: زبان انسان کے اختیار میں ہوتی ہے، مگر زبان سے نکل جانے والا لفظ پھر انسان کے اختیار میں نہیں رہتا۔
سیاست کی نئی حقیقت: فریم کون بنائے گا؟
اس پورے تنازع کا سب سے دلچسپ پہلو ’’سیاسی فریمنگ‘‘ ہے۔ سیاست میں اکثر وہی کامیاب ہوتا ہے جو بحث کا موضوع طے کر دے۔
اگر حکومت کسی اصطلاح کے ذریعے یہ فریم قائم کرتی ہے کہ ملک کا اصل نظریاتی خطرہ صرف بندوق اٹھانے والے عناصر نہیں بلکہ ان کے فکری حامی بھی ہیں، تو اپوزیشن کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں: یا تو وہ اس فریم کو قبول کرے اور اپنے دفاع میں دلیل دے، یا پھر اسی اصطلاح کو الٹ کر حکومت کے خلاف استعمال کرے۔
جب اپوزیشن کسی سیاسی الزام کو طنز یا فخر کے ساتھ واپس کرتی ہے تو وہ دراصل اصل فریم کو چیلنج کر رہی ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج ہندوستانی سیاست میں الفاظ صرف زبان کا حصہ نہیں رہے، بلکہ سیاسی حکمت عملی کا بنیادی ہتھیار بن چکے ہیں۔
اختلاف اور دشمنی میں فرق ضروری ہے
جمہوریت کی اصل طاقت اس بات میں ہے کہ وہ اختلاف کو برداشت کرتی ہے۔ حکومت کی مخالفت ریاست کی مخالفت نہیں ہوتی، اور ریاست کی مخالفت لازماً تشدد کی حمایت بھی نہیں ہوتی۔
اسی طرح ہر اختلاف رائے کو ’’ملک دشمنی‘‘، ’’انتہا پسندی‘‘ یا ’’نکسل ذہنیت‘‘ کے کسی وسیع خانے میں ڈال دینا سیاسی طور پر آسان ضرور ہو سکتا ہے، مگر جمہوری طور پر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب یہ بھی درست ہے کہ آزادیِ اظہار کو تشدد کی نظریاتی یا عملی حمایت کے لئے ڈھال نہیں بنایا جا سکتا۔
لہٰذا اصل چیلنج دونوں انتہاؤں سے بچنا ہے۔
اختلاف کو جرم نہ بنایا جائے، لیکن تشدد کو اختلاف کے نام پر جائز بھی قرار نہ دیا جائے۔
یہی جمہوری توازن اس بحث کی اصل ضرورت ہے۔
ایک لفظ، لاکھوں سمتیں
لال قلعہ سے شروع ہونے والا ایک لفظ اب سیاسی جلسوں، پریس کانفرنسوں، ٹی وی مباحثوں اور سوشل میڈیا کے میدان میں اپنی الگ الگ زندگیاں گزار رہا ہے۔ کسی کے لئے یہ قومی سلامتی سے متعلق ایک سنجیدہ نظریاتی انتباہ ہے، کسی کے لئے سیاسی لیبلنگ، اور کسی کے لئے حکومت کے خلاف طنزیہ ہتھیار۔
شاید یہی جدید سیاست کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ اب کوئی سیاسی لفظ صرف ایک معنی میں زندہ نہیں رہتا۔
وہ بولا جاتا ہے۔
پھر دہرایا جاتا ہے۔
پھر اس کی تشریح ہوتی ہے۔
پھر اسے کاٹا چھانٹا جاتا ہے۔
پھر وہ میم بنتا ہے۔
اور بعض اوقات وہی لفظ ایک سیاسی تحریک یا شناخت کا عنوان بن جاتا ہے۔
نتیجہ: زبان کی سیاست یا سیاست کی زبان؟
’’اربن نکسل‘‘ سے ’’اربن نکسل پارٹی‘‘ تک کے اس سفر نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ اصل جنگ شاید صرف نکسل ازم یا اپوزیشن کے درمیان نہیں، بلکہ سیاسی زبان کے اختیار کی جنگ بھی ہے۔
حکومت کے لئے سبق یہ ہے کہ سیاسی اصطلاحات کو اتنا وسیع نہ بنایا جائے کہ ہر ناقد اس کے دائرے میں آ جائے۔ اور اپوزیشن کے لئے سبق یہ ہے کہ قومی سلامتی جیسے حساس موضوعات کو محض سیاسی طنز کی نذر کرنے سے بھی گریز ضروری ہے۔
آخرکار جمہوریت کی طاقت یہی ہے کہ وہ سوال کرنے والے کو دشمن اور اختلاف رکھنے والے کو باغی قرار دینے سے پہلے دلیل کا راستہ اختیار کرے۔
سیاست میں بندوق سے چلنے والی گولی شاید ایک سمت میں جاتی ہے، مگر زبان سے نکلنے والا لفظ لاکھوں سمتوں میں سفر کرتا ہے۔
اور سوشل میڈیا کے اس دور میں ایک لفظ صرف سنا نہیں جاتا
وہ شیئر ہوتا ہے، وائرل ہوتا ہے، میم بنتا ہے، سیاسی ہتھیار بنتا ہے، اور بعض اوقات اقتدار کے سامنے ایک آئینہ بھی رکھ دیتا ہے۔
اسی لئے سیاست میں الفاظ کا انتخاب محض بیان بازی نہیں، بلکہ ذمہ داری بھی ہے۔ کیونکہ بعض اوقات ایک لفظ واقعی سو سوال پیدا کر دیتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

17 سالہ لڑکا ٹرک کی زد میں آ کر جاں بحق

سرینگر: وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں چڈورہ کے...

ہسپتال میں نوجوان کی موت پر احتجاج، آپریشن تھیٹر سیل

​اسلام آباد (اننت ناگ)، 30 اگست کولگام سے تعلق رکھنے...

امریکی حملے کے بعد IRGC کا اردن میں امریکی اڈوں پر جوابی حملہ

  ایران کے اسلامک ریولیوشنری گارڈ کور (IRGC) کا کہنا...

ایف ڈی اے جموں و کشمیر نے نباتاتی چربی کی ملاوٹ پر گھی کے 10 بیچز پر پابندی عائد کر دی

  سرینگر، 30 اگست: فوڈ اینڈ ڈرگز ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے)...

چوری کیس میں تین افراد گرفتار، مسروقہ سونا برآمد

سرینگر: پولیس نے بارہمولہ میں ایک مکان سے ہونے والی...

تازہ ترین خبریں

17 سالہ لڑکا ٹرک کی زد میں آ کر جاں بحق

سرینگر: وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں چڈورہ کے...

ہسپتال میں نوجوان کی موت پر احتجاج، آپریشن تھیٹر سیل

​اسلام آباد (اننت ناگ)، 30 اگست کولگام سے تعلق رکھنے...

امریکی حملے کے بعد IRGC کا اردن میں امریکی اڈوں پر جوابی حملہ

  ایران کے اسلامک ریولیوشنری گارڈ کور (IRGC) کا کہنا...

ایف ڈی اے جموں و کشمیر نے نباتاتی چربی کی ملاوٹ پر گھی کے 10 بیچز پر پابندی عائد کر دی

  سرینگر، 30 اگست: فوڈ اینڈ ڈرگز ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے)...

چوری کیس میں تین افراد گرفتار، مسروقہ سونا برآمد

سرینگر: پولیس نے بارہمولہ میں ایک مکان سے ہونے والی...

کیا ہندوستانی سیاست لفظوں کے جال میں الجھ رہی ہے؟

ایڈوکیٹ کشن سنمکھ داس بھوانی

ہندوستانی لوک دانش میں زبان اور لفظ کی طاقت کو ہمیشہ غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ ایک لفظ عزت افزا بھی ہو سکتا ہے، دل آزاری کا سبب بھی، اور بعض اوقات وہی لفظ پورے سیاسی ماحول کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل اور تیز رفتار سیاسی دور میں لفظ صرف بولا نہیں جاتا، بلکہ اس کی تشریح ہوتی ہے، اسے تراشا جاتا ہے، اس پر میمز بنتے ہیں، ہیش ٹیگز چلتے ہیں اور پھر کبھی کبھی وہی لفظ ایک نئی سیاسی شناخت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
اسی تناظر میں لال قلعہ کی فصیل سے ادا ہونے والے ایک سیاسی فقرے نے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا سیاست اب نظریات سے زیادہ الفاظ کی تعبیرات کی جنگ بنتی جا رہی ہے؟
وزیر اعظم کے یومِ آزادی کے خطاب میں نکسل ازم کے خلاف حکومت کی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے استعمال ہونے والی اصطلاح ’’اربن نکسل‘‘ یا اس سے ملتی جلتی نظریاتی تعبیر نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ حکومت اور اس کے حامیوں نے اس اصطلاح کو ان عناصر کے لئے استعمال ہونے والی سیاسی تعبیر قرار دیا جو براہِ راست ہتھیار نہ اٹھانے کے باوجود پرتشدد ماؤ نواز نظریات یا ایسی سرگرمیوں کے لئے فکری، سماجی یا نظریاتی ماحول فراہم کرتے ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن اور ناقدین نے سوال اٹھایا کہ اس اصطلاح کی سرحد کہاں ختم ہوتی ہے؟ کیا حکومت پر تنقید کرنے والا ہر شخص، پالیسیوں سے اختلاف رکھنے والا ہر دانشور یا سیاسی مخالف بھی اسی دائرے میں شامل کر دیا جائے گا؟
یہیں سے اصل تنازع شروع ہوتا ہے۔
لفظ جب سیاسی ہتھیار بن جائے
’’اربن نکسل‘‘ کوئی آئینی اصطلاح نہیں، نہ ہی یہ کسی باقاعدہ قانونی تعریف کے تحت قائم زمرہ ہے۔ یہ بنیادی طور پر ایک سیاسی اور نظریاتی اصطلاح ہے، جس کے معنی بولنے والے کے سیاق، مقصد اور سیاسی موقف کے مطابق تبدیل ہو سکتے ہیں۔
حکومت کے حامیوں کا موقف ہے کہ مسلح نکسل ازم صرف جنگلات یا دور دراز علاقوں تک محدود مسئلہ نہیں۔ ان کے مطابق بعض حلقے شہروں، جامعات، دانشورانہ فورمز اور سماجی پلیٹ فارمز کے ذریعے ایسی فکر کو نظریاتی جواز فراہم کرتے ہیں، جس کا آخری اظہار تشدد کی صورت میں ہو سکتا ہے۔
مگر اپوزیشن کا بنیادی سوال مختلف ہے: کیا نظریاتی اختلاف اور تشدد کی حمایت کو ایک ہی ترازو میں تولا جا سکتا ہے؟
یہ سوال محض سیاسی نہیں بلکہ جمہوری ہے۔ کیونکہ جمہوریت میں حکومت پر تنقید، پالیسیوں کو عدالت میں چیلنج کرنا، پارلیمنٹ میں احتجاج کرنا، پرامن تحریک چلانا اور متبادل سیاسی نظریات پیش کرنا شہری آزادیوں کا حصہ ہیں۔ دوسری طرف کسی مسلح تنظیم یا تشدد پر مبنی تحریک کی عملی یا دانستہ حمایت ایک بالکل مختلف معاملہ ہے۔
یہی وہ باریک مگر بنیادی لکیر ہے جسے دھندلا کرنے سے سیاسی بحث جذباتی تو ہو سکتی ہے، مگر صحت مند نہیں۔
اپوزیشن کا جوابی وار: جب الزام شناخت میں بدل جائے
سیاسی تاریخ میں یہ کوئی نئی حکمت عملی نہیں کہ مخالف کی طرف سے استعمال کیا جانے والا طنزیہ یا تحقیر آمیز لفظ خود اس کے خلاف ہتھیار بنا لیا جائے۔ کئی سیاسی تحریکوں نے ایسے الفاظ کو، جو ابتدا میں بدنام کرنے کے لئے استعمال کیے گئے تھے، بعد میں مزاحمت اور شناخت کی علامت بنا دیا۔
اسی لئے جب اپوزیشن کے بعض رہنماؤں نے اس اصطلاح کو طنزیہ انداز میں قبول کرنے یا اسے الٹ کر حکومت کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی تو معاملہ صرف دفاع تک محدود نہ رہا۔ اب بحث یہ نہیں رہی کہ ’’اربن نکسل کون ہے؟‘‘ بلکہ سوال یہ بن گیا کہ ’’کیا کسی سیاسی اصطلاح کا مالک صرف وہی رہتا ہے جس نے اسے پہلی مرتبہ استعمال کیا ہو؟‘‘
سیاست کا جواب اکثر نفی میں ہوتا ہے۔
ایک بار کوئی لفظ عوامی میدان میں آ جائے تو اس کی تعبیر پر بولنے والے کا مکمل اختیار ختم ہو جاتا ہے۔ مخالف اسے طنز میں بدل سکتا ہے، عوام اسے مذاق بنا سکتے ہیں اور سوشل میڈیا اسے ایک مکمل سیاسی برانڈ میں تبدیل کر سکتا ہے۔
’’اربن نکسل پارٹی‘‘: سیاست یا ڈیجیٹل طنز؟
یہ تنازع اس وقت مزید دلچسپ ہو جاتا ہے جب سیاسی اصطلاحات سوشل میڈیا پر نئی شناختوں کی شکل اختیار کرنے لگتی ہیں۔ ’’اربن نکسل پارٹی‘‘ جیسی تعبیر، اگر طنزیہ یا پیروڈی کے طور پر استعمال ہو، تو اسے کسی تسلیم شدہ سیاسی جماعت کے برابر نہیں رکھا جا سکتا۔ تاہم اس کا سیاسی اور سماجی مفہوم نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔
ڈیجیٹل دور کی سیاست میں ایک میم بعض اوقات ایک تقریر سے زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔
آج ایک لفظ ٹی وی کی بحث سے نکل کر چند گھنٹوں میں انسٹاگرام ریل، ایکس کے ہیش ٹیگ، یوٹیوب کلپس اور واٹس ایپ گروپس تک پہنچ جاتا ہے۔ وہاں اس لفظ کی نئی نئی تشریحات پیدا ہوتی ہیں۔ کوئی اسے حکومت کے حق میں استعمال کرتا ہے، کوئی طنز کے طور پر، کوئی مزاح کے لئے اور کوئی سیاسی مزاحمت کے نشان کے طور پر۔
یہی وجہ ہے کہ سیاسی زبان اب صرف رہنماؤں کے اختیار میں نہیں رہی۔ سوشل میڈیا نے الفاظ کی ملکیت عوام کے ہاتھ میں دے دی ہے۔
حکومت کا سوال بھی اہم ہے
اس بحث کا دوسرا رخ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہندوستان نے کئی دہائیوں تک نکسل اور ماؤ نواز تشدد کا سامنا کیا ہے۔ سیکورٹی فورسز، ریاستی اداروں اور حکومتوں نے اس چیلنج کے خلاف طویل کارروائیاں کی ہیں۔ اگر کوئی فرد یا گروہ واقعی تشدد پر مبنی ماؤ نواز نظریات، ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد یا دہشت اور تشدد کو سیاسی ہتھیار کے طور پر جائز قرار دیتا ہے، تو اس نظریے پر سوال اٹھانا اور اس کی مخالفت کرنا جمہوری بحث کا حصہ ہے۔
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس کی شناخت کا معیار کیا ہوگا؟
کیا محض حکومت سے اختلاف کافی ہے؟
کیا کسی پالیسی پر سخت تنقید کرنا اس زمرے میں آنے کے لئے کافی ہے؟
کیا صحافت، انسانی حقوق، سماجی تحریک یا عدالتی جدوجہد کو بھی سیاسی لیبلنگ کے ذریعے مشکوک بنایا جا سکتا ہے؟
اگر ان سوالات کے جواب واضح نہیں ہوں گے تو ایک اصطلاح، جو کسی مخصوص نظریاتی خطرے کی نشاندہی کے لئے استعمال کی گئی ہو، رفتہ رفتہ اتنی وسیع ہو سکتی ہے کہ اس کا اپنا سیاسی مفہوم کمزور پڑ جائے۔
لال قلعہ کی زبان اور اس کی ذمہ داری
اپوزیشن کا یہ اعتراض بھی قابلِ غور ہے کہ لال قلعہ سے ادا ہونے والے الفاظ عام سیاسی جلسوں کے الفاظ نہیں ہوتے۔ یومِ آزادی کا خطاب ایک قومی موقع ہوتا ہے اور اس کے الفاظ کی بازگشت پورے ملک میں سنائی دیتی ہے۔
اسی لئے سیاسی زبان کے انتخاب میں ذمہ داری اور احتیاط کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
لفظوں کی طاقت صرف ان کے لغوی معنی میں نہیں بلکہ ان کے ممکنہ نتائج میں بھی ہوتی ہے۔ ایک سیاسی جلسے میں استعمال ہونے والا جملہ اگلے دن کی سرخی بن سکتا ہے، مگر لال قلعہ سے ادا کیا گیا ایک لفظ طویل المدت سیاسی بیانیے کا حصہ بن سکتا ہے۔
یہاں ہندوستانی دانش کا ایک قدیم اصول یاد آتا ہے: زبان انسان کے اختیار میں ہوتی ہے، مگر زبان سے نکل جانے والا لفظ پھر انسان کے اختیار میں نہیں رہتا۔
سیاست کی نئی حقیقت: فریم کون بنائے گا؟
اس پورے تنازع کا سب سے دلچسپ پہلو ’’سیاسی فریمنگ‘‘ ہے۔ سیاست میں اکثر وہی کامیاب ہوتا ہے جو بحث کا موضوع طے کر دے۔
اگر حکومت کسی اصطلاح کے ذریعے یہ فریم قائم کرتی ہے کہ ملک کا اصل نظریاتی خطرہ صرف بندوق اٹھانے والے عناصر نہیں بلکہ ان کے فکری حامی بھی ہیں، تو اپوزیشن کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں: یا تو وہ اس فریم کو قبول کرے اور اپنے دفاع میں دلیل دے، یا پھر اسی اصطلاح کو الٹ کر حکومت کے خلاف استعمال کرے۔
جب اپوزیشن کسی سیاسی الزام کو طنز یا فخر کے ساتھ واپس کرتی ہے تو وہ دراصل اصل فریم کو چیلنج کر رہی ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج ہندوستانی سیاست میں الفاظ صرف زبان کا حصہ نہیں رہے، بلکہ سیاسی حکمت عملی کا بنیادی ہتھیار بن چکے ہیں۔
اختلاف اور دشمنی میں فرق ضروری ہے
جمہوریت کی اصل طاقت اس بات میں ہے کہ وہ اختلاف کو برداشت کرتی ہے۔ حکومت کی مخالفت ریاست کی مخالفت نہیں ہوتی، اور ریاست کی مخالفت لازماً تشدد کی حمایت بھی نہیں ہوتی۔
اسی طرح ہر اختلاف رائے کو ’’ملک دشمنی‘‘، ’’انتہا پسندی‘‘ یا ’’نکسل ذہنیت‘‘ کے کسی وسیع خانے میں ڈال دینا سیاسی طور پر آسان ضرور ہو سکتا ہے، مگر جمہوری طور پر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب یہ بھی درست ہے کہ آزادیِ اظہار کو تشدد کی نظریاتی یا عملی حمایت کے لئے ڈھال نہیں بنایا جا سکتا۔
لہٰذا اصل چیلنج دونوں انتہاؤں سے بچنا ہے۔
اختلاف کو جرم نہ بنایا جائے، لیکن تشدد کو اختلاف کے نام پر جائز بھی قرار نہ دیا جائے۔
یہی جمہوری توازن اس بحث کی اصل ضرورت ہے۔
ایک لفظ، لاکھوں سمتیں
لال قلعہ سے شروع ہونے والا ایک لفظ اب سیاسی جلسوں، پریس کانفرنسوں، ٹی وی مباحثوں اور سوشل میڈیا کے میدان میں اپنی الگ الگ زندگیاں گزار رہا ہے۔ کسی کے لئے یہ قومی سلامتی سے متعلق ایک سنجیدہ نظریاتی انتباہ ہے، کسی کے لئے سیاسی لیبلنگ، اور کسی کے لئے حکومت کے خلاف طنزیہ ہتھیار۔
شاید یہی جدید سیاست کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ اب کوئی سیاسی لفظ صرف ایک معنی میں زندہ نہیں رہتا۔
وہ بولا جاتا ہے۔
پھر دہرایا جاتا ہے۔
پھر اس کی تشریح ہوتی ہے۔
پھر اسے کاٹا چھانٹا جاتا ہے۔
پھر وہ میم بنتا ہے۔
اور بعض اوقات وہی لفظ ایک سیاسی تحریک یا شناخت کا عنوان بن جاتا ہے۔
نتیجہ: زبان کی سیاست یا سیاست کی زبان؟
’’اربن نکسل‘‘ سے ’’اربن نکسل پارٹی‘‘ تک کے اس سفر نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ اصل جنگ شاید صرف نکسل ازم یا اپوزیشن کے درمیان نہیں، بلکہ سیاسی زبان کے اختیار کی جنگ بھی ہے۔
حکومت کے لئے سبق یہ ہے کہ سیاسی اصطلاحات کو اتنا وسیع نہ بنایا جائے کہ ہر ناقد اس کے دائرے میں آ جائے۔ اور اپوزیشن کے لئے سبق یہ ہے کہ قومی سلامتی جیسے حساس موضوعات کو محض سیاسی طنز کی نذر کرنے سے بھی گریز ضروری ہے۔
آخرکار جمہوریت کی طاقت یہی ہے کہ وہ سوال کرنے والے کو دشمن اور اختلاف رکھنے والے کو باغی قرار دینے سے پہلے دلیل کا راستہ اختیار کرے۔
سیاست میں بندوق سے چلنے والی گولی شاید ایک سمت میں جاتی ہے، مگر زبان سے نکلنے والا لفظ لاکھوں سمتوں میں سفر کرتا ہے۔
اور سوشل میڈیا کے اس دور میں ایک لفظ صرف سنا نہیں جاتا
وہ شیئر ہوتا ہے، وائرل ہوتا ہے، میم بنتا ہے، سیاسی ہتھیار بنتا ہے، اور بعض اوقات اقتدار کے سامنے ایک آئینہ بھی رکھ دیتا ہے۔
اسی لئے سیاست میں الفاظ کا انتخاب محض بیان بازی نہیں، بلکہ ذمہ داری بھی ہے۔ کیونکہ بعض اوقات ایک لفظ واقعی سو سوال پیدا کر دیتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں